محمد زاہد رضا بنارسی
شباب آتا ہے غنچوں پر تو گل بیدار ہوتے ہیں
نگاہ لطف آقا سے چمن تیار ہوتے ہیں
محبت سچی ہوتی ہے تو یہ آثار ہوتے ہیں
یہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں سرکار ہوتے ہیں
سفر ہوتاہےآساں راستےہموارہوتےہیں
کجا کشتی مصلے پر دیوانے پار ہوتے ہیں
تمنا،آرزو،خواہش ،امیدیں چھوڑ دے ناداں
وہاں کی راہ لے سپنے جہاں ساکار ہوتے ہیں
غرور شہر یاری میں سمجھ پایا نہ وہ جن کو
وہ فاتح نفس کے خود زہد کا معیار ہوتے ہیں
وہ جن کا دیکھنا اور بولنا بھی ہو جہاد اکثر
وہی ملت کے ایک دن حاشیہ بردار ہوتے ہیں
ملائک اس کی قسمت پر اے "زاہد” رشک کرتے ہیں
دیار مصطفےٰ کے جو بھی چوکیدار ہوتے ہیں
