از: پروفیسر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com., Ph.D (Osm)
انسانیت اور تمیز کو پرکھنے کا واحد معیار انسان کا کردار ہے جس کے بغیر انسانی زندگی میںہم آہنگی، یکسوئی اور یکجہتی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں عبادات و معاملات کی طرح حسن اخلاق اور کردار سازی کو بھی بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ تقوی اور حسن کردار والے لوگ سب سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ بروز قیامت بہترین کردار والوں کو رحمت عالمؐ کی قربت و معیت نصیب ہوگی۔ اسلامی تعلیمات اور مومنانہ کردار کی شان و عظمت اوراہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت سیدنا امام عالی مقام ؓنے نظام مصطفیؐ کی حقانیت و آفاقیت ،مومنانہ کردار کی نفاست و پاکیزگی کے تحفظ و صیانت اور یزید بے دید کے افعال قبیحہ اور ارتکاب کبائر کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں پھیلنے والے فساد سے نظام مصطفیؐ کو محفوظ رکھنے کے لیے باطل فوج کا آخری سانس تک مقابلہ کیا اور ایمان کے تقاضے کے عین مطابق اپنی اور 72 نفوس قدسیہ پر مشتمل اپنے جانثار رفقاء کی جانوں (جن میں سے اکثر خاندان نبوت کے ارکان تھے)کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے فلاح انسانیت کا ذریں باب رقم فرمایا۔ جری علی الکبائر شخص یعنی یزید پلید کے زمان شقاوت نشان میں پیش آنے والے اس عظیم سانحہ کربلا کی یاد منانے کے لیے ہر سال دنیا بھر میں جلسہ ہائے سید الشہداء حضرت سیدنا امام حسینؓکا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے اورواقعہ کربلا کے فلسفہ و حکمت کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے لیکن افسوس اس بات ہے کہ مسلمان انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ان محافل میں شرکت تو کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کی اکثریت واقعہ کربلا کی روح کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنے کردار کو سنوارنے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دیتی ہے۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ہماری اکثریت کا کردار یزیدی چال چلن کی عکاسی کرتا ہے جس کے خلاف حضرت سیدنا امام حسینؓ نے جہاد فرمایا۔ اخبث الخبیثین ، شقی ازلی اورکائنات کا سب سے زیادہ ذلیل و رذیل یزید بے دید کے کردار پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اس کے سراب ایمانی کا پردہ از خود چاک ہوجاتا ہے۔
علمائے اعلام نے آیات قرآنیہ اور احادیث مقدسہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا کہ یزید فاسق و فاجر، شرابی و زانی، ظالم و جابر اور بدعقیدہ شخص تھا۔ تفاسیر معتبرہ اور مستند کتب تاریخ میں اس کی بدکرداری کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ اپنی مشہور زمانہ کتاب تکمیل الایمان میں رقمطراز ہیں کہ یزید خدا کا دشمن ہے، وہ شرابی ہے، زانی ہے، تارک الصلوٰۃ ہے اور محارم کو بھی حلال جانتا ہے۔ یزید نے شراب کو بھی حلال کررکھا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ اگر شراب دینِ احمد میں حرام ہے تو تُو اسے عیسائی بن کر پی لیاکر۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؓ بے حیا ملعون یزید کے بارے میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ یزید شقی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں طمع کی (یعنی ماں سے نکاح کا ارادہ کیا۔ العیاذ باللہ) تو لوگوں نے قرآن مجید کا حوالہ دے کر اس بدبخت کی لعنت و ملامت کی۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان سے بہتر تعلقات کو قائم رکھنا، ان کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنا، اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق ان کی مالی اعانت و مدد کرنا ،ان کے تئیں ہمیشہ خیر خواہی کے جذبات سے سرشار رہنا دین اسلام میں بہت محبوب عمل ہے اس کے برخلاف رشتہ ناطہ توڑ دینادین اسلام میں حد درجہ مبغوض ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ قطع رحمی کرنے والے کو اللہ تعالی دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور آخرت میں اسے جنت سے محروم کردیتاہے۔ یزیدلعین سے زیادہ کون قطع ارحام کا مرتکب ہوگا جس نے رسول اللہ کے رشتہ و قرابت کی بھی رعایت نہیں کی۔ چونکہ یزید اللہ تعالی کی قائم کردہ حدود جو حلال و حرام میں حد فاصل ہیں سے تجاوز و انحراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو ظالم بنالیا تھااسی لیے سید الشہدائؓ نے یزید پلید کے خلاف جہاد فرمایا۔
شیخ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ حجۃ اللہ البالغۃ میں فرماتے ہیں کہ جب خلیفہ ضروریات دین میں سے کسی ضروری حکم کا انکار کرے تو اس کے ساتھ قتال کرنا راہِ حق میں جہاد کرنا ہے۔ حدود اللہ کی پامالی تو درکنار قرآن مجید مسلمانوں کو ان کے قریب جانے سے بھی منع فرماتا ہے تاکہ انسان حدودِ ممنوعہ میں داخل ہونے سے بچ جائے۔ تقریباً ہر گھر میں آگ کا استعمال ہوتا ہے جو ہماری ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے انتہائی نفع بخش اور اشد ضروری ہے لیکن ذرا تصور کریں کہ جب یہی آگ ہماری غفلت یا ہوا کے تیز جھونکے کی وجہ سے اپنی حدود سے باہر نکل جاتی تو سارے گھر کو جلاکر خاکستر کردیتی ہے۔ آگ مخلوق ہے جب وہ حدود سے باہر آجاتی ہے تو انسان کو جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اور انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب وہ حدود الٰہیہ کی رعایت نہیں کرتا تو انسانیت کو ٹھیس پہنچتی ہے اور انسانی معاشرہ خیر وبرکت سے محروم ہوجاتا ہے۔ بالفرض محال حضرت سیدنا امام حسینؓ اللہ تعالی کے قائم کردہ حدود کی پامالی کرنے والے یزید کے ہاتھ پر بیعت فرمالیتے تو آپؓ اور آپ کے رفقاء یزید کے ظلم و جور سے محفوظ ہوجاتے لیکن یزید کو شریعت مطہرہ کو پامال کرنے کا جواز و سند مل جاتی جس کی وجہ سے امت مسلمہ کا شیرازہ بکھر جاتا اسی لیے آپؓ نے نظام مصطفیؐ کو قائم رکھنے کے لیے پورے عزم و استقلال کے ساتھ ان باطل نظریات اور افعال قبیحہ کا مقابلہ کیا اور جانوں کا نذرانہ پیش کرنا گوارا فرمایا لیکن مفاہمت کے لیے کبھی راضی نہ ہوئے۔ ہم سبط رسول حضرت سیدنا امام حسینؓ سے عقیدت کا اظہار ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے کردار سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اندر یزیدیت پوری طرح سرایت کرچکی ہے۔ یزید کی کونسی ایسی بری خصلت ہے جو ہمارے کردار میں نہ پائی جاتی ہو۔ ہمارا ایمان اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ آج ہم یزیدی کردار کے حامل اشخاص کے خلاف آواز بلند کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ شہدائے کربلا سے عقیدت رکھنا اور یزیدی کردار اپنانا یا اس کی طرف داری کرنا درحقیقت عملی نفاق کی علامت ہے۔ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں تو پتہ چلے گا کہ ہمارے طرز زندگی میں یزیدی کردار کا بہت زیادہ غلبہ ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ آج عالمی پیمانہ پر معاندین اسلام مسلمانوںکی شبیہ مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں چونکہ وہ لوگ مسلمانوں کی بدعملیوںکو راست طور پر اسلام سے جوڑ دیتے ہیں تاکہ لوگ بہ آسانی اسلام سے بدظن ہوجائیں۔اگر ہم میں حضرت سیدنا امام حسینؓ سے سچی عقیدت پیدا ہوجائے تو ممکن ہی نہیں کہ ہم اس یزیدی کردار کو اپنائیں جس کوآپؓ نے سخت ناپسند فرمایا اور صبر و استقامت کے ساتھ تمام مصائب و مشکلات کا سامنے کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا لیکن یزیدکی بدکرداری کو لمحہ بالبصر کے لیے بھی قبول کرنا گوارا نہ فرمایا۔
اگر ہم واقعتاً دین کی برات و نزاہت چاہتے ہیں اور اپنے قدم کو معصیت کی حدود سے بچانا چاہتے ہیں تو واقعہ کربلا کے ذکر کو محافل تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا اٹوٹ حصہ بناتے ہوئے حدود سے انحراف سے بچیں ورنہ ہماری جان وایمان دونوں کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔
حضرت سیدنا امام حسین اور آپؓ کے فدائیوں نے ایمان اور کردار پر سب کچھ نچھاور کردیا اور ہم اس کے بالکل برعکس یزیدیوں کی طرح ہر چیز پر ایمان و کردار کو قربان کررہے ہیں پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں نواسۂ رسولؐ سے عقیدت و محبت ہے جو درحقیقت منافقت ہے۔ایمانی قوت و حرارت سے محروم مسلمانوں کی اکثریت افراط و تفریط سے پاک رب کائنات کے قائم کردہ حدود سے منحرف نظر آتی ہے جس کا پیش خیمہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت حسنِ اخلاق اور سیرت و کردار سے عاری ہوچکی ہے نتیجتاً چوری وڈکیتی، قتل و غارتگری، تہمت و مے نوشی، ناجائز تعلقات و عریانی، مالی غبن و شاہ خرچی، سود خوری و عیاشی اور جوا خوری و ارتداد جیسے سنگین جرائم مسلم معاشرے میں عام ہورہے ہیں جس کی وجہ سے نفرتوں میں اضافہ ہورہا ہے، باہمی تعلقات ٹوٹ رہے ہیں، گھروں کا امن و سکون غارت ہورہا ہے، گھریلو و خاندانی نظام درہم برہم ہورہا ہے، امت کی وحدت پارہ پارہ ہورہی ہے،مخالف اسلام ملحدانہ افکار و خیالات کو بڑھاوا مل رہا ہے ، ظلم و جور کی نئی داستانیں رقم ہورہی ہیں، مسلمانوں کا وقار بری طرح مجروح ہورہا ہے الغرض اسلامی معاشرت و تمدن تباہ و تاراج ہورہا ہے۔
مذکورہ بالا جرائم وہی خرابیاں جس سے یزیدی کردار تشکیل پاتا ہے جس کے خلاف حضرت سیدنا امام حسینؓ نے جہاد فرمایا تھا ۔ عصر حاضر میں حضرت سیدنا امام حسین سے سچی محبت و عقیدت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم بھی پوری ایمانی قوت و طاقت ، استقلال و استقامت اور عزم بالجزم کے ساتھ اپنی زندگی کو حسینی کردار کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں اور یزیدی کردار کے حامل افراد کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت جٹائیں تاکہ دنیا کو اسلامی تعلیمات کے محاسن کا عملی نمونہ دیکھنے کا موقع مل سکے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی اس ماہ ِمبارک میں تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت، مغفرت سے سرفراز فرمائے اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔