ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔ بجنور
ارتداد کے معنی ہیں ’’ اس راستے سے پلٹ کر واپس ہوجانا جس راستے سے آدمی آیا ہے۔‘‘مگر اسلامی تاریخ میں ارتداد کے معنیٰ ’’ اسلام قبول کرنے کے بعد اس کو چھوڑدینا‘‘ ہیں ۔انگریزی میں اسے Apostasyکہتے ہیں۔کوئی مسلمان اپنے مذہبی عقائدتوحید ،رسالت،آخرت وغیرہ سے انحراف و انکار کرے اورعلانیہ اپنے دین کو ترک کرنے کا اظہار کرے تووہ مرتد کہلاتا ہے ۔اسلام کے مسلمہ عقائداور احکام میں سے کسی ایک کا انکار بھی ارتداد ہے ۔مثال کے طور کوئی شخص کہے کہ میں توحید ،رسالت کو مانوں گا مگر آخرت کو نہیں مانوں گا یا اسی طرح کوئی کہے کہ میں نماز کی فرضیت کا انکار کرتا ہوں ۔یا کوئی مسلمان کسی حرام چیز کو بغیر شرعی دلیل کے حلال کرلے یا حلال کو حرام قرار دے ۔ان جملہ صورتوں میں وہ مرتد ہوجائے گا۔واضح رہے کہ اسلام کے مسلمہ عقائدو فرائض کا انکارارتداد ہے ۔اس کے برعکس بے عملی اگرچہ گناہ ہے مگر اس پر ارتداد کا حکم صادر نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر کوئی مسلمان نماز نہیں پڑھتا ،یا روزے نہیں رکھتا جب اسے توجہ دلائی جاتی ہے تو شرمندہ ہوتا ہے ،اپنی کوتاہی کو تسلیم کرتا ہے تو وہ مرتد نہیں ہے بلکہ بے عمل ہے ،یا کوئی مسلمان شراب پیتا ہے یا چوری کرتا ہے ۔اسے ان دونوں گناہوں کے گناہ ہونے کا علم بھی ہے اور احساس بھی تو مرتد نہیں بلکہ بد عمل ہے ۔بے عملی اور بدعملی سے توبہ کرنا چاہئے اور ایک مسلمان کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہئے ۔
اسلامی تاریخ میں ارتداد کا پہلا واقعہ نبی ﷺ کے وصال کے فوراً بعد واقع ہوا جب ایک بستی کے لوگوں نے زکاۃ دینے سے انکار کردیا ۔اسی بنا پر خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے جنگ کی یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ اسلام کی طرف واپس آگئے ۔حضرت ابوبکر ؓ نے نہایت دانش مندی اور جرات و ہمت کے ساتھ ارتداد کا مقابلہ کیا اور اس کا سر کچل دیا،اسی زمانے میںکچھ ضعیف العقیدہ لوگ بھی مرتد ہوئے ۔
فتنہ ارتداد کے مشابہ ہی ایک فتنہ اعتزال ہے ۔عباسی دور خلافت میں اس فتنہ نے سر اٹھایا ۔اس فتنہ کو خلیفہ وقت مامون رشید کی حمایت حاصل رہی ۔اس فتنہ کے موجدین کا عقیدہ تھا کہ قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ اس کی اسی طرح مخلوق ہے جس طرح باقی مخلوقات ہیں ایک بڑی تعداد میں لوگ اس فتنہ کا شکار ہوئے ۔اس فتنہ کی مخالفت کی قیادت امام احمد بن حنبل ؒ نے کی ۔حکومت وقت نے انھیں اذیت ناک سزائیں دیں ۔مامون رشید کے انتقال کے بعد اس فتنہ کا سدباب ہوگیا۔
ہندوستان میں ارتداد کی وبا اکبر کے دور حکومت میں پھیلی ۔اس نے اپنی طرف سے ایک الگ مذہب’’ دین الٰہی‘‘ ایجاد کیا ۔جس کا شکار بہت سے حریص اور سادہ لوح مسلمان ہوگئے ۔البتہ علماء حق اور خاص طور پر مجدد الف ثانی کے عزم و ہمت کے سامنے اکبر کا خود ساختہ دین الٰہی قائم نہ رہ سکا اور معدوم ہوگیا ۔فتنہ ارتداد کی سب سے زیادہ خطر ناک مہم ’’ شدھی کرن ‘‘ کی تحریک ہے ۔اس تحریک کاقیام1923میں ہوا ۔اس کا مقصد ہندوستان میں مقیم مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانا تھا ۔اس تحریک کے بانیوں دیانند سرسوتی اور شردھانند کا نظریہ تھا کہ بھارت میں مقیم مسلمان اصلاً ہندو ہیں ۔مسلم سلطنت نے بزور قوت انھیں مسلمان کرلیا تھا ۔لہٰذا اب جب کہ مسلمانوں کی سلطنت ختم ہوگئی ہے انھیں ہندو ہوجانا چاہئے ۔اسی تحریک نے بعد میں راشٹریہ سوئم سنگھ یعنی آر ایس ایس کی شکل اختیار کی اور آج تک شدھی کرن کی یہ تحریک جاری ہے ۔ گزشتہ دس سال میں اس میں تیزی آئی ہے ۔موجودہ ارباب اقتدار نے قبول اسلام سے روکنے کے لیے تبدیلی مذہب قانون میں کئی ترامیم کی ہیں ۔البتہ اگر کوئی شخص ہندو ہونا چاہے تو وہ اسے تبدیلی مذہب نہیں تسلیم کرتی بلکہ ’’ گھر واپسی ‘‘ کے خوبصورت نام سے پکارتی ہے۔
ارتداد کی ایک لہر تقسیم ملک کے وقت دیکھنے کو ملی ۔آزادی کے بگل کے ساتھ ہی ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا اور فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہوگیااور مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔ان کی زمینوں اور جائدادوں پر قبضہ کرلیا گیا ۔بہت سے غریبوں ،کمزوروں اور بے سہارا مسلمان لالچ،خوف اور جبرو اکراہ کی وجہ سے مرتد ہوگئے۔
ارتداد کے اسباب:
ارتداد کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
اسلامی تعلیمات سے کماحقہ ناواقفیت:یہ ارتداد کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔عام طور پر جو لوگ مرتد ہوتے ہیں انھیں اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ویسی واقفیت نہیں ہوتی جیسی کہ ہونا چاہئے ۔بس وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ان کے نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں ۔وہ عقائد کی حقانیت کو نہیں سمجھتے ۔اس لیے وہ ارتداد کے ایک ہلکے سے جھونکے کو بھی برداشت نہیں کرپاتے ۔
ایمان کی کمزوری: یہ وجہ بھی دراصل پہلی وجہ کا نتیجہ ہی ہے ۔کم علمی یا عدم واقفیت ہی کمزور ایمان کا سبب ہے ۔انسان دراصل جلد باز واقع ہوا ہے ۔وہ کسی اجر اور جزا کے لیے آخرت کا انتظار نہیں کرنا چاہتا ۔اس لیے وہ کسی کے جھوٹے دلائل سے بھی مات کھاجاتا ہے اور اپنا ایمان ترک کردیتا ہے ۔
غربت: ارتداد کی ایک بڑی وجہ غربت ہے ۔حدیث میں ہے کہ فقرو فاقہ انسان کو شرک تک پہنچا دیتا ہے ۔مسلمانوں میں غربت کے ازالہ کے لیے کوئی منصوبہ بند تحریک بھی موجود نہیں ہے ۔غریبوں کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے ۔ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اگر ایمان اور اسلام فروخت کرنا پڑتا ہے تو غریب لوگ بآسانی اسلام کا سودا کردیتے ہیںکردیتے ہیں ۔وطن عزیز میں عیسائیت کے فروغ کی بڑی وجہ غربت ہی ہے ۔ جس کا شکا رایک طرف غیرمسلموں کے پسماندہ طبقات ہوئے ہیں تو دوسری طرف غریب مسلمان بھی ان کے جھانسے میں آئے ہیں ۔ موجودہ وقت میں یہی کام سنگھی تنظیمیں کررہی ہیں ۔
لالچ: ارتداد کی ایک وجہ لالچ ہے ۔ہر انسان آسائش پسند ہے ۔مال کا لالچ یا روزگار کا لالچ یا سرکاری نوکری کا لالچ انسان کو ایمان بیچنے پر آمادہ کردیتا ہے ۔
خوف: ظالم اور جابر حکمرانوں کا خوف بھی ارتداد کی ایک وجہ ہے ۔ہر دور میں کچھ کمزور دل لوگوں نے بادشاہوں کے ظلم سے بچنے کے لیے اپنا دین تیاگ دیا ہے ۔موجودہ دور میں بھی حکومت کا خوف مسلمانوں میں ارتداد کاباعث ہے ۔
ارتداد کی منظم کوششیں : ملک میں بعض تنظیمیں مسلمانوں کو دین سے پھیرنے کی منصوبہ بند کوششیں کررہی ہیں ۔اس میں خاص طور پر مسلمان لڑکیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اختلاط مردوزن کے مواقع:گمراہی اور ارتداد کی ایک وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی ہے ۔ ہر طرف عیاشیوں کو دعوت دینے والے مناظر و مواقع ہیں۔مخلوط نظام تعلیم ہے ۔دفاتر میں جوان لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ کام کرنا ہے ۔ان مقامات پر لڑکے لڑکیاں آپس میں تعارف حاصل کرتی ہیں ۔امیر زادے حسین اور غریب لڑکیوں کو اپنے فریب کا شکار بنالیتے ہیں ۔ان کو اچھی زندگی کا لالچ دے کر جنسی زیادتیاں کرتے ہیں ۔بعد میں بلیک میل کرکے بھی مذہب بدلوالیتے ہیں ۔
مسلمان لڑکوں کی بے روزگاری اور نااہلی: مسلمان لڑکیوں میں ارتداد کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلمان لڑکے ان کے ہم پلہ تعلیم یافتہ نہیں ۔وہ برسر روزگار بھی کم ہیں ۔جب کہ ہندو لڑکے جو مسلم لڑکیوں کے ہم سبق و ہم مکتب ہیں وہ تعلیم میں ان سے آگے ہیں اور ان کا مستقبل روشن ہے ۔اس سے متاثر ہوکر مسلمان لڑکیاں مرتد ہوجاتی ہیں ۔
مسلم معاشرہ میں خواتین کے حقوق کی پامالی:مسلمان اپنی خواتین کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اسلام نے انھیں عطا کیے ہیں ۔آئے دن گالم گلوچ ،مارپیٹ ،طلاق وغیرہ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔جہیز کا ناسور بھی مسلم معاشرہ میں پک رہا ہے ۔ جب آج کل کی تعلیم یافتہ بچیاں یہ سب دیکھتی ہیں تو انھیں مسلم معاشرہ جھنم محسوس ہوتا ہے اور وہ اسلام سے نفرت کرنے لگتی ہیں ۔اس طرح بآسانی اور برضاو رغبت غیر مذہب قبول کرلیتی ہیں ۔
حکومت کی سرپرستی:ایک بڑی وجہ ارتداد کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہونا ہے ۔اگر کوئی مسلم لڑکی یا لڑکا ہندو مذہب اختیار کرتا ہے تو حکومت اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور انھیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتی ہے ۔
اس صورت حال پر مسلمانوں کی تنظیمیں ان کے رہنما اور علماء وغیرہ فکر مند تو ہیں مگر اس کے تدارک کے ٹھوس اقدامات کا فقدان ہے ۔ایک صدی قبل علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔:’’ ایک مسلمان کا مرتد ہوجانا بھی مسلمانوں کے لیے ہلاکت کبریٰ ہے ۔آنے والے زمانے میں مسلم عورتوں کا ارتداد بہت مہلک ہوگا ۔معاذ اللہ معاذ اللہ‘‘ظاہر ہے ایک عورت کا ارتداد ایک خاندان کا ارتداد ہے ۔سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟
تدارک اور علاج:
میری رائے ہے کہ مسلمان گھروں میں خواتین کو اسلامی حقوق دیے جائیں ۔پسند و ناپسند کا جو اختیار اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے وہ انھیں عطا کیا جائے۔ اسلامی تعلیم کے لیے شبینہ و صباحی اسکول قائم کیے جائیں اور اس میں صرف دینی تعلیم کے رسالے،بہار شریعت اور بہشتی زیور کی تعلیم پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ موجودہ زمانے کے چیلنجزکو سامنے رکھ کر اسلامی تعلیمات پر مبنی نصاب تعلیم ترتیب دیا جائے جس کو پڑھ کر مسلمان خواتین اور مسلمان مرد وں کے عقائد مستحکم ہوں ،ان کو عقلی طور پر اسلام پر اطمینان حاصل ہو۔مخلوط نظام تعلیم سے بچانے کے لیے لڑکیوں کے اسکول اور کالج قائم کیے جائیں ،مسلمانوں میں غربت کے ازالہ کے لیے نظام زکاۃ کو نبوی نہج پر منظم کیا جائے ۔ہر بستی میں مصلحین کی ایک جماعت بنائی جائے جو مسلمانوں کی معاشرت پر گہری نظر رکھے اور بوقت ضرورت افہام وتفہیم اور تدارک اسباب ارتداد کا کام انجام دے ۔مسلمان لڑکوں کو برسر روزگار کیا جائے ۔ان کی اخلاقی اور دینی تربیت کی جائے انھیں سماج اور ملک کے لیے خیرو فلاح کا ضامن بنایا جائے ۔اسی کے ساتھ ملک میں دعوتی کاموں کو منظم کیا جائے تاکہ ان لوگوں کو جہنم میں جانے سے روکا جائے جو خود بھی اس کی جانب دوڑے جارہے ہیں اور دوسروں کو بھی ہنکائے لے جارہے ہیں۔
