مظفر پور 30/اگست(پریس ریلیز): وقف ایکٹ کی مجوزہ ترمیمات جسے مرکزی حکومت نے 8/اگست کو پارلیمنٹ میں پیش کیا اور اب وہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے زیر غور ہے۔اپنی مشمولات کے اعتبار سے دستور ہند میں دیے گئے مذہبی آزادی اور بنیادی حق کے خلاف ہے۔

اس بل میں کہنے کو تو چوالیس ترمیمات ہیں،لیکن اصلا ایک سو سنتاون ترمیمات ہیں ،جو وقف کی شرعی اور دستوری حیثیت کو ختم کرنے، بورڈ کے اختیارات کو محدود کرنے اور وقف کونسل ،ریاستی وقف بورڈ سے مسلمانوں کو بے دخل کر نے کے لیے لاۓ گئے ہیں حکومت کی منشاء یہ ہے کہ اوقاف سے متعلق تمام اختیارات کلکٹر کو منتقل کر دیے جائیں، اوقاف کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جاۓ تاکہ حکومت اوقاف کی جائداد کو اپنی مرضی کے مطابق خرد برد کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی امارت شرعیہ کے نائب ناظم، اردو میڈیا فورم اور کاروان ادب کے صدر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے کیا، وہ جامع مسجد کمپنی باغ میں جمعہ سے قبل مسلمانوں کے بڑے اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے وقف ایکٹ میں ترمیمات کے بارےمیں عوام اور تنظیموں سے راۓ مانگی ہے۔ یہ آراء پندرہ دن کے اندر انگریزی یا ہندی میں جے پی سی کی جانب سے فراہم کردہ میل پر ارسال کرنی ہے،مفتی صاحب نے فرمایا کہ اپنی زمینوں کے ساتھ قبرستان مساجد وغیرہ کی زمینوں کا بھی سروے کرائیں تاکہ وہ بہار سرکار غیر مزر و عہ ہونے سے بچ سکے۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم اور ہدایت پر خدام امارت شرعیہ جن میں سے کئی آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے رکن ہیں تحفظ اوقاف کی مہم میں مصروف ہیں۔معلوم ذرائع کے مطابق اس سلسلہ کی ایک میٹنگ اتوار کے روز یکم ستمبر کو مظفر پور میں کچی سراۓ کی مسجد میں 10بجے دن میں رکھی گئی ہے، سمستی پور میں تین مٹینگ 31/اگست کو اور حاجی پور ویشالی میں 2/ستمبر کو بعد نماز مغرب منعقد ہوگی، جس میں مفتی ثناء الہدی قاسمی کا وقف کے موضوع پر بصیرت افروز خطاب ہوگا۔

آخری پروگرام 15/ستمبر کو باپو مہا سبھا گار نزد گاندھی میدان پٹنہ میں ہوگا۔بعد نماز جمعہ مفتی صاحب کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے