بیدر۔ 8؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): بیدرکے بسواکلیان شہر سے تعلق رکھنے والے اور گلبرگہ جیسے ادبی شہر کو اپناوطن ِ ثانی بنانے والے نجم باگ کاتعلق معروف افسانہ نگار ڈاکٹر اکرام باگ سے گہرا ہے۔ وہ ڈاکٹر اکرام باگ مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان کی دوکتابیں مکافات (افسانوی مجموعہ) اور سراب (نظمیں)اسی سال 2024 کو منظر عام پر آچکی ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی نے نجم باگ کے افسانوں کے بارے میں لکھاہے کہ ’’نجم باگ کے افسانوں میں مذہبی پیکروں نے انسانی بے چارگی کی کیفیت کو اور بھی نمایاں کردیاہے ‘‘مکافات کی تقریظ ڈاکٹر حسن رضا ، صدرادارہ ء ادبِ اسلامی ہند نے تحریر کی ہے۔ لکھاہے ’’محترم نجم باگ صاحب کے اس افسانوی مجموعے ’’مکافات‘‘میں 91مختصر افسانے ہیں۔ ان تمام افسانوں میں ان کے اسلوب بیان کی شعریت اورسحرکاری بہت نمایاں ہے ‘‘علیم احمد کے نزدیک ’’نجم باگ کے افسانے کی تکنیک اسلو ب اور طرز طریق خالص جدید ہے۔ افسانوں کابیانیہ اس قدر مبہم ہے کہ قاری کنفیوژ ہوجاتاہے۔ بالفرض قاری جدید تعقید لفظی سے واقف نہ ہوتو وہ جدید تخلیقی رویوں کو قبول نہیں کرپائے گا‘‘ان کی دوسری کتاب ’’سراب‘‘آزاد نظموں پر مشتمل ہے۔جس کے بارے میں پروفیسر حمید سہروردی نے لکھاہے ’’نجم باگ نئے شاعر ہیں مگر ان کے ہاں مواد اور لفظیات کاتنوع ایک مربوط مصرعے کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔ ان کے ہاں اچھی شاعری کے امکانات موجود ہیں‘‘ڈاکٹراطہر معز اسسٹنٹ پروفیسر،دراصل نجم باگ کی شاعری کی بابت اپنی رائے اس طرح دیتے ہیں ’’نجم باگ کی شاعری ایک متشکل اور پیچیدہ ذہن وفکر کی کارفرمائی کانتیجہ ہے۔
نجم باگ اپنی نظموں میں امیجزم سے متاثر نظر آئے ‘‘ڈاکٹر غضنفر اقبال اور دیگر نے بھی نجم باگ کی شاعری کو کافی پسند کیاہے۔اوران تمام کی آراء ان دوکتابوں میں درج ہے۔ مکافات اور سراب دونوں کتابیں علیحدہ علیحدہ 144صفحات پر مشتمل ہیں۔ افسانہ اور آزاد نظموں کے رسیا ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے دونوں کتابیں حاصل کرسکتے ہیں۔
