ابو احمد مہراج گنج
بھارت میں لوک سبھا کا الیکش اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور اس الیکشن میں برسر اقتدار سیاسی پارٹی کے سپریم لیڈر نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی ساری حدیں عبور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔اس الیکشن میں بات منگل سوتر سے لیکر بھینس اور بکری سے ہوتے ہوئے مرغا اور مغل تک ہی نہیں جینٹل مینوں کے کھیل کرکٹ تک پہنچ گئی ہے ۔
بھارت میں کرکٹ کے سب سے بڑے فیسٹیول یعنی آئی پی ایل کا کاروبار چل رہاہے۔تو دوسری طرف سیاست دانوں کے درمیان بھی میچ چل رہا ہے۔ اچانک سے مجھے خیال آیا کہ کرکٹ اور سیاست میں کچھ اقداریں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں ۔اسی لئے سپریم لیڈر کرکٹ کے اقداروں کو سیاست میں اور سیاست کے اقداروں کو کرکٹ میں ایمپلی مینٹ کرنے کی ٹھان لئے ہیں ۔
کرکٹ میں دو فیلڈ ایمپائر ہوتے ہیں اور ایک تھرڈ امپائر ہوتا ہے اور ان سب سے اوپر میچ ریفری ہوتا ہے ۔ساتھ میں ایک ٹیم بیٹنگ کرتی ہے اور دوسری فیلڈنگ کرتی ہے ۔یہی سب کچھ بھارت کے سیاسی فیلڈ میں بھی ہوتا ہے ۔
چیف الیکشن کمیشنر میچ ریفری کی حیثیت رکھتا ہے اور بقیہ الیکشن کمیشن کے کمشنر فیلڈ امپائر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اور سیاسی جماعتوں کے قائدین پلیئرز کی طرح سیاست کے میدان میں کھیل رہے ہوتے ہیں ۔
برسر اقتدار پارٹی کے پاس فی الحال ایک ایسا کھلاڑی ہے۔جو آل راؤنڈر ہے۔بالنگ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں اس کو درجہ کمال حاصل ہے۔جب وہ بیٹنگ کرتا ہے تو فیلڈ نگ کرنے والی ٹیم کے ساتھ ساتھ فلڈ امپائر تھرڈ امپائر اور میچ ریفری تک اس کے سامنے سر نگوں رہتے ہیں ۔پورا اسٹڈیم مطلب پورا سسٹم اس کے جے کارے میں مست رہتا ہے ۔اور جب وہ بولنگ کرنے آتا ہے تو کیا پوچھنا اتنی اسپیڈ سے پھینکتا ہے کہ وہ خود بال سے آگے نکل جاتا ہے ۔بولنگ کرتے ہوۓ یارکر،باونسر،اور بولڈ مارکر سامنے والی ٹیم کے پسینے چھڑا نے میں اسے مہارت حاصل ہے۔
کیا مجال کہ ابھی تک کسی امپائر نے اس کی کسی بال کو نو بال قرار دینے کی ہمت جٹائی ہو یا اسے آوٹ قرار دیا ہو۔ہاں اس کھلاڑی نے اپنے اثرورسوخ سے بہت سارے ایمپائر اور بہت سے میچ ریفری کا کیریئر ختم کردیا ہے۔اس کا من ہے ۔ جب چاہتا چھکے لگاتا ہے جب جس کو چاہتا ہے کھیل سے آوٹ کرا دیتا ہے۔
وہ اتنا مہان کھلاڑی ہے کہ اپنے اصولوں پر کھیل کے قوانین وضوابط وضع کرلیتا ہے اور میچ ریفری کے ساتھ ساتھ امپائر اس کے اس اقدام کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے نہیں تھکتے ۔
تھک تو آپ بھی گئے ہوں گے میری اوٹ پٹانگ باتیں پڑھ کر مگر صبر رکھیے اگر آپ کو کرکٹ کا کھیل سمجھ نہیں آتا تو بھی کوئی بات نہیں جو نہیں سمجھتا ہے وہی بھارتیہ کرکٹ بورڈ کا چیرمین منتخب ہوتا ہے اور جو کرکٹ کو سمجھتا ہے وہ کمنٹری گانے کے کام آتا ہے ۔
امید کہ آپ نے کچھ سمجھا ہوگا۔
