سیّد مقصود
سیکرٹری بام سیف، تلنگانہ و صدر راشٹریہ مسلم مورچہ نئی دہلی
مکّہ مسجد کے مستندامام مولوی علاؤالدین اورطُرّہ باز خان کی قیادت میں 500مجاہدین کا جتھہ کوٹھی پر واقع انگریز ریسیڈینسی پر جرت مندانہ اقدام کرتے ہوئے حملہ کردیا اس اقدام کو شاہ پرستوں نے امن میںخلل کہا ،سہل پسندوں نے اقدام خود کشی کہا ،آزادی کے متوالوں نے کہا  آزادی۔آزادی ۔
گذرا ہوا ہر لمحہ تاریخ کا حصّہ بن جاتا ہے، زمین اپنی محوری گردش کرتے ہوئے ہر لمحے کا ریکارڈ کر رہی ہے اس میں سے کچھ یا د رکھے جاتے ہیں اکثر بھلا دئے جاتے ہیں جب تعصب سر چڑھ کر بولتا ہے تو حقیقت افسانے اور افسانے حقیقت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ افسانہ بنادیا گیا۔ پھر بھلا دیا گیا، اورہماری جدوجہد آزادی کی تمام کوشش ،جان بازی، قربانی ،جرت مندی، بہادری سب پانی پر لکیریں ہوگئیں۔
17 جولائی 1857 کو بغاوت نتیجہ ظلم کا شکار، 17سپٹمبر1948کو اپنی ہی سرکار کے ظلم کا شکاردونوں وقت ہم ہی مظلوم آج غدارنہ وطن کی فہرست میں پیدا ہونے سے پہلے ہی میرا نام درج ہے۔ حالت یہ ہوگئی ہے شہر کا ہر چوراہا مقدس اشنان گھاٹ بن گیا ہے۔ میرا سر پوجا کا کنول ،میرا خون بھارت ماتا کی ماتھے کا تلک !،  17سپٹمبر1948یوم انضمام کو یوم نجات یا یوم آزادی منانے والوں کو 17جولائی 1857بھی یاد رکھنا چاہئے۔ آئیے ہم اس دن کیا ہوا اور کیوں یاد رکھنا چاہیئے جاننگے۔جس کو ـریاست حیدرآباد میں جدوجہد آزادی میں جواد رضوی صاحب نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔
واقعہ اسطرح ہے جس کو ریاست حیدرآباد میں جدوجہد آزادی نامی کتاب میں جوّاد رضوی صاحب نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ۔
ریاست حیدرآباد میں ۱۸ویں صدی سے ہی انگریزوں کا اقتدار جیسا جیسا مظبوط ہورہا تھا اسی تناسب سے بغاوت بھی بڑھ رہی تھی ۱۷۹۵ ء میں عالی جاہ اور انکے ساتھیوں کی بغاوت ۱۸۱۵ء سے ۱۸۳۹ء کے درمیان مبا رزدولہ اور کرنول کے نواب غلام رسول خان جن کے پیچھے وہابی تحریک کی سونچ کام کررہی تھی۔ اؤرنگ آباد میں بھیل قبائلیوں کی بغاوت ۱۸۱۹ ء میں دوسری بار ۱۸۲۲ء مرٹھواڑہ علاقوں میں بیڑھ  ۱۸۱۸ء دوسری بار ۱۸۵۹ء ناندیڑ ۱۸۱۹ء کپپیل میں ۱۸۱۹ء اور ۱۸۵۹ ء میں اودگیر کے دیش مکھ کی بغاوت ۱۸۲۰ ء میں بیدر ۱۸۲۱ء کی میں مومن آباد میں فوجی بغاوت رائچور میں ۱۸۴۱ء اسطرح کئی مقامی اور فوجی بغاوتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ آخر کار ۱۷ جولائی ۱۸۵۷ ء کو برٹش ریسیڈینسی پر حملہ اسی اسلسلہ کی ایک کڑی تھی۔
۱۸۵۷ ء کے غدر کی ابتداء تو جنوبی ہند سے ہوئی مگر دکن میں انگریز مخالف اشتعال انگیز ماحول تیار ہوچکا تھا۔ ایسے خطرناک ماحول میںاؤرنگ آباد اور مرٹھواڑہ کے علاقوں کے فوجی اپنی ملازمت چھوڑکر راہ فرار اختیار کی تھی۔ انکا ایک جتھہ چیتا خان کی رہنمائی میں شہر حیدرآباد پہنچا جن کی گرفتاری پر ۳۰۰۰ کا انعام رکھا گیا تھا۔ سر سالار جنگ نے ان کو گرفتا ر کرلیا، اس گرفتاری نے شہر کی عوام کو مشتعل کردیا مکہ مسجد میں ان گرفتاریوں کے خلاف ۱۷ جولائی ۱۸۵۷ ء کو زبردست جلسہ منعقد کیا گیا جس میں شہر کی  ذمہ دار شخصیتیں نے شرکت کی ، اور طئے پایا ۴ مولویوں کا ایک وفد نے نظام سے ملے اور چیتا خان اور انکے ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جائے ۔  اگر یہ ممکن نہ ہوا تو پھر ریسیڈنسی پر حملہ کیا جائے جیسے ہی اس کی اطلاع حکومت کو ہوئی انہوں نے پولس فوج بھیج کر منتشر کیا، یہ سب نماز جمعہ کے بعد پیش آیا مگر سر شام پھر لوگ جمع ہوتے گئے ۵۰۰ مجاہدین کا جتھہ مولوی علاؤالدین کی رہنمائی میں مکہ مسجد سے روانہ ہوا چار مینار کے قریب جہانگیر خان اور انکے ساتھی جلوس میں شریک ہوگئے جب جلوس بیگم بازار پہنچا روہیلوں کے لیڈر طُرّہ بازخان اور انکے ساتھی بھی شامل ہوگئے یہ جتھہ ریسیڈنسی کی جانب بڑھتا گیا راستے میں ہزاروں عوام اس میں شامل ہوگئے ۔ریسیڈنسی کے قریب پہنچتے پہنچتے انسانی سروں کا سمندر میں تبدیل ہوگیا جو پورے غضب و غصّے جوش وخروش کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔
مولوی علاؤالدین اور طُرّہ بازخان کی قیادت میں مجاہدین نے مورچہ سنبھال لیا ریسیڈنسی کے سامنے دو قدیم مکانات پر توپیں نصب کردی گئی اور گولا باری شروع کردی گئی ،ریسیڈنسی والوں نے کوٹھی کے دروازے بند کردئے ،گولابازی اتنی شدید تھی پتلی باؤلی کی جانب دروازوں کے قلابے توڑدئے گئے یہ جنگ شام ۷ بجے سے شروع ہوکر صبح تک چلتی رہی۔ آخر کار صبح کے وقت طُرّہ باز خان اور مولوی علاؤالدین عربوں کے طاقتور دستے سے بچ بچا کر فرار ہوگئے ۔ انکے ۴۰ ؍۴۵ ساتھی شہید ہوگئے، ابگریزوں کا کتنا جانی نقصان ہوا پتہ نہ چل سکا۔ شہر سے ۱۲ میل کے فاصلے پر طورے باز خان اور انکے ۱۲ ساتھیوں کو گرفتا ر کرلیا گیا۔ مولوی علاؤالدین اپنا بھیس بدل کر کئی دن تک روہ پوش رہے ،آخر کار شہر کے قریب منگل پلی گاؤں ابراہیم پٹنم میں گرفتا ہوئے  ان دونوں پر مقدمہ چلا گیا اور انہیں جنس دوام(عمر قید) کی سزا دی گئی انکی جائیدادوں کو ضبط کرلیا گیا، مولوی علاؤالدین کالے پانی انڈومان بھیج دئے گئے جہاں وہ ۱۸۸۴ء میں انتقال کرگئے ۔
طُرّہ بازخان مجاہدین آزادی کے سب سے اول کے رہنماء تھے آخری وقت تک ہا ر نہیں مانے۔ ۱۸جولائی ۱۸۵۷ء کو حملے کے عد گرفتار کئے گئے دوران گرفتاری وہ زخمی ہوگئے تھے بعد علاج مقدمہ چلایا گیا اور انکو عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔انڈومان بھیجے جانے کی تیاری کررہے تھے نگرآن کار سپاہیوں کی مددسے ۱۸ جنوری ۱۸۵۹ء کو جیل سے فرار ہوگئے ۔ دوسرے ہی دن انکی گرفتاری قربان علی تعلقدار توپران نے انکے مقام کا پتہ لگا لیا جب پولیس افسر انہیں گرفتا ر کرنا چاہتے تھے طُرّہ باز خان اور انکے ساتھیوں نے تلواروں سے ان پر حملہ کردیا پولیس نے گولیاں چلانا شروع کردی اس گولی باری میں طُرّہ بازخان اور انکا ایک ساتھی مارا گیا۔انکی لاش حیدرآباد لائی گئی اور ایک شاہ راہ پر انکی لاش لٹکائی گئی اس طرح یہ عظیم مجاہد آزادی دم آخر تک لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔انکا ساتھ دینے والے مدد کرنیوالے کئی ساتھیوں کو مختلف قسم کی سزائیں دی گئیں۔وائی ایس آر کی سرکار نے کوٹھی بس اسٹانڈ سرکل پر ایک یادگار مینار بنوایا ۔ انکی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں تاکہ انکی قربانیوں یاد رکھا جائے جب کوئی قوم اپنے محسن کی قدر نہیں کرتی اس قوم میں محسنین پیدا ہونا بند ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ محسن خدا کا انعام ہوتا ہے اور خدا اپنے انعام کی نہ قدری برداشت نہیں کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیّدمقصود
سیکرٹری بام سیف، تلنگانہ و صدر راشٹریہ مسلم مورچہ نئی دہلی
فون نمبر 9440836492
ای میل :syedmaqsood5403@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے