نئی دہلی: مغربی دہلی میں واقع اقرا انٹرنیشنل اسکول میں۷۸؍ویں یوم آزادی کی مناسبت سے رنگارنگ اور پرشکوہ پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں علاقہ کے بہت سے موقر علمی، سماجی، سیاسی اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر سب سے پہلے اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی کے ہاتھوں پرچم کشائی کا عمل انجام پایا، بعد ازاں، اقرا انٹرنیشنل اسکول کے طلبہ و طالبات نے بہترین علمی اور ثقافتی پروگرام پیش کئے جسے حاضرین نے خوب خوب پسند کیا، بچوں کے بہترمستقبل کے لئے دعائیں دی، نیز اساتذہ و اسکول کے ذمہ داران کی ستائش کی۔
پروگرام کی ابتدا پانچویں کلاس کی طالبہ ہادیہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کا اردو اور انگریزی ترجمہ پانچویں کلاس ہی کی دو طالبات مسکان اور مائرہ نے پیش کیا۔ حدیث عفت زارانے پیش کیا جس کا انگریزی ترجمہ ذکریٰ قریشی نے پیش کیا۔عدنان سعید اینڈ گروپ نے حاضرین کے سامنے ویلکم سونگ پرنہایت ہی اچھوتے انداز میں پرفارم کیا، پھر دسویں کلاس کی شیزہ زاہد، صاعقہ ہدی اور سنبل نے بالترتیب انگلش، اردو اور ہندی زبانوں میں تقاریر پیش کئے جس میں آزادی کے معانی و مفاہیم اور تقاضے کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا اور مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سمیہ ارشاد اور گروپ نے عربی زبان میں ایک بہت ہی خوبصورت انشودہ ’’وطنی احلی الاوطان‘‘ (میرا وطن سب سے پیارا وطن) پڑھا،دسویں کلاس کی رقیہ ارشاد نے ’’وطنی نشاتُ فیہ‘‘(میرا وطن جہاں میں پروان چڑھا) عربی نظم نہایت ہی مترنم آواز میں گنگنایا، پانچویں کلاس کے طلبہ نے ہندوستانی فولادی فوج کو خراج عقیدت پر مبنی ایک انتہائی عمدہ پروگرام پیش کیا جس پر تمام حاضرین نے دل کھول کر مبارک باد دی اور کھڑے ہوکر بچوں کی ستائش کی۔ اس پروگرام میں واہبہ اور گروپ نے قومی ترانہ اور آٹھویں کلاس کی طالبات اریشہ اعجازاور گروپ نے ترانہ ہندی سارے جہاں سے اچھا پیش کیا۔عمرہ ضیاء اینڈ گروپ نے وومن امپارنمنٹ کے عنوان سے ایک بہت ہی علمی مکالمہ پیش کیا۔
اس موقع پر حافظ محمد سلیم معروف سماجی کارکن نے طلبہ اور گارجین سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ و طالبات کی کارکردگی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج سے بارہ سال قبل یہ اسکول قائم ہوا تھا، مولانا محمد اظہر مدنی اور ان کے رفقائے کار لائق مبارک باد ہیں کہ انہوں نے اس مدت میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے جو کہ بچوں کے پروگرام سے مترشح ہورہا ہے۔
معروف سماجی کارکن شیامل کشور جی نے جشن آزادی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمداظہر مدنی تعلیم کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ ایک متحرک اور فعال انسان ہیں اور اسکول کے پروگراموں میں ان کی محنت صاف صاف جھلک رہی ہے۔
کشور جی نے مزید کہا کہ اقرا اسکول کے طلبہ و طالبات کے ذریعہ پیش کردہ پروگرام بہت معنیٰ خیز اور اہم ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اساتذہ و معلمات نسل نو میں وطن پریم اور وطن کی تعمیر و ترقی میں نسل نو کے کردار سے متعلق ضروری چیزوں کی تعلیم دے رہے ہیں تبھی ہمارے یہ ننہے منہے بچے اس قدر اہم اور قابل قدر کارنامہ انجام دے رہے ہیں اور فکر وطن کی اس بلندی پر فائز ہیں۔
اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے یوم آزادی کی مناسبت سے تمام حاضرین کو پرخلوص مبارک باد پیش کی اور کہا کہ یہ نعمت آزادی ہمیں بڑی جدوجہد اور انتھک محنتوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، ہمارے آباء و اجداد نے اس آزادی کے لئے بھاری قیمت چکائی ہے اوروطن عزیز کی آزادی کے لئے ہندو مسلم سکھ عیسائی تمام مذاہب کے لوگوں نے یکساں طور پر کوششیں کی ہیں، ہمارے علمائے کرام نے اس سلسلے میں مثالی قربانیاں پیش کی ہیں، چنانچہ ۱۸۵۷؁ء میں اٹھنے والی متفقہ جدوجہد و جہاد آزادی جسے غدر و بغاوت کا نام دیا گیا وہ پہلی تحریک آزادی تحریک شہیدین کی کاوشوںاورعلمائے صادق پور کی بیش بہا قربانیوں کا نتیجہ ہے اور یہ سب تاریخ ہند میں آبِ زر سے لکھی ہوئی ہیں۔
مولانا نے مزید کہا کہ اس آزادی کی ہمیں قدر کرنی چاہئے اور وطن عزیزکی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ دیش ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ وطن عزیز کی تہذیب گنگا جمنی ہے جس کو ہرحالت میں باقی رکھنے کی مخلصانہ ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں اپنے اندر برداشت کی خو پیدا کرنی ہوگی اور اسلاف کرام نے جس طرح اس کی آزادی کے لئے خون کا قطرہ قطرہ بہادیا ہم کم از کم اپنا پسینہ بہاکر اس کی آبیاری کریں۔
ڈائریکٹر موصوف نے اسکول کے بچوں کے ذریعہ پیش کئے گئے پروگرام کی ستائش کی اور کہا کہ بچوں نے پروگرام کو جس عمدہ انداز میں پیش کیا ہے یقینا وہ لائق تعریف ہے اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ بچیاور اساتذہ محنت و لگن سے کام لے رہے ہیں لیکن طلبہ و طالبات کو کامیابی کے لئے محنت پیہم اور جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔
پروگرام کے اخیر میں مولانا محمد رئیس فیضی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگ اپنے محبوب ادارہ کے پروگرام میں ہمیشہ شریک ہوتے ہیں اور اسکول سے اپنے لگاو? کا اظہار کرتے ہیں اس کے لئے آپ لائق مبارک باد ہیں، آپ کا یہ دیرینہ لگاؤبحال رہنا چاہئے۔ مولانا نے اسکولی طلبہ و طالبات کے پروگراموں کو دل کھول کر سراہا۔
پروگرام میں جن معزز شخصیات نے شرکت کی ان میں محمد نسیم فیضی، عبدالمومن سنابلی، ذبیح اللہ ریاضی، محمد ارشاد ریاضی، محمد رضوان، علاء الدین، قاری عبدالرحمن ثاقبی، مولانا محمد عرفان تیمی، ماسٹر اشفاق احمد، سعیدالرحمن نورالعین سنابلی، محمداسد ریاضی، عبدالقادر سلفی، عبداللہ سلفی،شاہانہ تبسم، مہوش خان، صبحی خان اور شہلا قمر وغیرہم اہم اور قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ اسکول کے طلبہ و طالبات کے والدین اور گارجینس کی ایک بڑی تعداد پروگرام میں شریک رہی۔
پروگرام میں نظامت کے فرائض دسویں کلاس کی دو طالبات آفرین اور رقیہ نے بالترتیب انگلش اور اردو میں انجام دیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے