مبصر: ڈاکٹر مبین نذیر
صدر شعبہ اردو، سٹی کالج، مالیگاوں
بشر نواز کا نام جدید شاعری کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ بالخصوص جدید نظم میں ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ پچھلے دنوں بشر نواز کا مونوگراف شائع ہوا ہے جس کے مصنف صابر ہیں۔ صابر کا تعلق بھی اسی شہر خجستہ بنیاد اورنگ آباد سے ہے۔ صابر 21 ویں صدی کے اہم شعرا میں شامل ہیں۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ’’قسط‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ شاعری، نثر، ترجمہ اور تحقیق پر یکساں دسترس رکھتے ہیں۔ مطالعہ وسیع ہے۔ ان کے مضامین میں ’’استعارے کی موت‘‘ اور ’’غزل، شعر اور الہام‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مونوگراف میں صابر نے نہایت ہی دلکش اسلوب میں، سادگی لیکن دلپذیری کے ساتھ تاریخِ دکن کو بیان کیا ہے۔ اسلوب کی تازہ کاری نے تاریخ جیسے خشک موضوع کو بھی دلچسپ بنا دیا ہے۔
بابِ اول جو شخصیت اور سوانح پر مشتمل ہے، کا مطالعہ کرتے وقت کہیں بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ تیرہویں صدی سے بیسویں صدی تک کے اہم سماجی، سیاسی، ادبی، سیاحتی اور تاریخی واقعات کو 17 صفحات میں سمیٹ کر مصنف نے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اس کا اندازہ ذیل کے اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:’’اورنگ آباد کے تاریخی اور سیاحتی مقامات میں ایلورا اجنتا کے غار، بی بی کا مقبرہ، پن چکی، دولت آباد کا قلعہ اور اورنگ زیب کا مزار خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘(صفحہ17)شہر اورنگ آباد کے تعلق سے ان ہی صفحات میں کچھ ایسے گراں قدر حقائق درج ہیں جو راقم کے ساتھ ساتھ دیگر قارئین کے لیے بھی نئے اور حیرت انگیز ہوں گے۔ باب نمبر ایک کے پہلے حصے میں ریاست حیدر آباد دکن کی آصف جاہی سلطنت کے قیام، آصف جاہی سلاطین کے کارنامے، ان کی سماجی، سیاسی اور ادبی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں نظام ہفتم میر عثمان علی خان کے دور کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اردو زبان و ادب کی کی تعلیم و ترقی اور ترویج و اشاعت کے لیے میر عثمان علی خان کی خدمات کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ ان کی علم و امن دوستی، فنونِ لطیفہ کی سرپرستی اور سخاوت و فیاضی کا ذکر موجود ہے۔ تیسرا حصہ اورنگ آباد کے سیاسی اور تاریخی واقعات پر مبنی ہے جس کے لیے برٹش حکومت کے امپیریل گزٹیر آف انڈیا سے مدد لی گئی ہے۔ حصہ چہارم سے یاز دہم بشر نواز کی فکر و فن اور ادبی و سیاسی سرگرمیوں پر مبنی ہے۔ شہر خجستہ بنیاد کی تاریخ کو مصنف نے جس طرح بشر نواز کے ذکر پر ختم کیا ہے اور پھر اس کے بعد ان کی حیات و شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اثر انگیز اسلوب میں بیان کیا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے۔ ان کی زندگی کے واقعات نے مونوگراف کو دلچسپ بنا دیا ہے۔
دوسرے باب میں بشرنواز کے ادبی و تخلیقی سفر کا پس منظر اور اس وقت کے حالات درج کیے ہیں۔ ابتدا مصنف نے بشرنواز کے استاد مولوی یعقوب عثمانی کے حالاتِ زندگی سے کی ہے۔ جس میں قاری ان کے اندازِ تربیت سے آگاہ ہوتا ہے۔ بشر نواز کے ادبی سفر، ادبی میلان میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی باخبر ہوتا ہے کہ کس طرح وہ ترقی پسندی سے جدیدیت کی طرف مائل ہوئے اور پھر جدیدیت کے اہم ستون بن گئے۔ یہاں مولوی یعقوب عثمانی کے کلام کو بھی مصنف نے بطور نمونہ شامل کیا گیا ہے۔فلمی نغمات کے ضمن میں راگوں کا مفصل ذکر کر کے مصنف نے اس فن کے بارے میں بھی کار آمد معلومات فراہم کی ہیں۔ بشر نواز کے ٹی وی اور فلموں سے جڑے رہنے کی جو تفصیلات مرقوم ہیں وہ مصنف کی تحقیقی مساعی کی غماز ہیں۔
بشر نواز کی شخصیت کے ساتھ ہی ان کے فکر و فن کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد گفتگو کی گئی ہے۔ تحقیقی وہ تنقیدی نقطہ نظر سے تمام تخلیقات کا منصفانہ اور غیرجانبدارانہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس بات کا ثبوت شمس الرحمن فاروقی کا بیان ہے جس سے فاضل مصنف نے مدلل اختلاف کیا ہے۔باب سوم نظم نگاری، غزل گوئی اور تنقید نگاری پر محیط ہے۔ مصنف نے اس باب میں بھی نکتہ سنجی اور نکتہ رسی کا ثبوت دیا ہے۔ مختلف محققین، ناقدین اور کتابوں کے حوالوں سے بات کی ہے۔ ان تینوں ابواب کے اختتام پر حواشی کا اہتمام بھی ملتا ہے۔باب چہارم بشر نواز کی منتخب شاعری سے متعلق ہے جس میں آزاد نظمیں، اشعار اور غزلیں ہیں۔ باب پنجم میں بشر نواز کی جنبشِ قلم سے معرضِ وجود میں آئے مضامین، ایک خط اور تبصرے شامل ہیں۔ جو ان کی تنقیدی بصیرت پر دال ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت دلچسپ اور رواں ہے۔ یقینا صابر نے اپنے وسیع مطالعے، تحقیقی مزاج، تخلیقی نثر اور بے لاگ تجزیے سے مونوگراف کو مفید ترین بنا دیا ہے۔
اورنگ آباد دکن کی تاریخ، بشر نواز کی شخصیت اور فکر و فن کا احاطہ کرنے والا یہ مونوگراف طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک سنگ میل اور صابر کے لیے نیک فال ثابت ہوگا۔ دیدہ زیب سرورق سے آراستہ، 145 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت صرف 105 روپے ہے۔ اسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے