ڈاکٹر شارب رضوی بارابنکی
ایک سنی سنائی کہانی عرض کرنا چاہتا ہوں ايک شخص ایک تیتر لیکر بادشاہِ وقت کے دربار میں پہنچا بادشاہ نے اُس بندے سے دریافت کیا: کیسے آنا ہوا؟ اُس نے سر جُھکا کے کہا: بادشاہ سلامت یہ تیتر مُجھے بہت عزیز ہے مگر مُجھے پیسے کی سخت ضرورت ہے اس لئے اسے بیچنا چاہتا ہوں۔
بادشاہِ وقت نے حیرت سے دیکھنے کے بعد پوچھا: اِس میں کون سی خوبی ہے جو میں اسے خریدوں؟ اُس نے کہا: بادشاہِ سلامت یہ میری روزی روٹی چلاتا ہے۔ بادشاہِ وقت نے کہا: کتنے پیسے کا دوگے؟ اُس نے کہا: ایک ہزار اشرفیاں لونگا سرکار. بادشاہ نے ایک ہزار اشرفیاں سنیں تو اور تجسّس پیدا ہوا، بادشاہ نے کہا: یہ تمہارا گھر کیسے چلاتا ہے؟ اُس نے کہا: بادشاہ سلامت میں ایک خاندانی شکاری ہوں، جب بھی شکار کے لئے جاتا ہوں تو اسے اپنے ہمراہ لے جاتا ہوں، جال بچھا کر اس کا پنجرا نیچے رکھ دیتا ہوں، یہ کئی طریقے کی آوازیں نکالتا ہے، یہ اپنی قوم والوں کے علاوہ دوسری قوموں کو بھی گمراہ کر دیتا ہے اور اپنے پاس بلا لیتا ہے، وہ سارے پرندے جب میرے جال میں پھنس جاتے ہیں تو میں اس کے سامنے چند دانے پھیک دیتا ہوں، یہ خوش ہو کر ناچنے لگتا ہے۔
بادشاہ نے ایک ہزار اشرفیاں دیں اور اُسے خرید لیا۔ بادشاہِ وقت نے بغیر دیر کئے اُسے فوراً ذبح کرنے کا حکم بھی صادر کر دیا تُو بیچنے والے شخص نے بادشاہ سے دریافت کیا کہ سرکار اسے اتنی جلدی ذبح کیوں کرائے دے رہے ہیں تو بادشاہِ وقت نے جواب دیا اور پوچھا کہ جو ذرا سے فائدے کے لئے اپنی قوم سے غدّاری کرے کیا اُس کا حشر ایسا نہیں ہونا چاہئے۔
