ڈاکٹر شارب رضوی بارہ بنکی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم میرے خوابوں کی حقیقت اور کیفیت سے واقف نہیں ہو مجھے معلوم ہے۔ مگر میں اپنی زندگی کو اسکی تکمیل کی غرض سے دیکھنا چاہتا ہوں میرے خواب میرے تصوّرات و خیالات کا آئینہ ہیں، میرے احساسات اور فِکر نے جو تصویریں اِس دِل کے لئے گڑھیں وہ تصاویر خواب بن کر میری ویران آنکھوں میں محسوسات کے پردے پر جس طرح غیرارادی طور سے عکس کی مانِند اُکیری گئی ہیں، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ میں اُسے دماغ میں چل رہی کشمکش سے تعبیر کرتا ہوں، نیندوں میں ہونے والے بدلاؤ جو عام طور پر نیند کے بعض مراحل سے گزرتے ہوئے خوابوں کے بستر پر اپنی آمد درج کراتے ہیں وہ یقیناً ہر رات خواب دیکھنے والے انسان ہی ہوتے ہیں، جو ہر رات خواب دیکھنے میں مشغول ہوتے ہیں۔ میں خوابوں کے اُس دائرے کو اپنے دِل و دِماغ کے اندرون حصّہ میں سموئے ہوئے رہتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ یقیناً ہر انسان اپنے خوابوں میں تقریباً دو گھنٹے ضرور گزارتا ہوگا، خواب دیکھنے والا ہر شخص جو خواب دیکھتا ہے وہ اپنے خواب کو یاد رکھتا ہے اور کُچھ خواب انسان سوتے رہنے کے باعث بھول جاتا ہے اور کُچھ جاگنے پر ياد بھی رہ جاتے ہیں اِن میں کُچھ خواب بہت مختصر ہوتے ہیں اور کُچھ خواب بہت طویل، حالانکہ خواب دیکھنے والے کو مختصر خواب بھی بہت طویل معلوم ہوتے ہیں ایسا تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے لیکن خوابوں کا مواد اور عمل پوری ریکارڈ شدہ تاریخ میں سائنسی، فلسفیانہ اور مذہبی دلچسپی کا موضوع ہونے کے باوجود بھی اِسے صِرف دِماغ کی ایجاد ہی کہا جاتا ہے۔ صدیوں پہلے حضرتِ یوسوف کو اُس زمانے میں خوابوں کی تعبیر و تشریح کرنے والا بتایا گیا ہے مصر میں یوسوف سے بہتر تعبیرِ خواب بتانے والا کوئی نہیں تھا کاہنان معبد یوسوف سے شکست خوردہ ہو کر اُن کی دشمنی پر اُتر آئے تھے خواب کی تعبیر بائبل کے ذریعہ بھی لوگ بتاتے رھے ہیں ، اس کے قبل قدیم سمیریوں کے ذریعہ بھی خوابوں کی تعبیر پر مشق جاری و ساری تھی، بہت سی روایات میں مذہبی لوگوں نے نمایاں طور پر اسکا ذِکر بھی کیا ہے، اور اس نے نفسیاتی علاج میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے۔ خوابوں کے سائنسی مطالعہ کو اونرولوجی کہا جاتا ہے، زیادہ تر جدید خوابوں کے مطالعے خوابوں اور خوابوں کے فنکشن کی نیورو فزیالوجی سے متعلق مفروضوں کی تجویز و تحقیق پر توجہ مرکوز ہے۔ مگر ابھی تک اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے کہ دماغ میں خواب کہاں سے آتے ہیں، ابھی تک اسی پر بحث جاری ہے کہ خوابوں کی ایک ہی اصل ہے یا دماغ کے متعدد حصے اِس میں شامل ہیں، یا خواب دیکھنے کا مقصد ابھی تک صاف نہیں ہے جسم کے حصّے میں آنکھیں اور دماغ دونوں ہی آتے ہیں اس کا مطلب تو صاف ہے کہ خواب دیکھنا جِسم کی اختراع سے مربوط ہے جبکہ سائنسدان ابھی تک اس کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں۔ خواب اور نیند ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ضرور ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ہے نیند اور خواب ایک دوسرے سے منسلک ہونے کے باوجود بھی اس پر ریسرچ کے ذریعے غور و فکر کی جا رہی ہے خواب بنیادی طور پر نیند کی تیزی کی وجہ سے آنکھوں کے اندر دِماغ کی کُچھ حرکتیں ایک منظر تراشتی ہیں یہ مناظر دماغ کے اُس مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں دماغ کی سرگرمی زیادہ بڑھ جانے کے باعث یہ خواب دکھائی دینے لگتے ہیں یہ میرا سوچنا ہے، ضروری نہیں کہ یہ صحیح ہو ۔ صحیح تو یہ ہے کہ ابھی تک اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے کہ خواب کی اصل وجہ کیا ہے ۔ ہاں کُچھ تحقیقات کرنے والے محققین صِرف اتنا پتہ لگا سکے ہیں کہ تمام جانور بھی خواب دیکھتے ہیں لیکن اِس پر بھی سائنسدان ایک رائے نہیں ہیں اُنکے نزدیک بھی یہ تجربہ کاروں کی قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ سائنسدانوں کے نزدیک جانورں کا خواب دیکھنا ناقابلِ یقین ہے لہٰذا، غیر انسانوں کی طرف سے خواب دیکھنا فی الحال ناقابل حصول معلوم ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے