نئی دہلی: عزیز آزاد لٹریری سوسائٹی، بیکانیر کے زیر اہتمام دہلی کے غالب اکیڈمی میں ۲۹؍ اگست ۲۰۲۴ء کی رات دبئی کے مہمان سید صلاح الدین کے اعزاز میں استقبالیہ اور عالمی مشاعرہ کااہتما کیا گیا جس کی صدارت اردو اکادمی دہلی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہ جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر معروف شاعر اور اردو اکادمی کے سابق وائس چیرمین ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی نے شرکت کی۔

سکریٹری سوسائٹی عزیز آزاد نے مہمانوں کا پھول اور گلدستے پیش کر کے استقبال کیا۔عبد الجبار جذبی کے شعری مجموعہ ’’جذبات یہ میرے‘‘ کا رسم اجراء بھی کیا گیا۔ اس موقع پر سید صلاح الدین کو قومی یکجہتی ایوارڈ ، ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی کو آبروئے غزل ایوارڈ، ریاض ساغر کو شانِ نظامت ایوارڈ، شہپر رسول کو فخرِ اردو ایوارڈ کے علاوہ ملک زادہ جاوید،شویتا سنگھ( ماسکہ)،رینو حسین،ڈاکٹر یوجنا جین( جرمنی) وغیرہ کو مومنٹو بھی پیش کئے گئے۔

مہمان سید صلاح الدین نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ دبئی میں وہ گزشتہ ۲۸ سالوں سے جشن ہندستان کوی سمیلن اور مشاعرہ منعقد کرتے چلے آ رہے ہیں جس میں ہندستان کے بیشتر شعرا شرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے چراغ نہ صرف ہندستان میں بلکہ پوری دنیا میں روشن ہیں جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔شہپر رسول اور ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی نے اردو اور مشاعروں کی تہذیب کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی نے ادبی تنظیم ’’میزان‘‘ کی جانب سے سید صلاح الدین کی خدمت میں شال اور اپنی نثر کی نئی کتاب’’ میری کاوشیں‘‘ پیش کی۔

بعد ازاں عالمی مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر ماجدؔ یوبندی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ریاض ساغر نے انجام دیے۔مشاعرے میں بڑی تعداد میں اردو نواز سامعین نے شرکت کی اور آخیر تک موجود رہے۔پروگرام کے انعقاد میں زاکر آزاد، سانجے جین، عبد الجبار جذبی اور محمد اظہار کا اہم رول رہا۔ جن شعراء نے کلام پیش کیا ان میں شہپر رسول، ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی، ارشاد آزاد،عبد الرحمان منصور، اجے عکس، وسیم جہانگیر آبادی،سنجیو نگم، سنجے ورن،عمران قیس،ابراہیم علی،شیلجا سنگھ، سرتا جین ،رینو حسین وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے