ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی، بجنور

ہمارے بچے ہماری دولت ہیں ۔ ہماری جد وجہد کا مرکز و محور ہمارے بچے ہی ہیں ۔یہ نہ صرف ہمارا مستقبل ہیں بلکہ قوم اور ملک کا بھی مستقل ہیں ۔بچوں کی تربیت کرنا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے ۔ہماری ذرا سی بے توجہی کے سبب بچے کے اندر بری عادات پیدا ہوسکتی ہیں اور نہ صرف اس کا متقبل دائو ں پر لگ سکتا ہے بلکہ وہ سماج ،قوم اور ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔والدین ،سرپرستوںاور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ بچہ کی ہر حرکت پر نظر رکھیں اور اچھی عادات ڈلوائیں نیز بری عادات ترک کرائیں ۔
عادت کیا ہے؟ جب ہم کسی فطری خواہش کی تکمیل کے لیے کوئی کام خاص طریقہ سے کرتے ہیں اور اس میں ہمیں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا خوشی و مسرت ملتی ہے تو ہم پہلے کے مقابلہ میں وہ کام دوبارہ کر تے ہیںاور پھر ہم اس کام کو بار بار کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ہمارے اندر اس کام کو کرنے کاایک زبر دست میلان اور داعیہ پیدا ہو جاتا ہے۔اسی داعیہ کا نام عادت ہے۔
عادت بذات خود کوئی فطری چیز نہیں ہے البتہ اس کی اساس کسی نہ کسی فطری خواہش پر ہوتی ہے اس لیے عادت مستحکم ہو جانے کے بعد بہت مشکل سے چھوٹتی ہے۔فطری خواہش کی طرح اس میں بھی بڑی کشش ہوتی ہے اس لیے عادت کو بھی عام طور سے فطرت ثانیہ کہا گیا ہے۔عادت چونکہ فطری نہیں بلکہ کسبی ہوتی ہے۔ اس لیے ہر قسم کی عادت (یعنی اچھی یابری)ڈالی جاسکتی ہے یا ڈلوائی جاسکتی ہے اوراسی طرح چھوڑی جاسکتی ہے یا چھڑوائی بھی جاسکتی ہے۔عادت ڈالنے یا ڈلوانے کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے خاص طور پرپندرہ سال کی عمر تک۔بڑے ہونے پر عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں اس لیے ان کو چھوڑنے میں دقت آتی ہے ۔
پسندیدہ عادات ڈلوانے کی تدابیر:
بچہ ایک سادہ کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ جس پر والدین یا اساتذہ اور گرد و پیش کا ماحول جو کچھ نقش کرتا ہے وہ نقش ہو جاتا ہے۔بچہ بہت کچھ دیکھ کر سیکھتا ہے ۔ اس کے سامنے اس کے والدین اور گھر کے دوسرے افراد ایک نمونہ کے طور پر ہوتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ بچہ کو آسان اور عام فہم زبان میں اچھی عادتوں کی افادیت محسو س کرائی جائے۔ انبیاء کرام ، صحابۂ کرام اور بزرگانِ دین کے واقعات سنا کر بچوں میں یہ داعیہ پیدا کیا جائے کہ وہ بھی اچھی عادتیں اپنائیں۔دلنشیں انداز میں بچے کے ذہن میں اچھی عادتوں کے اختیار کرنے کی آمادگی بڑھا کر ان سے یہ عہد لیا جائے کہ وہ ان عادتوں کو اپنائیں گے یہ عہد اگر اجتماعی ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ پوری توجہ سے مسلسل مشق کرائی جائے البتہ آمادگی، مسرت و شادمانی کا لحاظ رہے۔
اچھی عادتوں کے لیے محض خشک وعظ و نصیحت سے کام نہ لیا جائے بلکہ دلچسپ مشاغل اور کھیل کود کو بھی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اچھی عادتوں کے اختیار پر بچوں کی تحسین اور حوصلہ افزائی کی جائے خصوصاً تقسیم انعامات کی تقریب کے موقع پر طلبہ کو انعام دیے جائیں ۔
عادت ڈلوانے کے درمیان خلاف ورزی کا بالکل موقع نہ دیا جائے۔ ماحول کو خلاف ورزی سے پاک صاف رکھا جائے۔مختلف انداز سے یہ بات واضح کی جائے کہ اچھی عادتوں کے لیے نہ کوئی چھٹی کادن ہوتا ہے اور نہ کوئی خالی گھنٹہ۔
عادت ڈلوانے کا ایسا منصوبہ تیار کیا جائے کہ ایک عادت کو دوسری عادت سے تقویت ملے مثلاً نماز فجر کے وضو سے تلاوت کرنا۔ وضو کرتے وقت دانت اور ناک صاف کرنا۔ کبھی شعوری طور پر اور کبھی بغیر احساس دلائے طلبہ پر نظر رکھی جائے کہ وہ اچھی عادتوں کا پابندی سے اہتمام کر رہے ہیں یا نہیں۔ طلبہ کے سامنے اچھی عادتوں کا بر سر عام مظاہرہ کیا جائے اور اس کے لیے اجتماعی پروگرام بھی بنائے جائیں۔ اساتذہ اورمربی حضرات خود ہی اپنی عادتوں کا مظاہرہ کریں۔
بچوں کے اخلاق و عادات کی رپورٹ بچوں کے سر پرستوں کو بھیجی جائے اور سر پرستوں سے بھی رپورٹ منگوائیں یہ رپورٹ ہفتہ وار بھی ہو سکتی ہے اور ماہنامہ بھی۔
یہ بات ذہن میں رکھئے کہ اگر بچوں کو اچھی عادتوں کا خوگر نہ بنایا گیا تویہ بات یقینی ہے کہ بچے اپنے تجربے یا ماحول کے اثر سے یا دوسروں کی تقلید کر کے کچھ نہ کچھ عادتیں ڈال ہی لیں گے۔ وہ عادتیں ناپسندیدہ اور منفی بھی ہو سکتی ہیں۔جیسے کسی برتن میں اگر پانی نہیں ہوگا تو اس میں ہوا داخل ہو جائے گی۔وہ ہوا چاہے صاف ہو یا آلودہ۔
بچوں کو ہمیں درج ذیل اچھی عادتوں کا شروع سے خوگر بنانا چاہئے۔
(۱) سلام کرنا،سلام میں پہل کرنا۔(۲) ملاقات اور گفتگو کا طریقہ۔(۳) کھانے پینے کا سلیقہ۔(۴) سونے جاگنے کے آداب۔(۵) نشست و برخاست کا طریقہ۔(۶) صفائی ستھرائی کا اہتمام (بدن، کپڑا، رہائش وغیرہ کی صفائی، ناخن تراشنا، بال سنوارنا، تعلیمی سامان اورکلاس کی صفائی، بستر لباس اور سامان کی ترتیب )(۷) وقت کی پابندی، خاص طور سے، درجہ میںحاضری، جماعت سے نمازپڑھنا، کھاناوقت پر کھانا، ہوم ورک کا وقت متعین کرنا ، سونے جاگنے کے اوقات، اجتماعات وغیرہ میں وقت پر پہنچنا وغیرہ(۸) سچ بولنا۔(۹) امانت داری۔(۱۰) وعدہ پورا کرنا۔(۱۱) خدمتِ خلق۔(۱۲) باہمی تعاون۔(۱۳) شکر یہ ادا کرنا۔(۱۴) ہر کام بسم اللہ کہہ کر شروع کرنا۔(۱۵) اجازت لے کر آنا جانا۔(۱۶) آداب و القاب کا لحاظ رکھنا ۔(۱۷) مفوضہ فرائض کو بحسن و خوبی انجام دینا۔
ناپسندیدہ عادتیں ترک کرانے کی تدابیر:
.٭ اگر خدا نخواستہ کسی بچے میں کوئی ناپسندیدہ عادت یا برُی لت پڑ جائے تویہ ایک بڑا المیہ ہے اس کی طرف فوری توجہ دینی چاہئے ادنیٰ ساتساہل برُے نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
بچہ کی کسی بری عادت کو چھڑانے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نہایت باریک بینی سے ان عوامل ، محرکات اوراسباب کا جائزہ لیا جائے جو بری عادت کا موجب بنے ہیں اور حکمت عملی سے انہیں دور کرنے کی فکر اور کوشش کی جائے ۔ اگر صحیح عوامل و محرکات کا تجزیہ کئے بغیر اصلاح کی کوشش کی جائے گی تو یہ کوشش نہ صرف رائیگاں ثابت ہو سکتی ہے بلکہ بچہ پر اس کے مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
اگر بچہ میں ایک کے بجائے کئی بری عادتیں نمایاں ہونے لگیں تو ان تمام خرابیوں کو نوٹ کر لیجئے۔ تمام خرابیوں کو یکلخت ختم کرانے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ ترتیب و تدریج کا پاس ولحاظ رکھئے۔بچوں کو آسان اور دلنشیں انداز میں بری عادتوں کے عواقب و نتائج سے آگاہ کیجئے اور واضح کیجئے کہ یہ عادتیں اس کے مستقبل کو تباہ کر سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قصے کہانیوں، افسانوں اور ڈراموں کا سہارا ضرور لیجئے۔جب بچہ بری عادتوں کے ترک کرنے پر ذہنی طور پر آمادہ ہو جائے تو اسے ترک کرنے کا قابل عمل طریقہ اور آسان ترکیب سمجھا ئیے اگر وہ اپنی خوشی سے خلاف ورزی پر جرمانہ یا سزا مقررکرلے تو زیادہ بہتر ہے۔بری عادت کو چھڑانے کے لیے سختی اور تشدد کا سہارا ہر گز نہ لیجئے بلکہ جذب دروں اور سوزِ دل سے کام لیجئے کیونکہ جبر وتشدد سے دوسری بری عادتیںبھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثلاً چوری کے ساتھ جھوٹ اور فریب دہی۔بری عادتیں ترک کرانے میں اجتماعی تدابیر کے بجائے انفرادی توجہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔بچوں کے جذبات و احساسات اور نفسیات کا ضرور پاس و لحاظ رکھئے۔
اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے میں بری عادتیں والدین کی باہمی رنجش اور ازدواجی تعلقات کی نا استواری کی بنیاد پر پیدا ہوئی ہیں تو گھر کے ماحول کی اصلاح کر کے باہمی رنجش دور کرائیے اور ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بنائیے ۔ بعض بچوں میں بری عادتیں بری صحبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔بعض حساس شریف الطبع والدین کے بچے بھی بری صحبت میں بگڑ جاتے ہیں۔ایسے حالات میں حکمت عملی سے بچوں کے ہم جولیوں کو بدلنے کی کوشش کیجئے ۔انہیں اچھے اور نیک ساتھیوں کے ساتھ رہنے سہنے، کھیلنے کودنے ، لکھنے پڑھنے اور کھانے پینے کے مواقع فراہم کیجئے۔ بری صحبت سے بچانے کے لیے بچوں کو تنہائی کی زندگی گزارنے پر ہر گز آمادہ نہ کیجئے۔ تنہائی اور گوشہ نشینی کی زندگی بھی بچوں کے اندر بہت سے اخلاقی و ذہنی امراض کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے انہیں صالح ماحول اور پاکیزہ فضا میں پروان چڑھنے کا موقع دیجئے۔ اگر مناسب سمجھیں تو مکان یا سکونت تبدیل کر کے ایسے ماحول میں بچہ کو منتقل کریں جہاں بری عادت اپنائے رہنے میں دقت اور پریشانی محسوس ہو اور اسے چھوڑ دینے میں مسرت اور سکون کا احساس ہو۔
بچہ عموماً اپنے بڑوں کے اقوال وافعال کی نقل بھی کرتا ہے اور تقلید بھی۔ اگر بچے میں کوئی بری عادت آپ کے کردار کی وجہ سے پڑ رہی ہے تو اپنی اصلاح کی طرف فوراً توجہ کیجئے۔ بچہ میں کوئی بری عادت اس وقت بھی پڑ سکتی ہے جب بچے کے جبلی تقاضوں کی تکمیل نہ کی جائے اور اس کی فطری خواہشوں کو جائز طور پر پورا نہ کیا جائے اگر ایسا ہو تو اپنے رویہ کو فوراً تبدیل کر دیجئے اور بچے کے فطری تقاضوں کا بھر پور اہتمام شروع کر دیجئے۔
بے جالا ڈ پیار سے بھی بچوں میں بہت سی خرابیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ کوشش کیجئے کہ آپ کا لاڈ پیار حد اعتدال سے متجاوز نہ ہو سکے کیونکہ سچے لاڈ پیارکا تقاضا یہ ہے کہ بچے کو بگڑ نے نہ دیا جائے۔اسی طرح بعض بچوں میں بہت سی خرابیاں اس لیے جڑ پکڑ جاتی ہیں کہ وہ ماں باپ اور اساتذہ کی جائز شفقت و محبت سے محروم رہ جاتے ہیں یہ احساس محرومیت ان کے اندر بہت سی ذہنی و اخلاقی بیماریوں کا موجب بن جاتا ہے۔ ایسی شکل میں آپ محرومی کی تلافی کیجئے اسے بھر پور اور غیر مشروط محبت دیجئے۔ وہ آپ کی محبت کا بھوکا ہے ۔یہ پیار اور محبت بہت سی خرابیوں کا کامیاب علاج ہے۔
بیکاری بھی بچوں میں بہت سی بری عادتوں کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے چھٹیوں اور خالی اوقات کے لیے صحت پرور اور دلچسپ مشاغل اور اجتماعی سرگرمیوں کا اہتمام کیجئے (کھیل کو د، پکنک ، بیت بازی ،پسندیدہ مشغلہ ، ہفتہ واری اجتماعات اور کلچرل پروگرام وغیرہ)
بچے میں خود تجربہ کرنے کا فطری داعیہ موجود ہوتا ہے۔ اس تجرباتی دور میں بچوں کو آزادانہ طور پر تجربات کرنے دیجئے۔ ان کی اس تجرباتی و تجزیاتی کوشش کواپنے معیار سے نہ جانچئے۔ یہ نہ بھولئے کہ آج آپ جس مقام پر پہنچے ہیں اس کے لیے آپ کو ایک طویل تجرباتی دور سے گزرنا پڑا ہے۔
اگر بچہ کے اندر کسی وجہ سے احسا س کمتری پیدا ہو جائے تو یہ احساس کمتری بہت سے نقائص کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس لیے اس بات پر نظر رکھئے کہ آپ کے کسی رو یہ یا جسمانی کمزوری کی وجہ سے بچہ احساس کمتری کا شکار تو نہیںہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو فوراً اپنے رویہ کی اصلاح کیجئے۔ بچہ کو بات بات پر چڑانے ، دوسروں کے سامنے تحقیر و تذلیل کرنے سے باز رہئے۔
اگر آپ کی کوشش سے بچہ کی ایک بری عادت چھوٹ جائے تو اس کا سہارا لے کر دوسری بری عادت کو چھڑانے میں مدد لیجئے اور اسے یہ بات باور کر ائیے کہ جب تم ایک بری عادت کو چھوڑ سکتے ہو تو دوسری بری عادت کو کیوںنہیں چھوڑ سکتے۔ جس حد تک آپ کو کامیابی ملتی رہے اس پر بچہ کو تحسین و شاباشی دے کرقوت بہم پہنچائیے اور اپنے اس سفر کو تسلسل سے جاری رکھئے۔بچوں میں بھی اعتماد و یقین پیدا کیجئے اور اپنے اندر بھی کہ کامیابی آخر کارآپ کے قدم چومے گی اس سلسلہ میں مایوسی و قنوطیت کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دیجئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے