~ عبد المقیت

 عبید اللّہ فیضی

ملک کی کئی نامور خاتون پہلوان ایک ماہ سے زائد عرصہ سے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن سنگھ چرن کی مبینہ جنسی ہراسانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں- اس احتجاج کو سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیتوں اور تنظیموں کی تائید و حمایت حاصل ہے- مگر ان کے ساتھ مرکزی حکومت کا رویہ انتہائی شرم ناک رہا ہے۔

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان برج بھوشن شرن سنگھ اُتر پردیش سے کئی بار منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ مشرقی اتر پردیش کے ایک بااثر سیاستدان اور ریاست میں بی جے پی کے ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ انڈیا کی ریسلنگ فیڈریشن کے صدر بھی ہیں۔

قارئین: وزیر اعظم نریندر مودی نے جب ان کھلاڑیوں نے کامیابیاں حاصل کی تھیں تو ان کو مدعو کرتے ہوئے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ ملک کا نام روشن کرنے والے ان کھلاڑیوں کی خوب قدر کرتے ہیں، مگر جب یہ احتجاج کرنے لگے تو ان سے اپنا منہ ہی موڑ لیا۔ ان کھلاڑیوں کی کامیابی پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس احتجاج پر خاموش ہیں۔

ایک ایسے دن جب نئی پارلیمنٹ کا بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ افتتاح کیا جارہا تھا، ملک کے لئے اولمپک میں میڈل حاصل کرنے والی خاتون کھلاڑیوں کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ اٹھا کر پولیس کی گاڑیوں میں ٹھونسا جا رہا تھا۔ ان مناظر نے جمہوریت کے تئیں ارباب اقتدار کی سوچ کو آشکار کر دیا اور ہر کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ملک کا نام روشن کرنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا روش اختیار کی جائے گی۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب ان خاتون پہلوانوں نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کا انکشاف کیا تو فوری حکومت حرکت میں آتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیتی اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا سے کہتی کہ وہ فوری استعفیٰ دیں- بی جے پی کے رکن پارلیمان بے شمار فوجداری الزامات اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جو کم از کم 38 ہیں۔ ان پر چوری، قتل دھمکانا، اقدام قتل اور اغواء جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج ہوئے ہیں، کیمرہ پر انہوں نے خود یہ تسلیم کیا کہ وہ ایک قتل کر چکے ہیں-

1974 سے 2007 کے درمیان درج ان مقدمات کے بارے میں ان کے حواریوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ ان تمام مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔ کیمرہ پران کا یہ اقرار جرم یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں ملک کے نظام فوجداری عدل پر کامل یقین ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر بچ جائیں گے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے سرکردہ پہلوانوں کو قانون نافذ کرنے والی مشنریوں پر اعتبار ہی نہیں رہا ہے- چونکہ انصاف رسانی میں اتنی تاخیر کر دی جائے گی کہ عدل کے امکانات ختم ہو جائیں اور ظالموں کو من مانی کرتے رہنے کا موقع ملتا رہے۔

قارئین: دلی میں پارلیمنٹ سے کچھ دوری پر جنتر منتر پر پہلوان لڑکیاں برج بھوشن کو گرفتار نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج میں ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے دھرنے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان میں ساکشی ملک، ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا جیسے بڑے کھلاڑی شامل تھے۔

گزشتہ روز بجرنگ پونیا، وینیش پھوگاٹ اور ساکشی ملک نے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا، پولیس اور حکومت ہمارے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ انھوں نے تمغے واپس نہیں کیے،”کیونکہ وہ کس کو واپس کریں گے؟ صدر، جو خود ایک خاتون ہیں، بہ مشکل دو کلومیٹر دور بیٹھ کر دیکھتی رہیں۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔” اپنے بیان میں پہلوانوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیراعظم نے ان سے کوئی سروکار ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے برج بھوشن سنگھ کو پارلیامنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے چمکدار سفید کپڑوں میں تصویریں بھی بنوائیں۔ "یہ چمک ہمیں چبھ رہی ہے۔” بیان میں پہلوانوں نے مزید کہا، اس لیے منگل کی شام 6 بجے وہ ہری دوار جاکر اپنےمیڈل گنگا میں بہا دیں گے۔ یہ تمغے ہماری جان، ہماری روح ہیں۔ آج گنگا میں انہیں پھینکنے کے بعد جینے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔ اس لیے ہم اس کے بعد انڈیا گیٹ پرغیر معینہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ انڈیا گیٹ وہ جگہ ہے جہاں ہم ان شہیدوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہم ان کی طرح مقدس نہیں ہیں، لیکن جب ہم انٹرنیشنل اسٹیج پر کھیلے تو ہمارا جذبہ فوجیوں جیسا تھا۔

ان خواتین کھلاڑیوں نے احتجاج میں اپنے بین الاقوامی تمغے دریائے گنگا میں بہانے کا اعلان کیا تھا لیکن کسان رہنما راکیش ٹکیت نے انھیں سمجھا بجھا کر ایسے کرنے سے آخری وقت میں روک دیا۔

انھوں نے احتجاجی کھلاڑیون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "جس طرح جنتر منتر میں ہماری بیٹیوں کے ساتھ برتاؤ کیا گیا، اسے پورا ملک برداشت نہیں کرے گا۔ جس طرح انھیں وہاں سے جبراً اٹھایا گیا، اس پر پورا ملک برہم ہے۔”

واضح رہے کہ یہ خواتین کھلاڑی اس وقت دھرنے پر بیٹھنے کے لیے مجبور ہوئی تھیں جب پولیس کو جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرانے کے باوجود برج بھوشن کے خلاف کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی تھی۔ پھر سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد پولیس نے کیس درج کیا اور اپنی تفتیش شروع کی۔

کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں جس طرح دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اسی طرح برج بھوشن کو بھی گرفتار کیا جائے-

احتجاج کر رہی پہلوان ساکشی ملک اپنے ایک ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ "کبھی سوچا نہیں تھا کہ کشتی کے رنگ میں لڑتے لڑتے ایک دن انصاف کے لئے ایسے سڑکوں پر بھی لڑنا پڑے گا- دیش کی بیٹیاں بہت مضبوط ہیں، جب دوسرے ملک میں میڈل جیت سکتی ہیں تو اپنے دیش میں انصاف کی لڑائی بھی جیت کر ہی مانیں گی-”

ساکشی مزید ایک ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ”دہلی پولیس کو جنسی ہراسانی کرنے والے برج بھوشن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں 7 دن لگتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ احتجاج کرنے پر ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں 7 گھنٹے بھی نہیں لگائے- کیا اس دیش میں تاناشاہی شروع ہو گئی ہے؟ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کیسے حکومت اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کر رہی ہے”

قارئین: ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خواتین پہلوانوں کے دھرنے کے بعد حکومت اور سرکاری سرپرستی کے خواتین کے کمیشن تک نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ دوسری جانب ممتا بینرجی، اروند کیجریوال، پریانکا گاندھی، اکھلیش یادو اور اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے نہ صرف ان لڑکیوں کی حمایت کی بلکہ ان میں سے کئی رہنماؤں نے جنتر منتر پر جا کر دھرنے کے دوران ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو انٹرنیشنل ویب پورٹل دی نیو یارک ٹائمز کے ایک خبر کو ریٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "بی جے پی کے حکومت میں انٹرنیشنل سطح پر جنسی ہراسانی کی خبریں شائع ہونے سے پوری دنیا میں دیش کی بدنامی ہو رہی ہے- بی جے پی نفرت والی سوچ رکھتی ہے، ان کے یہاں نہ عورتوں کی عزت ہے اور نہ ہی عام عوام کا- بی جے پی نے جمہوریت کو شرم سار کیا ہے-”

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ”کھلاڑیوں کی چھاتی پر لگے میڈل ہمارے دیش کی شان ہوتے ہیں- ان میڈلوں سے، کھلاڑیوں کی محنت سے دیش کی عزت بڑھتی ہے- بی جے پی کا جبر، ظلم و تشدد اتنا بڑھ گیا ہے کہ حکومت ہماری خاتون کھلاڑیوں کی آوازوں کو سختی کے ساتھ بوٹوں تلے روند رہی ہے- یہ ایک دم غلط ہے، پورا دیش حکومت کے اس ظلم اور ناانصافی کو دیکھ رہا ہے-”

تلنگانہ اسمبلی رکن کونسل و بی آر ایس لیڈر کلوا کنٹلہ خواتین پہلوانوں کی حمایت میں آئیں انہوں نے کہا کہ خواتین پہلوانوں نے دنیا بھر میں اپنی کامیابیوں سے ہمارے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے- میں مرکزی حکومت سے ایسے اقدام کا مطالبہ کرتی ہوں جو قومی مفاد اور ہمارے کھلاڑیوں کے وقار کے لئے ہو-

مزید ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ گولڈ میڈل سے نوازے جانے والی خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ جاری بربریت قابل مذمت ہے۔ حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ پوری دنیا اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور ملک کے عوام مرکزی حکومت سے جواب چاہتے ہیں۔ اس سنگین مسئلہ پر مرکزی حکومت کی جانب سے مکمل خاموشی نہایت ہی افسوسناک بات ہے۔ بی آر ایس قائد نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اپنی آنکھیں کھولے اور پہلوانوں کے مسائل کی سماعت کرے اور مناسب حل نکالے۔

کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات نے کہا کہ "ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تفتیش کی کوئی مدت طے نہیں ہے تو پھر یہ لڑکیاں کہاں جائیں گی۔ یہ لڑکیوں کے تحفظ کے ضمن میں بہت غلط پیغام دیا جا رہا ہے۔ یہ بہت نقصان دہ ثابت ہو گا۔”

بہت سے کھلاڑیوں نے بھی اولمپک میڈل جیتنے والی پہلوان لڑکیوں کے ساتھ پولیس کے برتاؤ پر تکلیف کا اظہار کیا۔ ان میں انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق گیند باز انل کمبلے نے کہا ہے کہ "28 مئی کو ہمارے پہلوانوں کے ساتھ پولیس کا جبر دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جا سکتا ہے۔ ہم جلد سے جلد اس مسئلے کے حل کی امید کرتے ہیں۔”

ملک کی معروف دانشور مرنال پانڈے نے ایک مضمون میں لکھا کہ "اس معاملے نے صرف کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ تمام خواتین کی تذلیل کی لیکن اب یہاں سے کوئی واپسی نہیں۔ یہ سلسلہ اب دیر تک چلنے والا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ غیر معمولی مضبوط اور باکمال پہلوان لڑکیاں جلد ہی ذلت کی راکھ سے اوپر اٹھیں گی اور آگے بڑھیں گی۔”

اس دوران انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ "ہفتے کے روز کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا گیا، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ کمیٹی کو امید ہے کہ جنسی ہراسانی کے معاملے کی غیر جانبدرانہ تفتیش کی جائے گی۔” اس معاملے پر عالمی ریسلنگ فیڈریشن نے بھی انڈین ریسلنگ فیڈریشن کی رکنیت معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سیںنئر تجزیہ کار نیرو بھاٹیہ کہتی ہیں کہ حکومت نے اس معاملے کو سنبھالنے میں غلطی کی ہے۔ "حکومت کو سمجھنا چاہيے کہ ان لڑکیوں نے ایسے ہی الزام نہیں لگا دیا۔ یہ اپنے لیے نہیں لڑ رہی ہیں، یہ اپنا درخشاں کیریئر داؤ پر لگا کر دوسری کھلاڑی لڑکیوں کے لیے لڑ رہی ہیں۔ اس میں حکومت سے یقیناً غلطی ہوئی ہے۔”

نیرو بھاٹیہ کہتی ہیں کہ حکومت نے سوچا تھا کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے اور وہیں پر ختم ہو جائیگا یا یہ بھی کسانوں کی تحریک کی طرح دم توڑ دے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نیرو مزید کہتی ہیں کہ "اس واقعے سے حکومت کی پہچان انڈیا کے لوگوں میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں خراب ہو رہی ہے۔ کسی اور ملک میں اگر کوئی ایتھلیٹ جنسی ہراسانی کا الزام لگاتی ہے تو حکومت اسے سنجیدگی سے لیتی ہے اور بروقت کارروائی کرتی ہے لیکن یہاں تو کوئی ردعمل ہی نہیں ہوا۔”

قارئین: برج بھوشن کی جگہ شاید کوئی اور ہوتا تو ان الزامات کے عائد ہوتے ہی رضا کارانہ طور پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیتا اور آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی راہیں ہموار کرتا۔ خاتون پہلوانوں کی شکایت کے باوجود صدر ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے خلاف جو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں، سپریم کورٹ نے 28 اپریل کو مداخلت کے بعد مقدمہ درج کیا تھا مگر گزشتہ روز جب ریسلرس نے پارلیمنٹ کی سمت مارچ کا ارادہ کیا، تو نہ صرف انہیں بے دردی کے ساتھ حراست میں لیا گیا بلکہ ان کے خلاف اندرون 7 گھنٹے فساد مچانے اور سرکاری ملازمین کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے باز رکھنے جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔

اس سے یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ ملک کے لئے اولمپیک جیسے مقابلوں میں میڈل حاصل کرنے والے ان کھلاڑیوں کی بھی حکومت کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے۔ وہ حکومت کے نور نظر کسی بھی فرد کے خلاف کچھ سننا ہی نہیں چاہتی۔ حکومت کو یہ فرق نہیں پڑتا کہ احتجاج کرنے والے کون ہیں اور ملک کے لئے ان کی خدمات کیا رہی ہیں- اگر وہ برسراقتدار پارٹی کے کسی بھی فرد کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں مخالف حکومت تصور کیا جائے گا، اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا، جیسا دوسروں کے ساتھ اب تک کیا جاتا رہا ہے۔ شاید ہندوستانی کھیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ اولمپک میڈل یافتہ کھلاڑی بھی ناقص حکمرانی بے قاعدگیوں اور مبینہ جنسی استحصال کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں- احتجاجی کھلاڑیوں کو بے عزت کرنے اور ان کی مذمت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں زیر تعلیم ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے