از قلم: محمد نفیس القادری امجدی
عزیزان وطن! ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل ہوئی۔ اس جنگ آزادی میں علمائے کرام نے سب سے زیادہ حصہ لیا۔ ان مجاہدین علماء کرام کی جماعت میں حضرت علامہ کفایت علی کافی مرادآبادی علیہ الرحمہ کا نام سرفہرست شامل ہے۔ حضرت علامہ سید کفایت علی کافیؔ مرادآبادی انقلاب ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف سینہ سپر تھے اور مرادآباد میں چلنے والی تحریک حریت کے قائدین میں پیش پیش تھے۔
حضرت علامہ سید کفایت علی کافیؔ علیہ الرحمہ کو فخرالدین کلال کی مخبری سے انگریزوں نے گرفتار کر لیا۔ سزاؤں کا اذیت ناک مرحلہ شروع ہوا۔ جسم پر گرم گرم استری پھیری گئی۔ زخموں پرنمک مرچ چھڑکا گیا۔ مذہب اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا۔ جب اس مردِ مجاہد سے انگریز مایوس ہو چکے تھے تو برسرِ عام چوک مرادآباد میں اس عاشقِ رسول کو تختۂ دار پر لجایا جا رہا تھا۔تو تختہ دار پر چڑھنے سے قبل حضرت علامہ سید کفایت علی کافی مرادآبادی علیہ الرحمہ کے جسم پر گرم استری پھیری گئ ، زخم نمک سے بھر دیئے گئے اور 22 رمضان المبارک1274ھ/6 مئی 1858ء کو مرادآباد کے ایک چوک پر مجمع عام کے سامنے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس وقت وجد و شوق سے آپ کی زبان پر نعت مصطفیٰ ﷺ کے یہ اشعار گنگنا رہے تھے:
کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا۔
ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا۔
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں ہو تم
اس تن بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا۔
نام شاہان جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشان پنجتن رہ جائے گا۔
جو پڑھے گا صاحب لو لاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا۔
سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک
نعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا۔
(تاریخ جدوجہد آزادی، سید محبوب حسین سبزواری، ص144/علما وقائدین جنگِ آزادی1857ء، یٰسٓ اختر مصباحی،دارالقلم دہلی2010ء، ص25۔26/خطبات اسلام،ص۲۳۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار سہ ماہی مجلہ عرفان رضا مرادآباد کے مدیر اعلی اور جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیا معافی کے پرنسپل اور اعلی حضرت جامع مسجد منڈیا گنوں، سہالی کھدر، مرادآباد، یوپی، الہند کے امام وخطیب ہیں۔

