امرڈوبھا میں منعقد عید ملن تقریب نے پھونکی علاقے میں امن و اتحاد کی روح، کثیر تعداد میں مختلف مذاہب کے لوگوں نے شریک ہو کر اور گلے مل کر ثابت کر دیا کہ ملک کی ترقی اتحاد کے بغیر ناممکن ہے ۔
امرڈوبھا، سنت کبیر نگر (رپورٹ محمد رضوان ندوی):
ضلع سنت کبیر نگر کے مشہور قصبہ امرڈوبھا میں گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار مرحوم ڈاکٹر حیدر علی انصاری کی یاد میں عید ملن تقریب کااہتمام کیا گیا جس کی صدارت فالج کے معروف ومشہور ڈاکٹر این این سری واستو اور نظامت غفران احمد ندوی صدر مدرس مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں نےکی ،پروگرام کا آغاز قاری محمد ریحان کی تلاوت سے ہوا، اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں علاقہ کے ایسے بہت سے بااثر برادران وطن کو بھی ترجیحی طور پر دعوت دی گئی تھی جو اپنے اپنے حلقہ میں انسان دوستی ، محبت و اتحاد اور بھائی چارہ میں ملک و معاشرہ کی ترقی و کامیابی کا یقین رکھتے ہیں بلکہ اپنے فکر و عمل سے گنگا جمنی تہذیب کے مضبوط داعی و مبلغ ہیں ۔
"ایک خوبصورت شام عید ملن کے نام” کو خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مولانا کفیل احمد ندوی انچارج و ناظر شعبہ ملحقہ مدارس دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے کہا کہ ھندوستان ایک خوبصورت دلھن کی طرح ہے، یہاں کے باشندے اس کا سامان زینت و آرائش ہیں، ہندو مسلم اس ملک میں انسان کی دو خوبصورت آنکھ کی طرح ہیں، اگر ایک آنکھ کو نکال دیا گیا تو انسان بدصورت ہو جاتا ہے، سماج کو جوڑنے کیلئے مضبوط دھاگے کی ضرورت ہے قینچی کی نہیں، اس ملک کو نفرت کی نہیں ہمیشہ محبت کی ضرورت پڑی ہے اور جب جب محبت کا اظہار الفاظ سے آگے بڑھ کر عمل و کردار میں اترا ہے ملک کی ترقی کو پَر لگ گئے ہیں اور جب جب نفرت کی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں ملک و معاشرہ ٹوٹ کر بکھر گیا ہے ، دنیا کا ہر مذہب امن پسندی کی دعوت دیتا ہے خاص طور پر اسلام نفرت اور شدت کا مذہب ہرگز نہیں ہے ، اس نے ہمیشہ امن و سلامتی ، محبت و اتحاد اور آپسی بھائی چارہ کی دعوت دی ہے،
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شمیم انصاری نے کہا نئی نسلوں کو تعلیم کی طرف توجہ دلانا بے حد ضروری ہے والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ،جہالت لعنت ہے نفرت ہمیشہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے پھیلتی ہے اس لئے ہمیں سب سے زیادہ تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، علم کا چراغ روشن ہوگا تو تاریکی اور نفرت خود بخود دور ہوجائے گی ، ابھرتے ہوئے نوجوان ناظم اجلاس مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام مذہب کے لوگ یہاں کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہیں، اتنا خوب صورت ملک اتحاد اور محبت کے دم پر ہی قائم ہے اور ہمیشہ اتحاد ہی سے کامیابی کے راستے ہموار ہوں گے ،ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمھوریت ہے اور اس جمھوریت کی بنیاد رنگا رنگ تہذیب پر ہے ، ہندوستان مختلف تہذیبی روایات کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے، یہاں صدیوں سے مختلف مذہب و نظریہ کے حامل افراد ایک دوسرے سے مل کر رہتے ہوئے ملک کی ترقی میں برابر کی حصہ داری پیش کرتے آئے ہیں، یہی اس ملک کی خوب صورتی اور امتیاز ہے اور اسی میں یہاں کے لوگوں کی بھلائی اور کامیابی چھپی ہوئی ہے، لیکن افسوس ہے کہ کچھ لوگ باہر نکل کر کبھی نادانی میں اور کبھی ضد وعناد میں آپسی اتحاد اور یگانگت کو توڑنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور ملک و معاشرے کی ترقی و سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں ،آپسی اتحاد واتفاق ملک و معاشرے کی ترقی و سالمیت کو نقصان سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ،یہ موجودہ دور میں سب کی ضرورت ہے،
سماجی کارکن و صحافی ماسٹر ظفیر علی کرخی نے کہا گنگا جمنی تہذیب نے ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا سکھایا ہے ، آج پھر اسی بھروسہ کی ضرورت ہے
بڑی تعداد میں لوگ اس عید ملن تقریب میں شامل ہوئے ، جس میں علاقہ کے برادران وطن نے بھی گرم جوشی کے ساتھ حصہ لیا.
پروگرام میں مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں، جئے بھان چودھری ،مفتی مسعود احمد قاسمی صدر مدرس مدرسہ اطھر العلوم امرڈوبھا ،ماسٹر محمد اسجد ،رام نہور یادو گرام پردھان جگدیش پور ، ماسٹر اشتیاق احمد ،ماسٹر باس دیو،گھن شیام تیواری ، حاجی امام الدین انصاری ، جگدیش کمار ،انل سنگھ ، اسحاق احمد انصاری ،شمیم پردھان ،وکیل وجئے بہادر ، شیو پرشاد تیواری،حاجی ھدایت اللہ ، ونود نشاد ،جل دھاری سنگھ ، وصی الدین ،اجیت سنگھ ، ماسٹر فاروق ، شیوانند مشرا، ونود پاٹھک ،ماسٹر دلیپ کمار ،اکرم صدیقی، سلیم بھائی ،مولانا نفیس احمد ندوی اورتنظیم اصلاح امت کے تمام اراکین کے علاوہ برادران وطن کی ایک بڑی تعداد آخر تک پوری دلچسپی کے ساتھ پروگرام میں موجود رہی –
