(کاٹھمانڈو نیپال/18/اپریل 2024ء): سماج وادی مسلم سنگھ نیپال کے رکن مولانا انوارالحق قاسمی نے” مدرسہ تجوید القرآن خیروا ضلع مشرقی چمپارن” کے حالیہ حیرت انگیز اعلان "داخلے کے لیے درخواستیں 16/سال کی عمر تک کے طلبہ سے قبول کی جائیں گی” پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقینا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس روئے زمین پر سب سے عظیم الشان کتاب "قرآن کریم” ہے اور اصول یہ ہے کہ جو چیز، جس قدر عظیم ہوتی ہے، اس کا حصول بھی اسی قدر عظیم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ تو قرآن کی عظمت اور حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم عام ہو، چاہے جس عمر میں بھی مسلمان ‘قرآن کریم کی تعلیم’ حاصل کرنا چاہے، بآسانی کرلے۔ جس کے لیے عمر کی کوئی قید اور تحدید نہیں ہونی چاہیےتھی؛ مگر افسوس کہ ‘مدرسہ تجوید القرآن خیروا’ کے اربابِ اختیار نے 16/سال کی عمر کی قید لگا کر مسلمانوں میں ‘قرآن کریم’ کی تعلیم کے تعلق سے ایک انتہائی مایوس کن پیغام دیا ہے۔
مولانا نے یہ بھی کہا کہ جب اللہ اوران کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ‘ قرآن مجید’ کی تعلیم کے حوالے سے عمر کی کوئی قید نہیں ہے، تو پھر ‘مدرسہ تجوید القرآن خیروا’ کے اربابِ حل وعقد کون ہوتے ہیں عمر کی قید لگانے والے۔ یقینا انھوں نے عمر کی قید لگا کر مسلمانوں کو سخت اذیت پہنچایا ہے۔
مولانا نے مزید یہ بھی کہا کہ مدرسہ تجوید القرآن خیروا کے ذمے داران کو چاہیے کہ وہ جلد اپنے اس حیرت انگیز فیصلے پر نظر ثانی کریں، اسی میں بھلائی اور بہتری ہے۔
