نعت پاک

اپریل 13, 2023
محمد زاہد رضا بنارسی
شباب آتا ہے غنچوں پر تو گل بیدار ہوتے ہیں
نگاہ لطف آقا سے چمن تیار ہوتے ہیں
محبت سچی ہوتی ہے تو یہ آثار ہوتے ہیں
یہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں سرکار ہوتے ہیں
سفر ہوتاہےآساں راستےہموارہوتےہیں
کجا کشتی مصلے پر دیوانے پار ہوتے ہیں
تمنا،آرزو،خواہش ،امیدیں چھوڑ دے ناداں
وہاں کی راہ لے سپنے جہاں ساکار ہوتے ہیں
غرور شہر یاری میں سمجھ پایا نہ وہ جن کو
وہ فاتح نفس کے خود زہد کا معیار ہوتے ہیں
وہ جن کا دیکھنا اور بولنا بھی ہو جہاد اکثر
وہی ملت کے ایک دن حاشیہ بردار  ہوتے  ہیں
ملائک اس کی قسمت پر اے "زاہد” رشک کرتے ہیں
دیار مصطفےٰ کے جو بھی چوکیدار ہوتے ہیں

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے