عنایت اللّٰہ خان فلاحی
(مدیر جنت کے پھول)
میرے پیارے بیٹے! میں کئی دنوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہوں۔
کیسا خواب دیکھ رہے ہیں ابو جان ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے راہ خدا میں ذبح کر رہا ہوں ، بیٹے ! تمہاری کیا رائے ہے اس خوابِ کے بارے میں؟ نوےسالہ بزرگ نے اپنے اکلوتے گیارہ سالہ بیٹے سے سوال کیا ۔فرماں بردار بیٹے نے انتہائی ادب و احترام سے جواب دیتے ہوئے کہا : اے میرے پیارے ابو جان !یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ آ پ کو جو حکم دیا جارہا ہے اسے کر گزرئیے ، ان شاءاللہ آ پ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔
پیارے بچو! کیا آپ کو معلوم ہے یہ نوے سالہ بزرگ کون ہیں۔اور ان کا گیارہ سالہ فرماں بردار بیٹا کون ہے ؟ یہ ہیں اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے عزیز فرزند سیدنا اسماعیل علیہ السلام۔
بچو! ذرا تصور کریں کہ اللّٰہ کی اطاعت و فرمانبرداری کا کتنا حسین منظر رہا ہوگا ، زمین وآسمان نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا ہوگا ، کہ اللّٰہ کے حکم پر ایک بوڑھا باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو اور بیٹا بھی قربان ہونے کے لیے خوشی خوشی راضی ہو۔ اللّٰہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اس مثال کو دیکھ کر شیطان مردود تلملا اٹھا۔اسے کیسے گوارہ ہوسکتا ہے کہ لوگ اللّٰہ سے محبت کریں ، اللّٰہ کا حکم مانیں اور اپنی جان ومال کی قربانیاں دیں۔اس نے اسماعیل کو، ان کی والدہ سیدہ ہاجرہ کو اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بہکانے کی پوری کوشش کی، لیکن وہ ناکام و رسوا ہوا۔تینوں نے اسے دھتکار دیا، کنکریوں سے مار کر بھگا دیا۔باپ نے چھری سنبھال لی، اسے تیز کیا ، بیٹے کو ساتھ لیا، منی کے میدان میں پہونچے، بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا۔چھری جیسے ہی گردن پر رکھی آ سمان سے آ واز آ ئی : اے ابراہیم !رکو رکو ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ۔ آ سمان سے فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل آ ئے ، ساتھ میں دنبہ لائے۔ دنبے کی قربانی ہوئی، اسماعیل بچ گئے ، قیامت تک اللّٰہ نے قربانی کی سنت کو جاری کردیا۔ہر سال 10 سے 12 ذی الحجہ تک پوری دنیا کے مسلمان جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آ پ نے فرمایا : قربانی تمہارے دادا ابراہیم کی سنت ہے۔( ترمذی)
پیارے بچو! عید قرباں کے موقع پر اہل ایمان اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہیں اور اللّٰہ سے عہد کرتے ہیں کہ میرا مرنا ، میرا جینا صرف تیرے لیے ہے۔وقت پڑنے پر ہم اپنی جان اور مال سب اللّٰہ کی راہ میں قربان کر دیں گے۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی۔
میں اسی لیے مسلماں ، میں اسی لیے نمازی۔
