تحریر: ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
رمضان المبارک کے عشرئہ اخیرہ یعنی آخری دس دنوں کی اہمیت وخصوصیت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ بتادینا کافی ہوگا کہ یہ عشرہ، ماہ مبارک کے دوسرے ایام پر اسی طرح فضیلت رکھتا ہے ، جس طرح یہ خود سال کے دوسرے مہینوں پر۔ گویا یہ رمضان کا خلاصہ اور اس کا لب لباب ہے ،جوکہ امتیازی الہی خصوصیات کا حامل اور عبادات کے اجروثواب میں کئی گنا اضافے کا مخزن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان آخری دنوں دس دنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یکسر تبدیل ہو جایا کرتا تھا ۔
آئیے ! آئندہ سطور میںعشرئہ اخیرہ کی خصوصیات اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات جاننے کی کوشش کرتے ہیں؛ تاکہ ہمیں بھی ان کے طریقے کے مطابق ان ایام کی قدر دانی کی توفیق ملے اور ہم ان خوش بختوں میں شامل ہوجائیں ،جن کے لیے رب کریم نے اس مہینے کی رحمتوں اور برکتوں کا وافر حصہ مخصوص فرمایاہے:
۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غیرمعمولی اہتمام : صحیحین میں وارد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بابرکت مہینے کی بیس تاریخ تک راتوں کو عبادات میں بھی مشغول رہا کرتے تھے اور سوتے بھی تھے، لیکن آخری عشرہ آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل شب بیداری کے لیے تیار ہوجاتے تھے اور عبادت وریاضت کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح فارغ کر لیا کرتے تھے ۔ ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جتنی محنت وجاں کاہی سے ان آخری دس ایام میں کام لیا کرتے تھے، رمضان کے دوسرے ایام میں نہیں دیکھے گئے (مسلم)۔ ایک دوسری روایت میں بیان کرتی ہیں کہ عشرئہ اخیرہ کی شروعات ہوتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پورے طور پرکمر بستہ ہوجایا کرتے تھے،پوری رات عبادت میںمشغول رہا کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کوبھی جگا کر اس کی ترغیب دیا کرتے تھے (متفق علیہ)۔
ان احادیث سے واضح ہے کہ یہ ایام اپنی فضیلت و رفعت اور انعامات کی بہتات وکثرت میں لاثانی ہیں اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا طاعت وعبادت میں انہماک، جہاں ایک طرف چشمہ رحمت سے فیض یابی کے لیے تھا، وہیں امت کے لیے رہ نمائی کا سبق اور جذبہ ہم دردی کا پرتو بھی تھا کہ اگر تم نے ان دنوں کی قدرو قیمت جان کر بھر پور فائدہ اٹھانے کی سعی کی ، تو واقعی تم نے برکت والے مہینے کا حق ادا کیا اور کام یاب بامراد ہوئے؛ ورنہ ان کم نصیبوں میں ِشمار ہوگا جن کے لیے محرومی مقدر ہے۔
احادیث کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مشغولیت وجاں فشانی صرف ایک قسم کی عبادت مثلا نماز کے لیے خاص نہیں تھی؛ بل کہ مختلف اقسام کو شامل تھی، چاہے وہ نماز ہو یا تلاوت ، ذکر ہو یاسخاوت، دعا ہو یا انابت،تعلیم ہو یا نصیحت،حتی کہ ان عبادات کے لیے تیاری اور سحری کے لیے فراغت بھی اس میں داخل ہے؛ جبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالاحدیث جس میں پوری رات عبادت کا ذکر ہے اور مسلم کی اس روایت میں مطابقت ہو سکے گی جس میں خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ میں نے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رات بھر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
۲۔ عشرئہ اخیرہ میں اعتکاف کی سنت: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کو اپنا معمول بنا رکھا تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی آپ کے ساتھ اور آپ کے بعد اسی پر عمل تھا۔ تمام علائق دنیا سے یکسو ہوکرمحض رب غفور کی رضامندی کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لینا، نہ صرف ترقی درجات کا زینہ ہے، بل کہ طاعت وبندگی کا خوگر بنانے کے لیے ماہ مبارک میں ٹریننگ کورس کا اہم باب ہے۔ ایک بار پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی، جوکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات زندگی کا بنظر غائر مطالعہ کرنے ، ذہن میں محفوظ رکھنے اور امت تک منتقل کرنے کا بہترین رکارڈ رکھتی ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے عشرئہ اخیرہ کا اعتکاف اپنی وفات تک جاری رکھا اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اس پر عامل رہیں (متفق علیہ)۔
احادیث سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ازواج مطہرات مسجدہی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں؛چناں چہ ایک بار جب آپ نے یہ محسوس کیا کئی بیویوں نے اپنے خیمے لگوا ئے ہیں اور اصل سبب عبادت کے بجائے غیرت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے خیمے اکھڑ وادئے اور خودبھی اعتکاف ترک کردیا اور اس کی تلافی شوال کے پہلے عشرے میں کی (البخاری ومسلم)۔قرآن کریم میں بھی جس آیت میں بحالت اعتکاف مباشرت سے ممانعت کی گئی ہے، اس میں مساجد کی قیدلگائی گئی ہے، فرمان الہی ہے: ’’ وَ لااَا تُبَاشِرُوْہُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰکِفُوْنَلا فِی الْمَسٰجِدِ‘‘ (البقرۃ:۱۸۷)، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اعتکاف کی جگہ مسجد ہی ہے ورنہ اگر مسجد کے علاوہ اعتکاف صحیح ہوتا تو مباشرت کی حرمت بتانے کے لیے مساجد کی قید کی ضرورت نہیں تھی؛ کیوں کہ اعتکاف کی حالت میںاس کی حرمت میں کوئی کوئی کلام نہیں۔ اعتکاف کا مطلب ہی ہے کہ تمام دنیوی معاملات اور نفسانی خواہشات سے ناطہ توڑ کر رضائے الہی کی طلب میں مسجد کا ہوکر رہ جائے، حتی کہ دنیوی گفتگو سے بھی احتراز کرے اور اپنا وقت ذکر وعبادت ، تلاوت وتدبراور مناجات رب میں صرف کرے۔ اعتکاف کے دوران فطری اور شرعی ضرورت ،جیسے قضائے حاجت ، وضوء وغسل اور کھانے پینے ، کے لیے بھی مسجد سے صرف اس صورت میں نکلنے کی اجازت ہے جب مسجد کے حدود میں ان ضرورتوں کو پوری کرنے کی سہولت نہ ہو، یہاں تک کہ نفلی نیکیوں کے لیے بھی اعتکاف کرنے والا نہیں نکل سکتا الا یہ اس نے ابتداء ہی میں اس کی نیت کرلی ہو ، کی جیسے کہ کسی وفات کا خطرہ ہو یا کسی مریض کی عیادت کا ارادہ ہوتو اسے چاہیے کہ جنازے میں حاضری یا عیادت کا استثناء اعتکاف شروع کرنے سے پہلے کرلے۔
۳۔ عشرئہ اخیرہ ہی میں لیلۃ القدر: جس طرح عشرئہ اخیرہ رمضان المبارک کا عطر ہے ، اسی طرح لیلۃ القدران آخری دس دنوں کی معراج ہے۔ بل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری محنت ، اہتمام و اعتکاف کا محور شب قدر ہی تھی ، اسی کو پانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری کیا کرتے اور اعتکاف کی مشقت برداشت کرتے تھے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ اللہ تعالی نے اس رات کوجو عظمت وبڑائی عطا کی ہے ، شرف وعزت کا جو مقام بخشا ہے اور رحمت وبرکت کی جن بے پایہ نعمتوں سے نوازا ہے، اس کا حق بنتا ہے کہ بندہ مؤمن اس کی باد بہاری سے فیض یاب ہونے کے لیے تن من دھن کی بازی لگادے اوراسے اپنی عمر عزیز کے انمول لمحات مانتے ہوئے خود سے بے خبر ہوکر صرف رب رحیم کی قربت کا شیدائی بن جائے کہ اس ایک رات میں تقرب الہی اور رضائے خداوندی کی وہ مسافت طے کرسکتا ہے جو ایک ہزار رات میں بھی ممکن نہیں ہے، جیساکہ قرآن کریم کی اس سورہ میں شہادت ہے جو کہ اسی پرنوروبارونق رات کے فضائل ومناقب میں اللہ سبحانہ وتعالی نے اتاری ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ’’ لَیْلَۃُ الْقَدْرِلا۵ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ(القدر:۳) (شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے )۔اسی بنیاد پر حدیث میں نبوی میں بشارت سنائی گئی ہے کہ جو شخص شب قدر کو، ایمان اور اجروثواب کی امید کے ساتھ نوافل سے معمور کرے گا، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردئے جائیں گے ۔ حق تو یہ ہے ہر صاحب ایمان عشرئہ اخیرہ کی ابتداء پوری سورئہ قدرکے مطالعے اور ا س کے معانی میں تفکرو تدبر سے کرے؛ تاکہ اس پرعظمت رات کی عظمت کا درس دل میں تازہ ہوجائے اور جذبہ عمل کو نئی طاقت وقوت اور جذبات واحساسات کو مطلوبہ انرجی فراہم ہو ۔
لہذا اس سورت کے مشمولات پر مزید گفتگو کے بجائے ،میں ان بعض احادیث کا ذکر کرنا چاہوں گا جن سے ہمیں رہ نمائی ملتی ہے کہ ہم شب قدر کی شکل میںعطا کردہ بیش بہا تحفہ ربانی کو کب پا سکتے ہیں؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک متفق علیہ حدیث میں اس رات کو عشرئہ اخیرہ میں تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے اوربخاری کی ایک حدیث میں ، اسے طاق راتوں میں ڈھونڈھنے کی ترغیب دی ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک متفق علیہ حدیث میں آخری سات راتوں میں پانے کی جد وجہد پر اکسایاہے؛ بل کہ مسلم کی ایک روایت میں تاکید فرمائی ہے کہ لیلۃ القدر عشرئہ اخیرہ میں تلاش کرو، لیکن اگر شروعات میں کسی وجہ سے اس پر عمل نہ کر سکوتو آخری سات راتوں میں ہرگز ہرگز کوتاہی نہ کرو۔
ان احادیث کی روشنی میں یہ تو یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ شب قدر عشرئہ اخیرہ کی کوئی مخصوص رات نہیں ہے، بل کہ سال بہ سال بدلتی رہتی ہے اور طاق راتوں میں سے کسی رات میں واقع ہوتی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آخری سات دنوںکی طاق راتوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اپنی رائے کا اظہار یوں فرمایا ہے کہ راجح قول یہی ہے کہ یہ رات عشرئہ اخیرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے اور بدلتی رہتی ہے ۔
اللہ تعالی نے اس شرف ومنزلت والی رات کو ہم سے اس وجہ سے مخفی رکھا ہے کہ ہم صرف اس رات کو عبادت وطاعت کی محنت کے لیے مخصوص نہ کریں، بل کہ پورے عشرئہ اخیرہ کو غنیمت جان کر سرخ روئی اور دنیا وآخرت کی کام یابی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی بات ختم کرنے پہلے اس دعا کا ذکرکردینا ضروری سمجھتا ہوں جس کی تلقین ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا تھا جب انہوں نے دریافت کیا تھا کہ شب قدر میں ، میں کس دعا کا اہتمام کروں، تو آپ نے فرمایا تھا: ’’ اللہمّ إنّک عفّو تحبّ العفو، فاعف عنّی‘‘ (اے اللہ! تو عفو ودرگذرکرنے والا ہے، معافی اور اشک شوئی کو پسند کرتا ہے؛ لہذا اپنے دامن عفو وکرم میں جگہ عطا فرما)۔
اللہ تعالی ہمیں کماحقہ ان آخری مبارک ایام کی قدر کرنے اور ان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق سے نوازے۔ آمین۔
