بیدر۔ 28؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): سال 1992 میں دستور ہند میں 73 ویں ترمیم کے ساتھ پنچایت راج کا نفاذ عمل میں آیا تھا۔اس کے تحت عوام کی بنیادی مسائل کا حل آسانی سے نکالے جانے کی امیدیں بڑھ گئیں۔پنچایت راج کے لئے باقاعدہ بجٹ ہوتا ہے،اس سے گاؤں کی ترقی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔سڑک،پینے کا پانی،لائٹ،جانورں کی پرورش،خواتین کا تحفظ،انسانی ہمدردی، امن و امان اور حقوق کی ادائیگی پر زور دیا جاتا ہے۔
کرناٹکا میں پنچایت راج قائم ہے۔ اس کے کل ممبران کی تعداد 89ہزار ہے۔ان ممبران میں مختلف طبقات کے لوگ شامل ہیں۔مسلمانوں کی کل آبادی 90لاکھ تک ہوگی۔ پنچایت میں منتخب ہونے والے مسلمانوں کی تعداد4500 ہے۔ان میں 500ممبران پنچایت کے صدر ہیں یا نائب صدر ہیں۔اگر فی فرد اوسطاً 350ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیہیں تو،اس کا مطلب یہ ہوا کہ 15لاکھ 75ہزار ووٹ انہوں نے حاصل کئے۔تھوڑا غور کرکے دیکھئے ہم نے ان منتخب ہونے والے لوگوں کی ناقدری کی، نہ پنچایت میں منتخب ہونے والے بھائیوں کو بلایا اور نہ ہی ہمت افزائی کی۔منتخب ہونے کے بعد مقامی ایم ایل اے ضرورتاً کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں،واضح رہے کہ گرام پنچایت کے انتخابات پارٹی کے نام پر نہیں ہوتے۔
کرناٹکا میں 2023 کے اسمبلی انتخابات میں 9 مسلمان منتخب ہوئے۔انہوں نے 6لاکھ 77ہزار ووٹ حاصل کئے۔تعلقہ پنچایت،ضلع پنچایت،میونسپلٹی، کارپوریشن میں کامیاب ہونے والوں کی فہرست الگ سے ہے۔جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے سیکریٹری محمد یوسف کنی کی رائچور آمد پر پنچایت ممبران کے ساتھ ایک نشست منعقد ہوئی۔ لیڈر شپ ڈیولپمنٹ پر انجینئر حبیب اللہ خان نائب صدر ڈبلیو پی آئی کرناٹکا نے اظہار خیال کیا۔انہوں نے کہاکہ آپ سب ہمارے لیڈر ہیں،فرقہ پرستی کے دور میں منتخب ہونے والوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے،فرقہ پرستی بڑے شہروں میں تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے،مگر دیہات اب بھی اس سے محفوظ ہیں۔حبیب اللہ خان نے زور دیکر کہا کہ آپ اپنے وارڈ میں سب کی خدمت کریں،پیار اور بھائی چارہ کو فروغ دیں۔تبادلۂ خیال کے لئے موقع رہا۔اختتامی خطاب میں سیکریٹری حلقہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں،آپ مسلمان ہیں سب کے ساتھ اچھا سلوک کریں،جو بجٹ آپ کے حصے میں آتا ہے،اس کا صحیح استعمال ہو،رشوت کے لین دین سے پرہیز کریں۔حق اور انصاف کی بات کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے علاقہ میں کسی پر بھی ظلم و استحصال،ناروا سلوک ہوتا ہے تو آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں،اخباری بیان دیں اور لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
رائچور کے امیر مقامی جناب محمد عاصم الدین اختر،ناظم ضلع جناب محمد جاوید منیار موجود تھے ۔جناب عبدالصمد صاحب نے کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری نبھائی۔ایک چھوٹی سی کوشش سے پنچایت کے ممبران بہت خوش تھے۔ان کے اندر یہ احساس جاگ اٹھا کہ ہم سب کو مل جل کر انسانوں کی خدمت انجام دینا چاہئے۔ان کی گزارش تھی کہ جماعت ہماری تربیت کرے۔اس موقع پر ملت اسلامیہ کی اہم شخصیات،دانش وران، تنظیمیں اور مساجد کے ذمہ داران سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنے اپنے علاقہ کے پنچایت ممبران سے ملاقاتیں کریں اور ان کی ہمت افزائی فرمائیں۔
