مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں "مدارس کی ضرورت اور دینی تعلیم کی اہمیت” عنوان پر اظہار خیال
سمریاواں، سنت کبیر نگر (ایم آر ندوی):
مدارس کی فضا ہمیشہ خالق و مالک کی تعریف و توصیف اور محسن انسانیت آخری پیغمبر حضرت محمد صلی کی مثالی سیرت اور درس انسانیت سے گونجتی رہتی ہے، مدارس میں ہمیشہ امن و آشتی اور آپسی بھائی چارے کا سبق دیا جاتا ہے، یہاں تعمیر و تشکیل اور اصلاح و مصالحت کے پہلو روشن کئے جاتے ہیں، سچا و مفید انسان بنانے اور اس کا ظاہر و باطن سنوانےپر زور دیا جاتا ہے، تخریب کاری، ظلم و زیادتی، بے اعتدالی اور ناانصافی سے نفرت دلائی جاتی ہے، ان خیالات کا اظہار مشہور نعت خواں شاعر قاری عبد الباطن فیضی نے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں منعقد مدارس کی ضرورت اور دینی تعلیم کی اہمیت عنوان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا.
انھوں نے کہا کہ معاشرے میں پنپ رہی اخلاقی بیماریوں اور برائیوں کی نشاندہی سب سے پہلے مدارس ہی کرتے ہیں، وہ نشان دہی اور تنقید و تعریض تک محدود نہیں رہتے بلکہ برائیوں کے سد باب اور اچھائیوں کے حصول پر زور اور محنت صرف کرتے ہیں، بار بار اور ہزار بار ٹٹولنے اور کریدنے کے باوجود وہاں نقصان رساں اور مہلک مادہ کبھی کسی کے ہاتھ نہیں آیا، وہاں مصلی، چٹائی، قلم، کتاب، روز مرہ ضرورت کا سامان، اور اصلاحی افکار و اعمال اور کوششوں کے علاوہ کچھ نہیں آ سکتا، مدارس میں سنت کی پابندی اور آداب و اخلاق سکھائے جاتے ہیں، نیک دل انسان، اعلی اخلاق کے حامل حفاظ اور حرام و منکرات سے بچنے والے علماء اور داعی بنانے کی فکر کی جاتی ہے، قاری باطن فیضی نے اپنی نظموں اور نعتوں سے بھی اس خصوصی نشست کو گلزار اور گہر بار کر دیا.
اس موقع پر مدرسہ کے مہتمم مولانا منیر احمد ندوی خلیفہ شاہ منیر کالینہ ممبئی، قاری محمد ارشد قاسمی، مولانا عبد الاحد ندوی تنہری معافی، مولانا ذکی احمد ندوی کے علاوہ بھی بہت سے معزز سامعین موجود تھے.

