- شرن بسوا یونیورسٹی کے ساتویں یوم تاسیس اور بسوراج دیش مکھ کی 59 ویں سالگرہ تقاریب کا شاندار انعقاد
کلبرگی ۔30/ جولائی.(ڈاکٹر ماجد داغی): پوجیہ دوڈپا اپاجی کا یہ وژن کہ تعلیم ہی فرد اور معاشرے کو تبدیل کرنے کا واحد ذریعہ ہے اب سچ ثابت ہوا ہے۔ اِس زَرِّیں قول کا اظہار وزیر جنگلات و ماحولیات مسٹر ایشور کھنڈرے نے شرن بسوا یونیورسٹی کے ساتویں یوم تاسیس اور شرن بسویشور ودیا وردک سنگھ کے سیکریٹری مسٹر بسوراج دیش مکھ کی 59 ویں سالگرہ کی تقریبات کے افتتاح کے بعد تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
انہوں نے اس خصوص میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پوجیہ دوڈپا اپاجی نے 1934 میں ایک پرائمری اسکول کے آغاز سے تعلیمی انقلاب بپا کر دیا اور یونیورسٹی کے قیام کے بعد یہ ایک بڑے برگد کے درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے جو ودیا وردھک سنگھ کے ذریعہ چلائے جانے والے مختلف تعلیمی اداروں میں علاقے کے 30،000 سے زیادہ طلباء کو تعلیمی مواقع فراہم کرتا ہے۔ صرف شرن بسوا یونیورسٹی میں 7000 سے زیادہ طلباء اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مسٹر کھنڈرے نے کہا کہ ڈاکٹر شرن بسوپا اپاجی کی بغیر کسی سمجھوتے کے معیاری تعلیم فراہم کرنے کی کوششوں کی وجہ سے اس خطے کے طلباء خود کو سول سروس اور دیگر مسابقتی امتحانات بشمول این ای ای ٹی اور دیگر امتحانات میں اپنی اہلیت کی وجہ منتخب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے طلباء کو اپنے علمی مظاہرہ کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم کی ضرورت تھی اور ودیا وردھک سنگھ کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ان کے لئے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
قبل ازیں مسٹر کھنڈرے نے یونیورسٹی کا پہلا میگزین، یونیورسٹی کے پراسپیکٹس اور یونیورسٹی کے دیگر جرائد کا اجراء کیا۔ مسٹر کھنڈرے نے میگاانڈسٹریل کوریڈور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت علاقہ کلیان کرناٹک میں ایک میگا انڈسٹریل کوریڈور قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ ملک کے دیگر حصوں اور بیرون ملک انسانی وسائل کے ضیاع کو روکا جاسکے اور قوم کی تعمیر کی سرگرمیوں میں ان کی صلاحیتوں کا استعمال کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ مواقع کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے اداروں اور تکنیکی اداروں کے ذریعہ تیار کردہ انسانی وسائل اپنے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کے اچھے مواقع کی تلاش میں ملک اور بیرون ملک کے دوسرے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہین افراد کی اس منتقلی کو اِنہیں درکار مواقع فراہم کر کے روکنے کی اشد ضرورت ہے اس سلسلے میں حکومت علاقہ کلیان کرناٹک میں صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے تاکہ علاقے کے انسانی وسائل کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ شرن بسویشور سمستھان جیسے مذہبی اداروں کو تعلیم کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کے لئے سراہتے ہوئے مسٹر کھنڈرے نے کہا کہ مذہبی اداروں نے نرسری تا پوسٹ گریجویٹ تعلیم تک تعلیمی اداروں کا سلسلہ قائم کرکے علاقے کے لوگوں تک تعلیم کے میدان میں مواقع فراہم کرنے کے خلا کو پر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرن بسویشور سمستھان اور شرن بسویشور ودیا وردک سنگھ نے علاقے کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لئے بہت بڑا تعاون کیا ہے اور پوجیہ دوڈپا اپاجی اور 8 ویں پیٹھادی پتی پوجیہ ڈاکٹر شرن بسواپا اپاجی اور ساتویں پیٹھادی پتی نے تعلیمی پسماندہ علاقے کو ایک بڑے تعلیمی مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے مسٹر بسوراج دیش مکھ کو ان کی سالگرہ کی تقریبات پر مبارکباد دی اور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نرنجن نشٹی اور معروف آرٹسٹ جناب اے ایس پاٹل کو ان کے متعلقہ شعبوں میں ان کی کامیابیوں کے لئے اعزاز سے نوازا گیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر انل کمار بڈوے نے صدارت کی، یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر ایس جی ڈولگودر نے ان کا استقبال کیا اور فائنانس آفیسر پروفیسر کرن ماکا نے شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں رکن اسمبلی مسٹر الم پربھو پاٹل، ایم ایل سی جگدیو گتہ دار، ڈین ڈاکٹر لکشمی پاٹل ماکا، ڈاکٹر اوما دیوی دیش مکھ، یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر وی ڈی میتری، رجسٹرار (ایویلیوایشن) ڈاکٹر ایس ایچ ہونالی,مسٹر لکشمن دستی صدر کلیان کرناٹکا ہوراٹا سمیتی، پروفیسر آر کے ہڑگی اور پروفیسر بسواراج کمنور موجود تھے. اس موقع پر ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا)،ڈاکٹر منظور احمد دکنی،جناب رؤف قادری صدر اردو منچ نے اربابِ شرن بسوا یونیورسٹی کو یومِ تاسیس اور بسواراج دیشمکھ کو ان کی سالگرہ کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دلی مبارک باد پیش کی.
