از محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
خانہ کعبہ کو اللہ نے اپنا مقدس گھر قرار دیا ہے، اسی نسبت سے شہر مکہ کو جس میں بیت اللہ واقع ہے ’’حرم‘‘ مقررفرمایا ۔گویا جس طرح دنیا بھر کے گھروں میں کعبہ مشرفہ کو اللہ تعالی سے خاص نسبت ہے ، اسی طرح دنیا بھر کے شہروںمیں ، مکہ معظمہ کو اللہ تعالی کی نسبت کا خاص شرف حاصل ہے ؛ لہذا اس کی ہر سمت میں کئی کئی میل کے علاقہ کو حرم(یعنی واجب الاحترام )بنادیا گیا ہے ۔
حدود ِحرم کو جاننا اب اس لئے مشکل نہیں ہے کہ موجودہ سعودی حکومت نے اس کی پانچ سمتوں میں پتھر کی علامتیں نصب کر دی ہیں جو کہ ہر راستہ کے دونوں طرف لگائی گئی ہیں۔
شمال کی جانب سے اس کی حد ’’التنعیم‘‘ہے جو مکے سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔
جنوب کی طرف سے ’’اضاء‘‘ہے جو مکے سے بارہ کلو میٹر کی دور ی پرہے ۔
شمال مشرق کی جانب سے ’’وادی نخلہ ‘‘ہے جس کی دوری مکہ سے چودہ کلو میٹر ہے ۔
مشرق کی سمت سے ’’الجعرانۃ‘‘ہے جس کا فاصلہ مکے سے سولہ کلو میٹرکاہے ۔
مغربی سمت سے ’’الشمیسی‘‘ہے جو مکے سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پرہے ۔
ان حدود کے اندر واقع علاقہ کی حیثیت گویا ’’بلد اللہ الحرام‘‘کے صحن کی ہے اور اس کا وہی ادب واحترام ہے جو اللہ کے مقدس شہر مکہ معظمہ کا۔
اللہ نے پوری روئے زمین پر بطور خاص مکہ مکرمہ کو منتخب کرکے ،زمین و آسمان کی پیدائش کے دن ہی مقدس ومحترم بنادیا تھا(البخاری: ۱۸۳۳ومسلم:۱۳۵۳)اور چونکہ یہ شرف ومرتبت شہر مکہ کو ہی ملا لہذا اس کی حرمت و فضیلت پر قرآن و حدیث میں بکثرت دلائل ہیں۔ چند فضائل و خصوصیات یہ ہیں:
۱۔اللہ تبارک وتعالی نے اپنے کلام پاک میں اس شہر کو مختلف بھلے ناموں سے موسوم کیا ہے ، کبھی’’ بکہ‘‘، کبھی ’’ام القری ‘‘اور کبھی ’’بلد امین ‘‘کہا ہے۔
۲۔یہی وہ شہر ہے جہاں اسلام کا سورج نمودار ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی یہیں نازل ہوئی ۔
۳۔ اسی شہر کو اللہ نے اپنے گھر کے لئے اختیار کیا جوکہ پوری روئے زمین پر اللہ کا پہلا گھراور ساری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ ہے ۔
۴۔اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ محبوب اور عزیز ترین شہر مکہ ہی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’وَاللّٰہِ إِنَّکِ لَخَیْرُ أَرْضِ اللّٰہِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰہِ إِلَی اللّٰہِ وَلَوْلَا أَنِّی أُخْرِجْتُ مِنْکِ مَا خَرَجْتُ ‘‘(سنن الترمذی: ۳۹۲۵)۔
( اللہ کی قسم تم اللہ کی سب سے اچھی سرزمین ہواور اللہ کی سب سے پسندیدہ بھی اور اگر میں وہاں سے نہیں نکالا جاتا تو نہ نکلتا)۔
۵۔اللہ نے اس شہر کو امن وامان اور اطمینان وسکون کی جگہ بنایاہے ۔ سورہ ٔ عنکبوت میںارشاد ہے:
’’أَوَلَمْ یَرَوْ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ‘‘(العنکبوت:۶۷)
(کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنادیا ہے حالانکہ ان کے ارد گرد سے لوگ اچک لئے جاتے ہیں)۔
یہ امن وسکون صرف انسانوں کے ساتھ خاص نہیں،بلکہ جانوروں اور پیڑپودوںکے لئے بھی ہے ، جس کی وضاحت آئندہ سطروں میںآرہی ہے۔
۶۔شہر مکہ کو اللہ نے اس طور پر بھی تقدیس و تعظیم سے نوازا کہ مسلمانوں پر اس کے حدود میں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور اسے استعمال کرنے کی ممانعت کر دی ؛ چنان چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واضح طور پر بتا دیا:
’’لَا یَحِلُّ لِأَحَدِکُمْ أَنْ یَحْمِلَ بِمَکَّۃَ السِّلَاحَ‘‘(مسلم:۱۳۵۶)۔
( کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے )
دوسرے یہ کہ فتح مکہ کے دن آپ نے اپنے اعلانیہ میں یہ فرمادیا تھا:
’’إِنَّ ہٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَہُ اللّٰہُ َیوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَۃِ اللّٰہِ إِلَي یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَ إِنَّہُْ لَمْ یَحِلِّ الْقِتَالُ فِیْہِ لأَ حَدٍ قَبْلِیْ، وَلَمْ یَحِلّ لِیْ إِلَّا سَاعَۃً مِنْ نَھَارٍ،فَھُوَحَرَامٌ بِحُرْمَۃِ اللّٰہِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ‘‘ (البخاری:۱۸۳۳ اور مسلم:۱۳۵۳)۔
( اس شہر کو اللہ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے دن ہی حرم بنا دیا تھا؛اس لئے قیامت تک کے لئے یہاں قتال حرام ہے۔ مجھ سے پہلے اللہ نے اپنے کسی بندے کو یہاں قتال فی سبیل اللہ کی بھی اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن کے تھوڑے سے وقت کے
لئے اس کی عارضی اور وقتی اجازت دی گئی تھی ؛لہذا قیامت تک کے لئے یہاں قتال حرام ہے)۔
۷۔مکہ مکرمہ کی عظمت و حرمت کے تقاضے کے تحت اللہ نے وہاں مشرکوں کا داخلہ ناجائز قرار دیاہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’یٰٓأَ یُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنَّمَا المُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ،فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا‘‘(التوبۃ:۲۸)۔
(اے اںمان والو!بے شک مشرک بالکل ہت ناپاڈ ہیں، وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکیں)؍
یہاں مسجد حرام سے صرف مسجد ہی نہیں، بلکہ حرم کاپورا علاقہ مراد ہے(قرطبی)۔
۸۔مکہ مکرمہ کے تقدس اور حرمت کی بناء پر یہاں نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور برائیوں پر پکڑ سخت اور سزا کڑی رکھی گئی ہے ۔ نیکیوںمیں اضافہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ثابت ہے:
’’ صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فَیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَ صَلَاۃٌ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِن مِائَۃِ صَلَاۃ فِی ہٰذَا ‘‘ (مسند احمد اور صحیح ابن حبان)
(میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا ،مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد میں ہزار نماز ادا کرنے سے افضل ہے اور مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اس (مسجد نبوی )میں سو نماز ادا کرنے سے بہتر ہے )۔
گویا مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کے مقابلے میں ایک لاکھ نمازوں سے بھی زیادہ ہے اور علماء کے راجح قول کے مطابق پورے حدود حرم میں کہیں بھی نماز کا یہی اجر ہے (زاد المعاد از ابن قیم۳؍۳۰۳)۔ اجرو ثواب میں زیادتی کی یہ خصوصیت صرف نماز کی نہیں ،بل کہ حدود حرم میں انجام دئے جانے والے تمام اعمال صالحہ کا یہی امتیاز ہے، سلف صالحین میںحسن بصری رحمہ اللہ سے یہ قول منقول ہے اور اس میں کوئی شبہہ نہیں حرم کی افضلیت کے پیش نظراس میں انجام دئے جانے نیک اعمال کو حل کے مقابلے میں خصوصیت واہمیت حاصل ہے۔
جہاں تک سر زمین حرم میں برائیوں کی شناعت میں اضافہ اور شدید گرفت کاسوال ہے تو اس کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے :
’’ وَ مَنْ یُرِدْ فِیْہِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ ‘‘(الحج:۲۵)
(جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد یعنی کج روی کا ارادہ کرے تو ہم اسے دردناک عذاب چکھائیںگے)۔
یہ حرم ہی کی خصوصیت ہے کہ وہاں برائیوں کا ارتکاب تو کجا صرف ارادے پر ہی سخت سزا ہے جیساکہ اس آیت میں سنائی گئی وعید ہمیں بتا رہی ہے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیت اللہ کے پاس کسی مومن کے قتل کا ارادہ
کرے اور ارادہ کرنے والا عدن یعنی یمن میں ہو تب بھی اللہ تعالی اس کو دنیا ہی میں دردناک عذاب کا مزا چکھا دے گا۔(ابن کثیر)۔
مکہ مکرمہ صرف انسانوں کے لئے باعث امن وامان نہیں بلکہ جانوروں اور پیڑ پودوں کے لئے بھی ہے؛چنانچہ شہر مکہ کی حرمت کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ نہ اس کے جانوروں کو چھیڑا جائے ،نہ اس کے درختوں اور گھاسوں کو نقصان پہنچایا جائے۔فتح مکہ کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جس اعلانیہ کا ذکرگیا اس میں آپ نے یہ بھی فرمایا:
’’ لَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ، وَلَا یُنَفَّرُصَیْدُہُ ،وَلَا یَلْتَقِطْ لُقْطَتَہُ إِلَّا مَنْ عَرَفَھَا، وَلَایُخْتَلَی خَلَاھَا ‘‘
(اس علاقہ کے خار دار جھاڑ بھی نہ کاٹے چھانٹے جائیں، یہاں کسی
قابل شکار جانور کو پریشان نہ کیا جائے اور اگرکوئی گری پڑی چیز نظر پڑے تواس کو وہی اٹھائے جو قاعدہ کے مطابق اس کا اعلان اور تشہیر کر تا رہے اور یہاں سبز گھاس بھی نہ کاٹی یا اکھاڑی جائے )۔
اس پر آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اذخر گھاس کو مستثنی فرمادیجئے ؛کیونکہ یہاں کے لوہاربھٹی کے لئے اس کا استعمال کر تے ہیں اور گھروں کی چھت کے لئے بھی اس کی ضرور ت پڑتی ہے ،تو آپ نے فرمایا : ’’ إِلَّا الْإِذْخَر (سوائے اذخر کے) (البخاری:۱۸۳۳ اور مسلم:۱۳۵۳)۔
اب جو شخص مکہ معظمہ کی عظمت و حرمت کی خلاف ورزی کرے گا اور اس کے تقدس و احترام کی پامالی کا مرتکب ہوگا ،چاہے وہ کسی شرعی مخالفت یا چھوٹے بڑے گناہ کے ذریعے ہو یا اس کے شکاروں سے تعرض اور درختوں کو نقصان پہونچاکرہو تو وہ یقینا
سورۂ حج کی آیت کریمہ کی روشنی میں المناک سزا کا مستحق ہوگا اور یہ اس پر مستزاد ہوگا کہ اسے شکار کے جانوروں کا تاوان بھرنا ہوگا جس کی تفصیل فقہ کی کتابوںمیں موجود ہے ، جب کہ پیڑ پودوںاور گھاس کے سلسلے میںگرچہ تاوان کا ثبوت نہیں ملتامگر صحابہ کرام سے تعزیری حکم ثابت ہے(الشرح الممتع از ابن عثیمین ۷؍ ۲۲۰)۔
لہذا حجاج کرام اورتمام زائرین حرم کے لئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایسے ہر قول و فعل سے مکمل اجتناب کریں جو اس پاک سر زمین کی بے ادبی اور بے حرمتی پر منتج ہو ۔یوں تو دنیا میںجہاں کہیں بھی ہو،سبھی چھوٹے بڑے گناہوں سے احتراز لازمی ہے، لیکن حدود حرم میںمعمولی نافرمانی کی بھی سزا سخت ہے۔ حرا م کاری و حرام خوری سے لے کر بدگوئی اور سگریٹ نوشی تک سے پرہیز واجب ہے ،بلد امین میں ایسے تمام معاصی کاارتکاب بلاشبہہ ایک بھیانک اور قبیح جرم ہے اور ایسے شخص پرقرآن پاک کی یہ آیت صادق آئے گی :
’’ وَ مَنْ یُرِدْ فِیْہِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ ‘‘(الحج:۲۵)
(جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد یعنی کج روی کا ارادہ کرے تو ہم اسے دردناک عذاب چکھائیںگے)۔
رب کریم کے حضور دست بدعا ہوں کہ ہمارے دلوں میں موجو دمکہ مکرمہ کی عظمت کا کما حقہ حق ادا کرنے کی توفیق سے نوازے اور ان تمام گناہوں اورکوتاہیوں سے بچائے جو اس کے تقدس کے منافی ہو۔آمین

