سہارنپور(احمد رضا): جگہ جگہ ہندو مسلم کارڈ کھیل کر پچھلے دس سالوں میں بھاجپا ہندو مسلم کو تقسیم تو نہی کر پائی ہاں یہ نفرت کا کھیل کھیل کر بھاجپا قیادت آج خد ووٹرز کی نفرت کا شکار بن کر رہ گئی ہے کل سہارنپور میں پرینکا گاندھی کے روڈ شو میں تین لاکھ سے زائد افراد کی شمولیت نے ملک بھر کے ووٹران کو بدلاؤ کا پیغام دے دیا ہے صبح آٹھ بجے سے شام تین بجے تک سہارنپور کی چاروں سڑکیں انڈیا اتحاد کے ووٹران سے جام تھیں جدھر بھی نظر دوڑائیں مجمع ہی مجمع نظر آرہا تھا دہلی سے کوریج کے لئے آئے درجن بھر الیکٹرانک میڈیا کے رپورٹر بھاری بھرکم بھیڑ دیکھ کر حیرت زدہ نظر آئے ووٹرز کا اور پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ مقابلہ اقتدار کے شاھوں اور سچ کی راہ پر چل کر اپنے ڈیڑھ ارب عوام کے لئے تحفظ، روزی اور انصاف مانگ رہے گاندھی وادی افراد کے درمیان ہے۔ جیت ہمیشہ سچ اور حق کی ہوئی ہے، باطل ازل سے رسوا ہوتا آیا ہے آج بھی رسوائی باطل کا مقدر بن چکی ہے!
اترپردیش کی علمی، ادبی، ثقافتی، رفاہی اورسماجی خدمات انجام دینے والی اہم ترین تنظیم ارم ایجوکیشنل، کلچرل، اینڈ سوشل ویلفئیر سوسائٹی سیتاپور کے نمائندوں نے لوک سبھا انتخابات کے موقع پر مغربی اترپردیش کی سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیا اور یہاں کے پہلے مرحلے میں لوک سبھا کی آٹھ لوک سبھا سیٹ کے بارے میں عوام الناس کی رائے لی گئی، اس کے بعد دانشوروں کی جو زمینی رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے مطابق مغربی اترپردیش کی آٹھ لوک سبھا سیٹ میں سے چھ سیٹ پر کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے اُمیدواروں کی کامیابی نظر آرہی ہے اور ان چھ سیٹ پر کانگریس اتحاد (انڈیا گٹھ بندھن) فاتح دیکھ رہا ہے، جس میں سہارنپور میں عمران مسعود، کیرانہ میں اقراء حسن کے ساتھ ساتھ بجنور، نگینہ، مرادآباد، مظفرنگر کی سبھی خاص نشستوں پر کانگریس اتحاد واضح اکثریت حاصل کرتا نظر آ رہا ہے، جبکہ رامپور اور پیلی بھیت میں سہ رخی مقابلہ کے آثار ہیں!
سوسائٹی نمائندوں کی سروے رپورٹ کے مطابق سہارنپور میں برادریوں کے حساب سے مسلم پچھڑی برادریوں اور دلت برادری کے کل(ہندو مسلم سبھی کو ملا کر) ووٹوں کی مجموعی تعداد تقریباً پونے سات لاکھ کے قریب ہے اس میں دو لاکھ بی جے پی مخالف ووٹوں کو ضم کرلیا جائے تو یہ تعداد تقریباً پونے نو لاکھ ہو جاتی ہے اس لیے یہاں سہارنپور میں کانگریس اتحاد واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی کی گامزن ہوتا دکھ رہا ہے، کیونکہ پچھلے انتخابات میں بی ایس پی نے فضل الرحمان علیگ جیسی قابلِ قدر اور ایک علمی شخصیت کو میدان میں اتارا تھا اور اس بار دیوبند کے معاویہ پر قسمت آزمائی کر رہی ہے جہاں مسلم ووٹوں میں بی جے پی کی بی ٹیم مان کر مسلم ووٹوں کی تقسیم کا شبہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے، اس لئے سہارنپور میں اصل مقابلہ انڈیا اتحاد اور این ڈی اے اتحاد میں ہی دکھ رہا ہے، جس میں انڈیا اتحاد کامیابی کی طرف گامزن ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اور یہی صورتِ حال دیگر بقیہ پانچوں نشستوں کی ھے، کیونکہ یہاں ان نشستوں پر انڈیا اتحاد کی کامیابی میں چارعناصر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں (1) جینت چودھری کی بے عزتی اور بی جے پی کے ذریعے انہیں نظر انداز کرنے والی سرگرمیاں (2) بی ایس پی کی ووٹوں کی تقسیم اور بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کی تشہیر (3) بھاجپا مخالف لہر (4) ٹھاکروں کی شدید ناراضگی جیسے عناصر سونے پہ سہاگہ والا کردار ادا کر رھے ہیں، جبکہ بقیہ دو نشستوں رام پور اور پیلی بھیت میں سہ رخی مقابلہ کے آثار ہیں، یہاں ہندو ووٹرز کشمکش میں مبتلا ھے اور مسلم ووٹرز مضبوط حکمت عملی سے خالی نظر آرہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں انتخابی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ تو نتائج آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا!
