برونی دار السلام: دنیا ایک بار پھر بارود کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں طاقت کی اندھی دوڑ نے انسانیت کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے، اور یوں امن کی ایک اور امید دم توڑ گئی۔ فضا میں بارود کی بو، زمین پر بکھری معصوم لاشیں، اور ہر آنکھ میں خوف کی جھلک ایک دردناک کہانی سنا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان مذاکرات سے وابستہ امیدیں بہت بڑی تھیں، مگر طاقتور قوتوں کے مفادات نے ایک بار پھر امن کو پس پشت ڈال دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف سفارتی ناکامی نہیں بلکہ انسانیت کی ایک اور شکست ہے، جہاں کمزوروں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔

اسی تناظر میں معروف صحافی Naseem Parwez نے اپنے تجزیے میں کہا کہ

"یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی جنگ ہے، جہاں سچ کو دبایا جا رہا ہے اور طاقت کو انصاف بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ضمیر کی خاموشی اس المیے کو اور بھی سنگین بنا رہی ہے۔

ادھر Benjamin Netanyahu کی قیادت میں جاری پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق جنگ کو طول دے کر سیاسی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے، مگر اس کی قیمت معصوم انسان اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں اور بچوں کے خواب بکھر رہے ہیں۔

دوسری طرف Donald Trump کی سابقہ پالیسیوں کے اثرات آج بھی خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے حالات کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا۔ عالمی طاقتوں کی سرد مہری اس آگ کو بجھانے کے بجائے مزید بھڑکا رہی ہے۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ ایرانی قیادت کے مطابق یہ بقا کی جنگ ہے، اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ عوام میں مزاحمت کا جذبہ بڑھتا جا رہا ہے، جو ایک بڑے ردعمل کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ظلم ہے تو پھر آواز کیوں نہیں اٹھتی؟ بین الاقوامی قوانین صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ میدان میں طاقت ہی انصاف بن چکی ہے۔

اگر حالات اسی طرح بگڑتے رہے تو یہ آگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری ہوش کے ناخن لے اور انسانیت کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر خاموشی کے اس جرم کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے