اسماعیل قمر بستوی
بڑا محروم عصیاں پر بھی جو رویا نہیں
جس نے بھی اشکِ ندامت سے اسے دھویا نہیں
لٹ گیا سب کچھ مرا پہچان میری کھو گئی
اک بچا ایماں ہے بس جس کو میں کھویا نہیں
لوگ اس کے غم کو سن کرکھل کھلاکر ہنس پڑے
دوسروں کے واسطے جس نے کبھی رویا نہیں
اس کی ہے قرآن خوانی جو تھا رہبر قوم کا
جس نے قرآنِ مقدس کو کبھی چھویا نہیں
تالیاں ہی رہ گئیں ذوقِ سماعت کے لئے
اک غزل کے واسطے میں رات بھر سویا نہیں
ہے قمر امید اس آدم کی گندم کی فضول
فصل کیا کاٹے گا وہ جب کھیت میں بویا نہیں
