سہارنپور (احمد رضا): معروف سوشل تنظیم "پرچم” کے ذریعہ ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ کی کتاب” دبستان سہارنپور ” کا  اجراء کل بعد نماز مغرب یہاں ہوٹل راج محل کے خوبصورت ہال میں سیکڑوں شہریوں کی موجودگی میں عمل میں آیا معیاری  اجراء تقریب کی صدارت  کمشنری کی معروف شخصیت اور ملی قائد رکن لوک سبھا حاجی فضل الرحمن نے فرمائی  جبکہ نظامت کے فرائض جاوید خان سروہا نے  بہت ہی خوصورت انداز میں سلیقہ کے ساتھ انجام دئے تقریب کی شروعات آصف شمسی کی نعت پاک سے ہوئی اسکے بعد ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ کی کتاب "دبستان سہارنپور” کا اجراء دہلی سے تشریف لائے مہمانوں کے دست مبارک سے کیا گیا  افتتاحی تقریب کا خطبہ جناب جلال عمر سابق پرنسپل اسلامیہ نے کتاب کا احاطہ کرتے ہوئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ "دبستانِ سہارنپور ایک ادبی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے شعرو سخن ادب ،تنقید ،صحافت،آرٹ اور کلچر کی دنیا میں سہارنپور کی ممتاز شخصیتوں نے جو قابلِ قدر کارنامے انجام دۓ ہیں انکو ڈاکٹرقدسیہ انجم نے اس کتاب میں بڑے سلیقہ کے ساتھ یکجا کردیا ہے” سابق پرنسپل جلال عمر نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ادب نواز لوگ اسکو  پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں گے اور آنے والی نسلیں جب اسکتاب کو پڑھیں گی تو انکو اندازہ ہوگا سرزمینِ سہارنپور علمی اعتبار سے کتنی زرخیز رہی ہے ڈاکٹر قدسیہ انجم نے کہا کہ کتابِ کو لکھنےکا مقصد  سہارنپور کے ادبا شعرا  صحافیوں اور فنکاروں قلمکاروں کو ملک اور بیرون ممالک میں متعارف کرانا  ھےکتاب کو لکھنےمیں بہُت سی دشواریاں آئیں لیکن اس دشوار گزار کام کو مکمل کرنے میں  بہت سے قلمکاروں نے تعاون   کیا جن کی میں مشکور ہوں  خواتین کی چولہا چوکا اور چار دیواری کے علاوہ بھی ایک دنیا ھے وہ ہے تخلیق کی دنیا جسمیں اب خواتین آگے آکر دنیا سے اپنے ادب کے ذریعے معترف ہو رہی ہیں ،مہمان ذی وقار کے طور پر دہلی سے تشریف لائیں رخشندہ روحی مہندی ٹیچر جامعہ سینیئر سیکنڈری اسکول اور قلم کار نے کہا کہ عصرِ حاضر میں دبستانِ سہارنپور کتاب کی اہمیت ان معنوں میں ھے کہ اب  ادبی شخصیات کے علمی و ادبی کارناموں  کو قلم بند کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے اس دور نفسا نفسی میں ڈاکٹر قدسیہ  انجم نے سہارنپور کے ادبی افق پر چمکتے ستاروں کی کہکشاہ کو اپنی کتاب میں جمع کر لیا ہے اس طرح سے ایک دستاویز کی شکل میں انے والی نسلوں کی رہنمائی کرے گا دہلی سے تشریف لائیں مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر شمع افروز زیدی مدیرہ بیسویں صدی نئی دلی نے کہا کہ ڈاکٹر قدسیہ انجم نے دبستان سہارن پور میں سہارن پور شہر کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے ضلع سہارن پور کا تاریخی پس منظر اجاگر کرتے ہوئے یہاں کی علمی و ادبی اور معروف و غیر معروف گمنام شخصیتوں صحافیوں ادیبوں شاعروں نیز نسائی ادب کو اس خوبصورتی سے کتاب میں یکجا کیا ہے جس سے کتاب کی معنونیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے یقین ہے کہ اس کتاب کو ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا دہلی سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی جناب  حقانی القاسمی مدیر ایڈیٹر انداز بیان نئی دلی نے کہا  کہ ہر شہر کی اپنی ایک سائیکی اور ثقافت ہوتی ہے جس کا اثر وہاں کے تخلیقی اذہان پر بھی ہوتا ہے شہر کی سانسیں ہی تخلیقی شخصیت کی تشکیل و تعمیر کرتی ہیں سہارنپور سے ڈاکٹر قدسیہ انجم کا صرف مادی اور معاشی تعلق نہیں ہے بلکہ ما بعد اتبیاتی رشتہ ہے اس لیے دبستان سہارنپور کو انہوں نے اپنی تحقیق و تنقید کا مرکز و مہور بنایا یہ کتاب سہارن پور کی ادبی و ثقافتی سوانح اور علمی دستاویز ہے سہارن پور کی علمی ادبی شخصیات کے اثار و  کوائف کے تعلق سے ایک اہم عصری حوالہ جاتی کتاب ہے قدسیہ انجم نے اپنی مٹی کی محبت کا قرض بہت سلیقے سے اتارا ہے اس کے لیے وہ مبارکباد کی مستحق ہیں دہلی  سے تشریف لائے  مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالباری اسسٹنٹ ایڈیٹر اردو دنیا بچوں کی دنیا فکر و تحقیق نے کہا کہ سہارن پور روحانی علمی اور ادبی ادوار سے پوری دنیا میں منفرد شناخت رکھتا ہے یقینا سہارنپور اس لائق ہے کہ اسے ادبی دبستان قرار دیا جائے اردو کے جتنے اسالیب یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں کسی اور علاقے میں نہیں ملتے یہاں کی مٹی میں تنوع تخلیقیت رنگا رنگی اور روحانیت ہے ڈاکٹر قدسیہ انجم نے قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے سہارن پور کی علمی ادبی صحافتی اور ادبی شخصیات کی کہکشاں کو اس کتاب میں جمع کر دیا دہلی سے تشریف لائے  مہمانِ خصوصی راشٹر سہارا اردو کے سابق ایڈیٹر ڈاکٹر اسد رضا نے کہا کہ سہارن پور کی نامور شخصیات پر اس کتاب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اس میں نامور علمی ادبی صحافتی سماجی اور فنی شخصیات کا ذکر ہے شعر و سخن تنقید صحافت ارٹ اور کلچر کی دنیا میں سہارنپور کی ممتاز شخصیتوں نے جو قابل قدر کارنامے انجام دیے ہیں ان کو ڈاکٹر قدسیہ انجم انجم نے اس کتاب میں بڑے سلیقے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے انے والی نسلیں جب اس کتاب کو پڑھیں گی تو ان کو اندازہ ہوگا کہ سرزمین سہارنپور علمی اعتبار سے کتنا زرخیز رہا ہے علمی وراثت کی حفاظت انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس کام کو ڈاکٹر قدس انجم نے  بحسن وخوبی خوبی انجام دیا ہے واضح ہو کہ بہت پہلے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن دہلی نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں سے کہا تھا کہ علاقائی تاریخ نویسی اور تحقیق کو اولیت دی جائے تاکہ علاقائی ادب تہذیب وسخافت کی تاریخِ لکھنے میں مدد مل سکے یہ کتاب بھی سہارنپور کے علمی اور تاریخی   دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے صدارت کرتے ہوئے ایم پی سہارنپور جناب فضل الرحمن نے کہا کہ دبستانِ سہارنپور ڈاکٹر قدسیہ انجم کی یہ ایک ایسی علمی کاوش ہے جسے کامیابی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچانا اسان نہ تھا انہوں نے یہ وقت طلب کام کا بیڑا اٹھا کر اس کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہم ان کے اس تاریخی کارنامے پر ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں  نظامت کرتے ہوئے جاوید خان سروها نے کہا کہ سہارنپور شہر الم و ادب   کا گہوارہ ہے دبستانِ سہارنپور میں ان ادبی شخصیات کے تخلیقی کمالات سے قارئین  کو روشناس کرانے کی کوشش کی گئی ھے مہمانوں کو شال اوڑھا کر اور  گل پوشی کر کے عزت افزائی کی گئی نصرت پروین نے پرچم اردو انگن کی اردو کی خدمات کے سلسلے میں روشنی ڈالی شرکت کرنے والوں میں انوار احمد، طلعت سروہ ،ہارون صابر، دانش کمال ، احمد فراز، فیاض ندیم، اسلم محسن مشتقیم روشن ، خرم سلطان حاجی  الیاس انعم ،شفاعت عظیم  سلیم قریشی قاضی شوکت شاہین سمینہ روبی شان الہی فرزانہ شیخ یسرا صدیقی راشدہ فیضان عائشہ شہید  الیشا خان، خدیجہ شبانہ وغیرہ اس پروگرام میں موجود رہیں ڈاکٹر ایوب ڈاکٹر شاہد زبیری مطلوب قریشی دانش کمال آصف شمسی جمیل معنوی ،عروج امجد، نگہت خانم، کا خاص تعاون رھا پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر ایوب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے