بیدر۔ 19؍اپریل (پریس نوٹ): بیدر کی جامع مسجد میں گذشتہ دِنوں عازمین حج کی تربیت کاپروگرام تھا۔ اس پروگرام کے دوران جس وقت وزیر حج رحیم خان اور بید رضلع انچارج وزیرایشور کھنڈرے اس تربیتی تقریب سے واپس ہورہے تھے تب چند برقعہ پوش خواتین نے جامع مسجد بیدر کے صحن میں اپنے ہاتھوں سے ضلع انچارج وزیر اور دیگر افراد کی شالپوشی اور گلپوشی کی ۔ اگر یہ شالپوشی اور گلپوشی کسی مرد کے ہاتھوں سے ہوتی تو مناسب تھالیکن چوں کہ برقعہ پوش خواتین نے یہ گلپوشی اور شالپوشی اپنے نسائی ہاتھوں سے کی ہے اس لئے مذکورہ خاتون(یاخواتین)اگر شادی شدہ ہیں تو ان کانکاح ٹوٹنے کاقوی امکان ہے۔ یہ باتیں سماجی کارکن جناب سید غالب ہاشمی نے کہیں۔ انھوں نے اپنے تازہ ترین بیان میں برقعہ پوش خواتین اور متعلقہ گھرانوں کے مردحضرات سے کہاہے کہ اس ضمن میں علمائے کرام سے وہ لوگ رجوع ہوں تو بہتر رہے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تجدید نکاح (دوبارہ نکاح) کی تجویز علماء پیش کریںیاکوئی اور بات بھی سامنے آسکتی ہے کہ اس طرح کاعمل نامحمود ہے، اس سے بچنا چاہیے۔

غالب ہاشمی نے زور دے کر کہاکہ غیرمسلم ہویامسلمان ہو، خواتین صرف محرم(شوہر ، باپ ، چچا، ماموں ، بیٹا، پوتا، نواسہ ، بھائی ، بھانجہ ، بھتیجہ وغیرہ) ہی کواپنے ہاتھ سے پھول اور شال پہنااور اڑھاسکتی ہیں۔ میری بات پر بھروسہ نہ ہوتو علمائے کرام سے پوچھاجاسکتاہے۔ اللہ سے دعاہے کہ انتخابات کے موقع پر ہویا اس سے ہٹ کر بیدر کے مسلمانوں کے حالات خراب نہ ہوں۔مسلمان مردوخواتین اور بچے بوڑھے سبھی اسلام پر چلتے رہیں۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے