بیدر۔ 24؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): بیدر ضلع سدبھاونا منچ کے کنوینر گروناتھ گڈے کی صدارت میں اراکین کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ حال ہی میں ہبلی کے بی وی بی کالج میں نیہا کے وحشیانہ قتل کی اراکین کی میٹنگ میں سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ اس طرح کے فعل کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ساتھ ہی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کچھ طاقتیں جرائم کو مذہب اور برادری سے جوڑ کر معاشرے میں مذہب کو بدنام کرنے کے مذموم فعل میں ملوث ہیں۔ جس کے ذریعہ وہ سماج میں دہشت پھیلانا چاہتی ہیںلہٰذا معاشرے کو متحد کرنے اور معاشرے میں خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔خوفِ خدا کا فقدان، اورموت کے بعدخدائی محاسبہ والی زندگی کا خوف نہ ہونا جرائم میں اضافے کا سبب بن رہاہے۔ یہ دوچیزیں سماج میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب میں عبدالقدیر، محمد نظام الدین، اوم پرکاش روٹے، رفیق احمد، محمد معظم، بابو راؤ ہونا، محمد مجتبیٰ، سنتوش جول داپکا، سید ابراہیم، محمد احتشام، سیدہ ام حبیبہ، توحید شندے، حرمین شریف موجود تھے جنہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔کنڑی زبان میں روانہ کی گئی پریس نوٹ یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ اس پریس نوٹ کامن وعن اردو ترجمہ مذکورہے۔

اس بات کا سبھی کو پتہ ہوگاکہ سدبھاؤنا منچ بیدر ضلع کے مسلم وغیرمسلم دانشوران کا ایک معتبرافراد پر مشتمل منچ ہے ۔ اور حیرت اس بات پر ہے کہ جس طالبہ کاقتل ہوا اوراس کے نام لے لے کر پوری ریاست کے حالات کو خراب کرنے کی بی جے پی سعی کررہی ہے، جس لڑکی کے والد سے وزیراعلیٰ سدرامیاکے معافی مانگنے کی اطلاع ہے ، اس مقتول لڑکی کانام تک پریس نوٹ میں پورا نہیں لکھاگیا۔ اس مظلوم ومقتول لڑکی کانام صرف نیہانہیں بلکہ نیہاہیرے مٹھ ہے۔ اس کو طالبہ بھی نہیں لکھاگیا جب کہ وہ ہبلی کے بی وی بی کالج کی ایم سی اے کی طالبہ بتائی جارہی ہے۔ صرف کالج میں قتل ہواکہنے سے بات نہیں بنتی۔ اتنی بات تو لکھنا ہی چاہیے تھاکہ کالج میں طالبہ کے مسلم طالب علم ساتھی فیاض نے اس کاچھراگھونپ کرقتل کردیاتھا۔

ایک اور بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں رخسانہ کے قتل سے متعلق کوئی بات نہ آنے پر تشویش ہے ۔ کیایہ سمجھاجائے کہ پردیپ نائک کے ذریعہ اس کی اپنی محبوبہ رخسانہ کے کئے گئے قتل سے یہ منچ واقف نہیں تھا؟جبکہ بیدر کے ایم ایل سی اروندکمارارلی نے دودن قبل نیہاہیرے مٹھ اور رخسانہ دونوں کے قتل کے واقعہ پر اپنے گہرے دکھ کااظہار کیاتھا۔ جس کی خبر اخبارات اور نیوزپورٹل میں شائع ہوچکی ہے بلکہ چینل پر بھی ایم ایل سی کااظہار خیال موجودہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے