عازمین حج، توحید خالص کا اعتقادی و عمل ثبوت دیں تاکہ ان کی یہ عبادت قبول ہو۔

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی

حج:اسلام کا عظیم الشان رکن ہے، جو ہر مستطیع مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، اسلام میں عبادات کی غایت اللہ تعالی کا تقوی ہے،اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے، عبادت وہی صحیح ہےجو تنہا اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے کی جائے، عبادت خواہ کوئی بھی ہو اس میں اللہ کے سوا کسی غیر اللہ کو شریک نہ کیا جائے نیز اس میں ریا اور شہرت کا شائبہ بھی نہ ہو،اللہ تعالی بہت غنی ہے،وہ انہیں عبادات کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہوں ، اگر اس کی عبادت میں شرک ہو تو اللہ تعالی اسے قبول نہیں کرے گا۔
حجاج کرام کو لازما چاہئے کہ وہ عقیدۂ توحید کو اچھی طرح سمجھیں اور عبادت میں کسی طور پر شرک اور ریا کا شائبہ نہ آنے دیں اور یہ تبھی ہو گا جب حج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کیا جائے۔
لوگوں کو چاہئے کہ اس اہم فریضہ کو ادا کرنے سے پہلے شرک جلی و خفی دونوں سے باز آئیں پھر اس عظیم عبادت کے مناسک کو ادا کریں، کیوں کہ شرک و بدعت دونوں اعمال کو برباد کرنے والے ہیں، کوئی بھی شخص اگر توحید سے نا اشنا ہے اور سنت سے دوری اپنانے والا ہے تو اس کا حج اللہ تعالی ضائع و برباد کر دے گا۔ کیوں کہ توحید کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے اور حج اظہارِ توحید کا شان دار عملی نمونہ ہے۔ لہذا!ہم سب کو چاہئے کہ توحیدِ خالص کو اپنائیں اور اس کے عملی تقاضے اور جملہ حقوق کو ادا کریں۔والله هو الموفق.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے