اگر خلوص ہے جذبے میں دل نہ چھوٹا کر، ضرور آئیگا وہ شخص رہا دیکھا کر: ریاض قاصد
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر۔ یوم صحافت کے موقع پر ادبی و سماجی تنظیم ‘نئی آواز’ کے بینر تلے ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر گزشتہ شب 138ویں شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شہر کے تمام شعراء کرام نے اپنی موجودگی سے جہاں نشست کو ضیا ء بخشی وہیں اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
سب سے پہلے پروگرام کے آغاز میں ‘صحافت پہلے اور آج’ کے موضوع پرتفصیلی گفتگو کی گئی۔ جس میں شعراء کرام نے آج کل کے صحافی اور صحافت پر تبادلہ خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کا صحافت اور پہلے کے صحافت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پہلے صحافت کو لوگ سیاسی اور سماجی انقلاب کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور آج کل کا صحافت صرف اور صرف کاروبار کے طور پر استعمال ہوتا دکھائی دے رہا ہے اسلئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کل کا صحافت واقعی بہت برے دور سے گزر رہا ہے۔ اسے صرف اور صرف معاشی لحاظ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ قوم و ملت کی فلاح و بہبودی کے ذرائع ابلاغ کے طور پر بھی اپنے قلم کی تحریر اور تخلیق سے ملک میں انقلاب بپا کرنے کی غرض سے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیئے۔
اس کے بعد شعری نشہت کا آغاز جاوید سرور کی نظم سے ہوا۔ اس کے بعد نوجوان شاعر ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے اپنی ایک غزل سے نشست کو رونق بخشا اور کہا۔
زمانے کی یہ خواہش ہے تری یادیں مٹا دوں، تری یادیں مٹا کر میں زندہ رہ نہیں سکتا۔اس کے بعد شیو ساگر سحر نے کہا-میکشی آوارگی فاقہ کشی سب سے الگ،
جی رہا ہوں اس لیے میں زندگی سب سے الگ۔ پھر پنکج سدھارتھ نے پڑھا۔
یوں تو بہت سے لوگ میرے ساتھ تھے مگر،
آخر کسی بھی یاد میں جلنا مجھے بھی تھا۔
اس کے بعد مونس فیضی نے بھی اپنا کلام پیش کیا اور کہا دہشت زدہ ہیں کوچ و بازار کیا کریں، رہزن بنے ہیں قافلہ سالار کیا کریں۔ جاوید سرور نے بھی اپنے مخصوص انداز میں اپنا کلام پیش کیا اور کہا۔ سوندھی سوندھی خوشبو سے دل کو مہکا تا رہا، ابر برسا بھی تو کیا دریا کو چھلکا تا رہا۔ شاداب شبیری نے آج کل کی صحافت پر طنز کرتے ہوئے کہا۔ لکھیں وہ جھوٹ جھوٹ کو اور سچ کو سچ لکھیں، ایسی ہے آج کل کی صحافت ارے نہیں۔ ریاض قا صد نے کہا۔اگر خلوص ہے جذبے میں دل نہ چھو ٹا کر، ضرور آئیگا وہ شخص راہ دیکھا کر۔ بزرگ اور استاذ شاعر نور قاسمی نے کہا۔ ہوا چلتے ہی شاخوں کو لچک جانا ہی پڑتا ہے، کلی کو پھول ہو جانے پر مرجھانا ہی پڑتا ہے۔ نشست کے آخر میں نشست کے کنوینرڈاکٹر جاوید کمال نے صحافت کے حوالے سے میڈیا کے درد کو کچھ اس طرح سے ظاہر کیا۔حال مت پوچھو صحافت کا دور حاضر کی، آئینہ جھوٹ کا ہم کو دکھا تی ہے اب، قلم ہے اپنا مگر لفظ سب برائے ہیں، وہی کہتی ہے سیاست جو چاہتی ہے اب۔
نشست میں خاص طور سے سیلز ٹیکس آفیسر علیم الدین خان کا مہمان خصوصی کے طور پر موجودگی رہی۔ نشست کی صدارت ڈاکٹر جاوید کمال نے کیا اور نظامت نور قاسمی نے کیا۔ نشست کو اگلے پروگرام تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید کمال نے نشست میں شامل سبھی سامعین اور شعراء حضرات کا شکریہ ادا کیا۔

