محمد وصی الدین مہراجگنجی
متعلم مدرسہ نور العلوم مدھولیا، نیپال
رمضان المبارک کا مہینہ بڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت ہوا چاہ رہا ہے پہلے عشرے میں رحمتوں کو بکھیر کر دوسرے میں مغفرت کی صدائیں لگا کر تیسرے میں داخل ہوکر جہنم سے آزادی کا پروانہ تقسیم کر رہا ہے لیلۃ القدر کی خوش خبری سنا رہا ہے مگر!!! کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے اسلامی بھائی اس سلسلے میں کوتاہی برتتے نظر آرہے ہیں راتوں میں جاگنے کے بجائے دکانوں کی زینت بنتے جارہے ہیں پوری پوری رات عید کی تیاریوں میں مشغول ہیں اور زیادہ تر توروزے رکھنے سے بھی کترا رہے ہیں ۔ اس عشرے میں موسم کی شدت اور دھوپ کی تمازت زوروں پر ہے حالانکہ یہی امتحان کی اصل گھڑی ہے اور لوگ اس سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں مساجد بھی رفتہ رفتہ خالی ہورہی ہیں سورہ تراویح میں بھی بہت کم لوگ شامل ہورہے ہیں اور جو شامل ہوتے ہیں وہ یہ چاہ رہے ہیں کہ دس منٹ میں ختم ہوجائے بھلا بتلائیے رب تعالی نار جحیم سے آزاد کرنے کا خواہاں ہے اور بندے ہیں کہ مانتے نہیں جبکہ چائے خانوں پر بارہ بجے رات تک گپ شپ میں گزار دینے کو تیار ہیں اور عبادت سے وحشت محسوس کررہے ہیں طرفہ اور تماشا یہ کہ اللہ تعالی کی نصرت اور مدد کےبھی متمنی ہیں کیا حیرت کی بات ہے ادھر رب کی نافرمانی ادھر رحمت خداوندی کے امید آج کل اکثر مسلمانوں کا یہی حال ہے۔
اللہ ہم سب کو رمضان کے اخیر عشرہ کی قدر دانی کرنے والا بنائے آمین۔
