جامعہ کےنائب ناظم مولانا سراج الدین کی تلاوتِ قرآن کریم سے مجلس کا آغاز ہوا۔ جامعہ کے ناظم مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی نے میٹنگ کا ایجنڈا پیش کیا اور سابقہ کارروائی کی توثیق کرائی۔ ڈاکٹر مسعود احمد کی صدارت میں میٹنگ کا انعقاد ہوا تو ناظم نے آمد و خرچ کی تفصیل پیش کی جسکو حاضرین نے متفقہ طور پر تسلیم کیا اور پاک صاف حساب کی ستائش کی۔ تعلیمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے حاضرین نے متفقہ طور پر اساتذہ کو ہدایت جاری کیا اور مولانا سراج الدین اور مولانا شبیر احمد قاسمی کو ذمہ دار قرار دیا تاکہ درس وتدریس کا سلسلہ بہتر طور انجام پذیر ہوسکے۔ اساتذہ کے قیام کے سلسلے میں طے پایا کہ ہر استاذ کی ذمہ دار ی مقرر کرکے ان سے کام لیا جائے اور سختی کا برتاؤ بھی کیا جائے۔ مہتاب ایڈو کیٹ اور ڈاکٹر مسعود کے مشورے کے مطابق طے پایا کہ طلباء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ دار الاقامہ کے طلباء کی تعداد اگرچہ اطمینان بخش ہے، متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ ماہ بماہ سیمینار کا انعقاد کرکے کسی شخصیت کو بلا کر بچوں کی ذہن سازی کی جائے۔ جامعہ کے نائب ناظم مولانا نظیر الدین صاحب کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ ان کی جگہ پر مولانا سراج الدین کو عارضی طور پر نائب ناظم کی ذمہ داری سپرد کی گئی اور یہ بھی گزارش کی گئی کہ ناظم کی عدم موجودگی میں ان کے کاموں کی نگرانی پوری طرح انجام دیتے رہیں۔ آخر میں گبڑوا کے حاجی عبداللہ کے مشورے کے مطابق گورکھپور اسلامیہ کالج کے مینیجر محبوب سعید حارث کو انکی شاندار کارکردگی کودیکھتے ہوئے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے فیصلہ لیا گیا کہ جلد ہی جامعہ میں مدعو کرکے ان کا خاطرخواہ استقبال کیا جائے گا جس کی ڈاکٹر احسن نذیر صدیقی نے پر زور لفظوں میں تائید کی اور حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی کی دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔ حاضرین میں صدر الحق، مولانا سراج الدین، مولانا شبیر احمد قاسمی ڈاکٹر مسعود احمد مہتاب ایڈو کیٹ ڈاکٹر احسن نذیر حاجی عبداللہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
