محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

زندگی کے پیمانے بدل گئیے ، سب کچھ الٹا ہوگیا ،مادہ پرستی کی دوڑ نے زندگی کومشکل تر بنا دیاہے ،جہاں ضروری لوازمات کے ساتھ زندگی بسر کی جاسکتی ہے وہیں دوسروں کے مقابلے اوردیکھا دیکھی ’معیاری وراحت والی زندگی‘ کے لیے غیر ضروری برانڈیڈسازوسامان پر تحاشا مال ودولت لٹایا جارہاہے ،انسان کو سیم وزر کی ایسی بھوک لگی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا شئي إلا الدنیا إلا البطن والمعدة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بس اسی کے ہوکے رہ گئیے ، زندگی کوكهپاديا ، اور فنا في الدنياء هوگئے ،تعفف زہدو قناعت رضا بالقضاء کا تصورہی ختم ہوگیا، افسوس کہ مادہ پرستی کا ماحول ایساغالب آیا کہ ایمان کی دولت تک لٹا بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاۓ رے انسان ۔۔۔ لو کان لابن آدم وادیان من ذھب لابتغی ثالثا ، لیکن ایسا کیوں نہ کریں ؟

جب سماج کا ذہن ہی مادی بن جائے ،چہار سو مادیت کا شور ہو ۔۔۔۔۔ جہاں عزت ووقار بھی آپ کو مال ودولت سے کمانی پڑتی ہو ، جہاں علم وعمل ،صلاحیت ولباقت ، شرافت ونجابت،نفاست طبع وخلق حسن ،زہدو تقوی، تدین، حکمت وفراست سب کی اہمیت زیروہوتی ہو، جہاں صرف پیسہ ہی ایک قابل قدر ولائق احترام شئی ہوتی ہو ، ہر چیز میں مادیت کانشہ ہوتا ہو ، عزت چاہیے تو مال ودولت جمع کیجئے ، بنگلے وپلاٹ خریدیئے ، قناعت پسند ،عفیف گندۓ وگدلے مال ودولت سے دور رہنے والے کی جہاں کوئی شناخت وپہچان نہیں ، مخلصوں کی قدر نہیں ،منافقوں کی بھیڑ جعل سازیوں کی آؤ بھگت، پیشے و پیسے کے بندوں کی ہمت افزائی ، پھکڑوں ،علم و اخلاق سے کوسوں دور کنگلوں کو ماتھے پہ بٹھایا جانا ، وغیرہ وغیرہ ، جہاں دیکھئے جدھر دیکھئے پیسے پیسے ،ہاۓ رے دنیا ہاۓ رے دنیا ،مقابلہ آرائی ،منافست ،دوڑ دھوپ بس ایسا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے ،اپنے مقابل دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ، تھوڑا سا موقعہ ملے تو ساری دنیا کو حلق میں ڈال لے ،

طرفۂ تماشہ ہے !! سوسائٹی میں کرپٹوں ،خائنوں، سودخوروں ،غاصبوں ،ظالموں،منافقوں ،شراب خوروں ، کو ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے جو جتنا مذلوجی حرکتیں کرلے ، جھوٹ بول لے ،مکرکرلے ، ٹھگ لے ،دھوکہ کردۓ، دبالے ،دبنگی کرلیے غنڈہ گردی کرلے ، سرپھٹول مچادۓ ۔۔۔ بڑۓ کمال ہے جی، ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سنجیدہ قسم کا مسلمان علم وفقہ واسرار شریعت سے آگاہی رکھنے والے، وعلماء حق بخوبی جانتے ہیں کہ ایسوں کی کوئی قیمت نہیں ،صفر بالکل صفر ، غل غپاڑہ ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شايداسي بات كو ہمارے اسلاف کہا کرتے تھے "إنهم وإن طقطقت بهم البغال ،وهملجت بهم البراذبن ”

یہ عجیب ہندوستان کی بد نصیبی ہے جو جہاں چاہے اپنے آپ کو ثابت کردۓ ، زبردستی اپنی ذات کو منوا لے ، مادیت کا سبز باغ دکھایا تو بڑے بھاؤ تاؤ ہونے لگے ،حضرت بن گئے ، جبکہ

درست موقف تو یہ ہے کہ حقیقی عزت ووقار رب تعالیٰ اپنے متقی بندوں کو دیتا ہے ،إن أكرمكم عندالله أتقاكم …..إِنَّ اللهَ تعالى لَا ينظرُ إلى صُوَرِكُمْ وَأمْوالِكُمْ ، ولكنْ إِنَّما ينظرُ إلى قلوبِكم وأعمالِكم،

بہرحال دنیا داروں کے سامنے اپنے آپ کو ہیچ نہ سمجھے ، آپ تو آپ ہی ہیں ۔۔۔۔۔ کَہاں راجَہ بھوج ، کَہاں گَنْگوا تیلی!

أين الثرى من الثريا ،!!

فاسق وفاجر کے طنطنہ ، ان کے فالوورز و لائکس اور کمنٹس سے مثقف ومطیع ومنقاد بندہ کو اپنے آپ کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے ،بونہ و حقیر نہیں گمان کرنا چاہیے ، یہ تو چار دن کی چاندنی ہے پھر ظلمت وشب دیجوری ہی ہے ۔۔۔،،،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے