محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ حیرتی پیشانیاں
رام نومی کاجلوس ہرسال کی طرح اس سال بھی نکالاگیاتھا۔ پرامن طریقے سے جلوس اختتام کوپہنچاتو بہت ساری پیشانیوں پر بل پڑگئے۔ پیشانیاں سوچنے لگیں کہ کوئی دنگا فساد نہیں ہوا، آخر منصوبہ کیاہے ؟ کیا اس سال انتخابات ہونے کے سبب دنگا نہیں کیاگیاہے ؟ مگر دنگے تو انتخابات والے سال ہی خصوصیت کے ساتھ ہوتے ہیں؟
پیشانیوں پرحیرت کی لکیروں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ تفکر بھی پیشانیوں پر صاف صاف دکھائی دے رہاتھا۔
۲۔ طالبات کی خوشیاں
کے سیٹ کا مقابلہ جاتی امتحان دیاجارہاتھا۔ جس وقت مسلم طالبات سے ان کا برقعہ اتروایاگیاتو اس امتحانی کمرے کی غیرمسلم لڑکیوں کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ کیوں کہ انہیں پتہ تھاکہ اگرمسلم طالبات کے برقعہ اتارے جائیں گے تو وہ شرم کے مارے جوابات لکھ نہیں سکیں گی یا کم جوابات دے پائیں گی ۔ اس طرح ہمیں آگے بڑھنے کاموقع مل جائے گا لیکن ایک لڑکی سپنا تھی ، جس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ فریدہ جانتی تھی کہ سپنا کیوں رورہی ہے۔امتحان لکھتے ہوئے فریدہ کاخیال اپنابرقعہ اتارے جانے پر نہیں بلکہصرف سپنا کی طر ف تھا۔ وہ جلدی سے امتحان لکھ کر اس کے آنسو پونچھنا چاہتی تھی ۔
۳۔ کمر کس کی تلاش
رمضان کے بعددیکھاتو پیٹ کاسائز بڑھ چکاتھا۔اس نے اللہ کاشکر اداکیا اور 48انچ کمر کا پتلون دوکانوں میں تلاش کرنے لگا۔
۴۔ محنتی باپ
گرما کے سبب گرمی بہت تھی ۔جسم کے تمام مسام سے پسینہ نکل رہاتھا۔ اور وہ اسی حالت میں مسلسل پتھر مٹی اٹھائے جارہاتھاکہ اس کے دونوںبیٹوں کاداخلہ بالترتیب انجینئرنگ اور پی یوسی سال اول میں اس سال کرنا ضروری تھا ۔بیوی کے گہنے فروخت ہونے والے تھے لیکن وہ نہیں چاہتاتھاکہ گہنے فروخت ہوں۔ اسی لئے مسلسل محنت کئے جارہاتھا۔
۵۔ ستاؤ کہ ساتھ چھوڑے
مسلسل ادبی مضامین شائع کرکرکے اخبارات کاعملہ تھک چکاتھااور سینئر قلمکارسے نفرت پر اترآیاتھا۔ اسی لئے مضامین کی اشاعت کی رفتار کم ہوچکی تھی۔ اس کے قارئین سمجھ رہے تھے کہ شاید وہ کم کم لکھ رہاہے ۔ اسی طرح مضامین میں غلطیاں بھی عام ہورہی تھیں۔ اور یہ غلطیاں پیج سیٹ کرنے والے مہربان کی کارگزاریوں کے سبب تھیں۔
ریاست کا سینئر ترین قلمکار آہستگی سے اور جذباتی ہوئے بغیر سوچ رہاتھاکہ آیااب مجھے لکھنا بند کردینا چاہیے؟
