ڈاکٹر شارب رضوی بارہ بنکی 

اس کی لمبی لمبی پلکیں اور ہرنی جیسی آنکھیں میرے ذہن کو اپنا گرویدہ بنا لینے پر مصر تھیں، اُس کے ریشمی بال میرے چہرے کو راحت بخش رھے تھے، اُس کا ہلکا سا لمس بھی بدن میں سِہرن پیدا کئے دے رہا تھا، رات ڈھل کر بکھر رہی تھی اور تاروں کا غُبار آنکھوں سے اوجھل ہونے کے لئے سورج کے دامن کے پیچھے چھپنے کی کوششوں میں مصروف تھا، خوابیدہ چراغوں کے ایوان لڑکھڑا رہے تھے اور میں اِس سونچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ قِسمت کہیں تم سے جدا نہ کر دے، تم سے بِچھڑنے کا سونچ کر ہی دل حلق سے باہر آنے لگتا ہے، زبان سوکھنے لگتی ہے، اشک خشک ہونے لگتے ہیں، تصورات کِسی جھیل کے ساحل پر  میرے اور تمہارے لئے ایک چھوٹا سا گھروندا تیار کرنے کی ضد پر اڑ جانا اپنا مقدّر سمجھتا ہے مگر میں جانتا ہوں میں کیا ہُوں اور تم کیا ہو؟ مُجھے معلوم ہے کہ میں طوفان کا ایک جھونکا بھی برداشت کرنے کے لائق نہیں ہُوں، میں جانتا ہوں تمہیں پانے کی ہرس میری بنیادیں ہلانے کے لئے کافی ہے۔ مُجھے معلوم ہے میری ویران زِندگی میں راتوں کے اندھیرے میرے انتظار میں بیچین ہیں، وہ تو تمہارا تصوّر ہے جو آنکھوں کے دریچوں سے کبھی تمہیں دیکھ لیتا ہے تُو اِس میں جان پڑ جاتی ہے، سوکھے ہوئے درخت میں ہریالی کے بیج آجاتے ہیں، کبھی کبھی تو تمہیں آنکھوں ہی آنکھوں میں چوم لیتا ہوں، تمہارے نرم و نازک گالوں کو میرے ہونٹوں کی حدّت ضرور محسوس ہوتی ہوگی۔ اسے تو صِرف تم بتا سکتی ہو، میں جانتا ہوں تمہارا نرم لہجہ میرے کانوں میں رس گھولتا ہے، ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جب تمہیں سوچتا ہوں، سماعتوں میں سرگم داخل ہو کر کومل سروں میں پیار کا گیت گنگنانے لگتی ہے۔ کبھی تصوّرات کے لمہوں میں تمہارا انداز بیان میری نگاہوں میں عکس بن کر اُتر آتا ہے اور کبھی تمہیں اپنی آنکھوں سے چوم کر خود کو جِلا بخشنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کبھی وقت نکال کر تصوّرات کی دنیا سے باہر آجاؤ میرے ساتھ بیٹھو تم سے پیار، محبت کی بہت سی باتیں کرنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے