’’دور حاضر میں بہتر معیشت کے امکانات اور مواقع‘‘ کے موضع پر خطاب عام

لکھنؤ : بہتر معیشت کے سلسلہ میں اسلام کا یہ مستقل اصول ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں قید ہوکر نہ رہے بلکہ اس کا مستقل روٹیشن ہونا چاہیے۔ دولت عوام کے درمیان زیادہ گردش میں ہوگی تو ملک کی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کی یہ خامی ہے کہ وہ دولت کو چند افراد تک محدود کر دیتی ہے، جس کے سبب غریب مزید غریب ہوتا چلا جاتا ہے اور امیر امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد طارق صدیقی، سابق صدر اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، لکھنؤ نے کیا۔ جماعت اسلامی ہند، شہر لکھنؤ کی جانب سے جامع مسجد منشی پلیا، اندرانگر میں ’’دور حاضر میں بہتر معیشت کے امکانات اور مواقع‘‘ کے موضع پر خطاب عام ہوا۔
اس موقع پر اسلامی معیشت، سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلزم پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق صدیقی نے بتایا کہ اسلام نے جس معاشی نظام کو متعارف کرایا ہے وہ ایک انصاف پسند معاشی نظام ہے۔ جس سے جہاں ایک طرف ملک کی معیشت مستحکم ہوتی ہے وہیں دولت کا خزانہ چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہیں رہتا بلکہ وہ عوام کے درمیان یکساں طور پر سرکولیشن میں رہتا ہے جس سے سبھی کو روزگار اور معاش کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ اسلام نے دولت کے عادلانہ تقسیم کا نظم قائم کیا ہے۔
ڈاکٹر طارق صدیقی نے کہا کہ اسلام نے کھلے طور پر تجارت کو جائز قرار دیتے ہوئے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ اب جس معیشت میں سود کی آمیزش ہوگی وہاں کمزور طبقات کے لوگوں کا استحصا ل ہوگا۔ انہیں کیپٹل سے زیادہ سود کی رقم ادا کرنی پڑے گی۔ اس کے متبادل میں اسلام نے قرض حسن کا تصور پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اسلام نے اشتراک یعنیٰ پارٹنر شپ کی بہت سی اقسام کو متعارف کرایا ہے۔ اگر ہماری تجارت، ہمارا معاشی نظام اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں سے ہونے لگے تو خسارہ تو دور کی بات موجودہ معیشت کو استحکام ملے گا۔
اسلام نے بیت المال کا بھی نظم قائم کیا ہے، تاکہ جو لوگ بالکل معذور ہوں اور قرآن کے ذریعہ بتائی گئی مدات کے اندر آتے ہوں انہیں زکوٰۃ اور بیت المال کے ذریعہ مدد کی جائے اور ان کی مدد اس طریقہ سے کی جائے کہ آج زکوٰۃ لینے والا کل زکوٰۃ دینے والا بن جائے۔
طارق صدیقی نے مزید کہا کہ اسلام نے دولت کی عادلانہ تقسیم کا نظم قائم کیا ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ فضول خرچی اور بخل دونوں سے روکا گیا ہے۔ اسلام ہمیں تجارت کرنے یا ترقی کرنے سے نہیں روکتا ہے بس ہمیں اسلامی حدود کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے تجارت کرنا چاہیے۔ تجارت میں تسلسل، اندرونی و بیرونی عوامل، مقامی حالات، لوگوں کی مانگ اور ضروریات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔جو قومیں تجارت کے معاملہ میں ہم سے بہت آگے ہیں ان کے طریقہ کار سے ہمیں اپنے طریقۂ تجارت کا موازنہ کرنا چاہیے تاکہ اس بات کا علم ہو سکے کہ ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔
خطاب سے قبل انجینئر شاہد علی کا درس قرآن ہوا۔ نظامت کے فرائض ناظم شہر ڈاکٹر امجد سعید فلاحی نے ادا کئے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں مرد و خواتین موجود تھے۔

مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند، یوپی مشرق کے شعبۂ میڈیا کے ذریعہ جاری ایک پریس ریلیز میں دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے