جے این یو میں ’’اردو۔ازبیکی کہاوتوں کا تقابلی مطالعہ‘‘ پر توسیعی لیکچر کا اہتمام
بارہ بنکی/(نامہ نگار): ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ’’ اردو۔ازبیکی کہاوتوں کا تقابلی مطالعہ ‘‘پر توسیعی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ مہمان مقرر کی  حیثیت سے محترمہ محرم میر زائوا، شعبۂ اردو تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی، ازبکستان  نے شرکت کی۔ آن لائن لیکچر میں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر نصیب علی ، استاد، ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جے این یو نے مہمان مقرر اور دیگر اساتذہ کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر نصیب علی نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ اردو اور ازبیکی زبان کا گہرارشتہ ہے۔ ان دونوں زبانوں میں مشترک الفاظ اور کہاوتیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں زبانیں لسانی سطح پر بہت مماثل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے شعبہ کی طرف سے آن لائن  اس اہم لیکچر کا اہتمام کیا۔ میں تمام شرکااور مہمانان  کا شعبہ کی طرف سے استقبال کرتا ہوں۔  مہمان مقرر کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر محیا عبد الرحمانوا ، شعبۂ اردو تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی، تاشقند نے کہاکہ استانی محترمہ محرم زائوا، ہمارے شعبے میں ایک طویل عرصے سے اردو زبان کی تعلیم و تدریس انجام دے رہی ہیں۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم اس اہم خطاب میں شریک ہیں۔
مہمان مقرر محترمہ محرم میر زائوا نے اپنے خصوصی خطاب میں اردو اور ازبیکی زبان کے باہمی اشتراک اور تعاون پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی فصاحت و بلاغت ، اردو کی ہمہ گیریت، اردو اور ازبک میں مماثلت، منطقی استدلال ، مشترکہ کلچر ، تہذیبی، ثقافتی اور سماجی سروکار قدر مشترک ہیں ۔ موصوفہ نے متعدد کہاوتوں اور محاروں کا ذکر کیا ، مثلاً ’’انسان اپنے صحبت سے پہچانا جاتا ہے، سچ کڑوا ہوتا ہے، سچا دوست وہی ہے جو بھیڑ میں کام آوے، گھر کی مرغی دال برابر، ایک ہاتھ سے  تالی نہیں بجتی، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، نیکی کر دریا میں ڈال، آج کا کام کل پر نہ چھوڑو‘‘وغیرہ، ان مثالوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے  کہ اردو اور ازبیکی میں کس قدر مشترک کہاوتیں اور محاوریں موجود ہیں ۔  نئی نسل کو اس جانب کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کی زبانیں اور تہذیبی قدریں دنیا کے سامنے آسکے۔
خصوصی خطاب کے بعد ڈاکٹر نصیب علی اور ڈاکٹر مخلصہ شاہ رحیمدوا، صدر شعبۂ اردو ، تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی، ازبکستان نے تاثرات کے ساتھ شعبوں کی طرف سے  اساتذہ، ریسرچ اسکالرس ، طلبا اور طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر محمد رکن الدین، شعبہ اردو، ستیہ وتی کالج، یونیورسٹی آف دہلی نے پروگرام کی نظامت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے