محمد یوسف رحیم بیدری
کبھی کبھی جی چاہتاہے کہ اپنی روزمرہ کی مصروفیت بھی قلمبند کی جائے۔ اسی جذبہ کے تحت آج کی کچھ مصروفیت کو کالے اکشروں کے ذریعہ 9نکات کی شکل میں بیان کیاجارہاہے ، توقع ہے کہ یہ مصروفیت ادب پسند افراد کے دل پر دستک دے گی۔
(۱)آج ریاست کرناٹک کے معروف مصنف اور مبلغ ِ قرآن جناب حامد محسن نے فون کرکے بتایاکہ آج کل ’’عکسِ سیرت‘‘ پڑھ رہاہوں۔ اس سے تھوڑی چیزیں لے کر فالومی میں لیاہوں۔سیرت ِ رسول ﷺ پر میری کتاب ’’فالومی ‘‘کااردو ترجمہ پرنٹنگ نہیں کرایاگیا۔’’فالومی‘‘ کو آن لائن ڈبنگ کرنے کامنصوبہ ہے۔ اس سے قبل ’’فالومی‘‘ کی ایک لاکھ کاپی انگریزی میںشائع کرکے مفت تقسیم کی گئی ہیں۔ساتویں ایڈیشن کواغلاط سے مکمل پاک کیاگیاہے۔اب آٹھواں ایڈیشن شائع ہوگامگر GSTنے کتاب کی اشاعت کی لاگت میں 33%اضافہ کردیاہے۔ جو کتاب 100روپئے میں پڑتی تھی وہ اب 150روپئے میں پڑرہی ہے۔
(۲) واٹس ایپ پر جناب سید خورشید احمد قادری نے بیدر کی سرزمین میں شہیدوں کالہو والا شعر مانگاتھا۔ میں نے لکھاکہ یہ سلیمان خطیب کا قطعہ ہے۔ اور گاوا ن چوک پر کندہ ہے۔ کچھ دیرمیں اس کاعکس روانہ کرتاہوں۔ میں نے فوٹوگرافر محمد سلطان سے کہہ کر وہ قطعہ انہیں بھیج دیا۔ قطعہ درج ِ ذیل ہے ؎
کس صاحب ِ خردکا یہ فیضِ جنون ہے
بیدر، چراغ ِ راہ ِ علوم وفنون ہے
گل رنگ ہے ، گلال ہے ، کیا سرخ رو ہے یہ
بیدر کی سرزمین میں شہیدوں کالہو ہے
میں نے گویا حاشیہ پر لکھاکہ ’’زمیں ‘‘ پڑھااور لکھاجائے۔( ’ن‘ کااعلان نہ ہو، جبکہ کندہ قطعہ میں ن کااعلان ہے)
(۳)آج میں نے ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کرناٹک کے واٹس ایپ گروپ کو تاخیر سے دیکھا ہے ۔جناب عبدالقدیر ساحل سکریڑی ادارہ نے جناب تجمل حسین کوخوش آمدید کہاتھا۔ شیخ حبیب صاحب بنگلورکے عید ملن مشاعرہ کی پوسٹ پر مبارک باد دی تھی۔ وانمباڑی میں مشاعرہ تھا۔ منظوروقار صاحب نے فاروق نشتر کی گلپوشی سے متعلق پوسٹ کیاتھااس پر عبدالقدیرساحل نے ’’بہت بہت مبارک ہو‘‘درج کیا تھا۔ پھر اپنی ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں سلام ، صبح بخیر کے بعد علامہ سرمحمد اقبال کایہ شعر درج کیا تھا ؎
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
’’جواں گیری اور پیری ‘‘ سے متعلق اس پوسٹ پر میں نے ’’سبحان اللہ ‘‘ لکھا ۔ جناب سید ابرارحسینی جوائنٹ سکریڑی ادارہ کی چاراشعارپرمشتمل ایک پوسٹ تھی۔میراکمنٹ تھا’’میرے خیال میں صرف قافیے ملائے گئے ہیں۔ اہل ِفن اس پر روشنی ڈالیں تو مہربانی ہوگی۔ جناب سرفراز بزمی کی ایک جاندارطرحی غزل پر میرادعائیہ کمنٹ تھا’’اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ‘‘ ان کی طرحی غزل کایہ شعر ملاحظہ کیجئے گا ؎
یہ اور بات تیری نگاہیں نہ دیکھ پائیں
ورنہ قریب تر ہیں تری حرزِ جاں سے ہم
’تر ی‘ کے بجائے ’ترے ‘‘ شاید ہونا چاہیے۔ مجھے کھٹک رہاہے۔ اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ میں اہل ِزباں نہیں ہوں۔ مصرع ثانی میں ’تر‘ اور ’تری‘ کاجواب نہیں ہے۔
(۴)اپنے روزگار کے فرائض پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلاکہ کرناٹکاتحفظ ِ حقوق اطفال کمیٹی کے چیرمین کے ناگن گوڈا بیدر آئے ہوئے ہیں 1:30بجے دن ضلع پنچایت دفتر پر پریس کانفرنس ہے۔ جب کہ چیرمین صاحب کااجلاس ضلع پنچایت دفترپر جاری ہے۔ اسی درمیان ہماری بلی چیخ رہی ہے۔ ابھی ابھی دودھ والا دودھ لے آیاہے۔ اس کو شاید دودھ پیناہے۔ مہربان بیگم نے ہمارے حصہ کا’’ہلدی دودھ‘‘لاکر میز پر رکھ دیاہے۔ ساتھ میں پانی بھی ہے ۔ وہ پانی جو زندگی سے عبارت ہے۔ جب کہ دودھ کا تعلق’’طاقت ‘‘ سے ہے۔
(۵)سوچ رہاہوں کہ طلبہ کے لئے ’’افسانچوں کی نمائش ‘‘ کااہتمام کیاجائے یاضرورت مندطلبہ تک ’’تعلیمی کٹ‘‘ پہنچانے کااہتمام کیاجائے ؟ یاپھر کل کے باقی بچے ہوئے کام پہلے انجام دئے جائیں ؟کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہاہے۔ اتوار کو ہفتہ واری اجتماع میں ’’خطبہء حجتہ الوداع‘‘ پر کی گئی تقریراورپورے اجتماع کی رپورٹنگ بھی کرناہے ۔
(۶)اسی اثناء میں ایک افسانچہ ’’بے ہمتی‘‘ لکھنے کاموقع مل جاتاہے ۔ افسانچہ ملاحظہ کیجئے ۔
خبرتھی کہ ’’مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کاسلسلہ جاری ، دہلی میں ایک اور مسجد شہید کردی گئی‘‘ وہ سرخی پڑھ کر نیوزپورٹل کی لنک پر کلک نہیں کرتا، آگے بڑھ جاتاہے ۔ کیوں کہ اس میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ مسلمان بھائیوں اور اپنے دین پر آئی مشکلات کو وہ پڑھ بھی سکے۔
(۷) گھر سے نکلتاہوں تو موٹرسائیکل پر ترس آتاہے او رمیں وحیدبھائی میکانک کے حوالے اپنی موٹرسائیکل کرتاہوں۔ وہ پوچھتے ہیں ’’کیاکرناہے ؟‘‘ میراجواب ہوتاہے ’’سرویسنگ کرنی ہے اور جو بھی کام نکل جائے اس کو انجام دیناہے ‘‘
(۸) میں شہر بیدر کی مسجد مدینہ نئی کمان سے باہرنکلتاہوں تو دوغیرمسلم خواتین چھوٹے سے بچے کو گودمیں لئے کہتی ہیں ’’مولصاحب ، بچے پر پڑھ کر پھونک دیں ‘‘ میں پوچھتاہوں ’’بچے کو کیاہواہے ؟‘‘ دونوں خواتین میں سے سامنے والی خاتون کہتی ہے۔ ’’بخار بہت ہے ۔ اترنہیں رہا‘‘ میں بچے کے سر اور گلے پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھ کر پھونک دیتاہوں۔
(۹) گھرپہنچتاہوں تو گھر مقفل ہے۔ اورمیرے پاس کی چابی موٹرسائیکل کی چابی کے ساتھ میکانک کے پاس ہے۔ کیاکیاجائے ؟ اسی سوچ میں مسجد کی طرف چلاجاتاہوں تاکہ بیگم جب گھر آئیں گی تب ہی تو گھر میں داخل ہواجاسکے گا۔ اسی اثناء میں محمد نعیم الدین چابکسوار فون کرکے کہتے ہیں ’’ایس آئی او بسواکلیان نے آج نیٹ اور دیگرامتحانات کو لے کر احتجاج منظم کیاہے۔ میں نے تصاویراور دیگر اشیاء واٹس ایپ کی ہیں۔ براہ کرم خبر نویسی فرمادیں‘‘ بیگم گھر آتی ہیں تو خاکسار کو بھی اپنے گھر میں پناہ ملتی ہے اور میںکمپیوٹر آن کرکے خبر بنانے میں لگ جاتاہوں۔
