بیدر۔ 22؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): بی جے پی کے پاس لوک سبھا انتخابات میں بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے،کوئی ایشونہیں ہے۔ اس لیے وہ ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر ریاست میں بے چینی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔جس کوکرناٹک کی عوام ناکام بنادیں گے۔ یہ بات ایم ایل سی اروندکمارارلی نے کہی ہے۔ انھوں نے آج ایک پریس نوٹ میں کہا ہے کہ نیہا ہیرے مٹھ کے (ایک مسلم نوجوان کی طرف سے )قتل کی ملک کے تمام طبقات نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ جب کہ قاتل کوگرفتار کرلیاگیاہے۔ جس شخص کا قتل ہوا ہے اسے انصاف دلایاجائے گا۔ قانون کے مطابق نیہاہیرے مٹھ اور اس کے مظلوم خاندان کی کانگریس حکومت مددکرے گی ۔اور کانگریس حکومت اپنی تمام گیارنٹیوں کوپورا کررہی ہے۔ آئندہ بھی وہ گیارنٹیوں پرعمل آوری ہوگی۔

موصوف اروندکمارارلی نے کہاکہ یہاں صرف نیہاہیرے مٹھ اکلوتی لڑکی نہیں ہے۔ اس سے پہلے رخسانہ نامی خاتون کا(ایک ہند وشخص نے ہماری ریاست میں) قتل کیاہے۔وہ قتل بھی قابل مذمت ہے۔رخسانہ کے قتل کولے کرمسلمانوں کااٹھ کھڑے ہونا اور سیاست کرنا اسی طرح درست نہ ہوگاجس طرح نیہاں ہیرے مٹھ پر بی جے پی سیاست کررہی ہے۔ انھوں نے بی جے پی کو مشورہ دیا کہ وہ گجرات کی طرف توجہ دے جہاں ہر روز 5 سے 6 ریپ اور قتل ہو رہے ہیں، میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی قتل کے عوامل کو جانتے ہوئے بھی سیاست کرنا اچھی بات نہیں ہے لہٰذا بی جے پی اس طرح کے قتل پر سیاست کرنا چھوڑ دے۔

کانگریس قائد اروندارلی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کو یقین ہے کہ وہ 200 سیٹیں بھی نہیں جیت سکے گی اس لئے قتل جیسے معاملات کو آگے بڑھا کر خوشامد کی سیاست کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے