سہارنپور(احمد رضا): اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے علماء کرام قران مجید اور احادیث کی روشنی میں کبھی کبھی کوئی جملہ ایسا ادا کردیتے ہیں کہ جسکو بہ غور سن کر جا ہل افراد سوشل میڈیا پر وائرل کر دیتے ہیں ہمارے بزرگوں اور علماء کرام نے بات تو سہی پیشِ کی مگر جا ہل افراد نے اس کا مطلب غلط نکال کر ایک ہنگامہ برپا کردیا یہ ملک چل ہی افواہوں پر رہا ہے آجکل یہاں سچ کہنا اور بولنا جرم ہو گیا ہے آپ خد دیکھ لیں کہ دوروز قبل قابل احترام دارلعلوم دیوبند کے استاد نے طلبہ کے بھلے اور سدھار کے لئے ایک جملہ بولا تو چند اناڑی مسلم اخبارات کے نمائندوں نے اس کو اپنی زبان میں لکھ دیا متعصب گروہ نے اس جملہ کو ہیک کر ہنگامہ برپا کردیا سوشل میڈیا پر ہمارے عظیم مدرسہ پر انگلیاں اٹھنے لگی آخر یہ کمی ہماری ہی تو ہے کہ ہر تعلیمی نظام سے متعلق موضوع پر بات چیت یا بیان عام نہی ہو نا چاہئے مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے مدارس عربیہ کے کچھہ اصول و ضوابط ہوتے ہیں مدارس سرکار کی مدد سے نہی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے چلتے رہے ہیں اسلئے بات چیت بھی بے خوف ہونی چاہئے صاف صاف بیان کیا جا نا وقت کی ضرورت ہے! معمولی سی بات پر دارلعلوم کو اقلیتیں کمیشن نے نوٹس جاری کردیا کلکٹر کو کاروائی کے لئے لکھ دیا گیا مدرسہ کی بات باہر نکال کر ہمارے ہی کسی فردِ نے آخر جھوٹ کے پاؤں لگا دئے گئے اب دارلعلوم صفائی دینے کے لئے اپنی طاقت ضائع کرنے میں مصروف ہے یعنی ایک جاہل کی لاپرواہی سے صدمہ پوری مسلم قوم کے لئے کھڑا کر دیا گیا آج ضرورت ان جاہل اور کم عقل افراد سے بچنے اور اداروں کو سلامت رکھنے کی ہے! یاد رکھیں ملت اسلامیہ کو ہمیشہ نقصان ملت کے لوگوں سے ہی پہنچا ہے لازم ہے کہ جو سہی ہو اور سچ ہو وہی بولا اور بیان کیا جا ئے باتوں کو بڑھا چھڑاکر یا اسکا بیجا مطلب نکال کر بات کو پیش کرنا بیحد خطرناک اور غیر اسلامی فعل ہے ہمکو ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے یہی یہی احکام الٰہی ہے! ہماری قابل احترام قابل تعظیم عالم دین بزرگ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

بلا کمی بیشی کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق کسی بات یا جملہ یا آپکی حدیث مبارکہ کا ایسا مطلب نہیں لینا چاہئے جسے وہ برداشت نہ کرسکے یا اس سے وہ مطلب نکلتا نہ ہو، اس اصول کو چھوڑنے سے اور اس سے ہٹنے ہی کی وجہ سے بے شمار غلطیاں اور گمراہیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ الٹی سمجھ ہی تمام بدعتوں اور گمراہیوں کی جڑ ہے، اور اصول وفرع میں ہر غلطی کی ضامن ہے، خصوصاً جبکہ اسکے ساتھ بدنیتی بھی ہو، کبھی اتفاق سے بعض مسائل میں بڑے لوگوں کی طرف سے الٹی سمجھ کا ظہور ہوتا ہے حالانکہ انکی نیت اچھی ہوتی ہے اور عقیدت مندوں کی نیت بخیر نہیں ہوتی اور مسئلہ کچھ سے کچھ سمجھ لیا جاتا ہے اور دین اور دینداروں کی مٹی پلید ہوتی ہے۔ قدریہ، مرجئہ، خارجی، رافضی ،معتزلہ، جہمیہ اور دیگر تمام فرقوں کو اسی چیز ہی نے گمراہ کیا، اور انکے ہاتھوں میں آکر دین کی مٹی پلید ہوئی ان لوگوں نے صحابہ کرام اور تابعین عظام کی سمجھ سے فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ اسکی طرف دھیان دیا، کثرت امثلہ کی بنا پر ہم نے مثالیں نہیں دیں ورنہ دس ہزار سے بھی زیادہ مثالیں ہمارے پاس محفوظ ہیں، آپ شروع سے لیکر آخر تک قرآن مجید پڑھ جائیں آپ کو حیرت ہوگی کہ ان گمراہ فرقوں نے کہیں بھی قرآن پاک کو شارع علیہ السلام کی مراد کے مطابق نہیں سمجھا، قرآن حکیم کو صحیح طور پر وہی سمجھے گا جو پہلے لوگوں کے خیالات معلوم کرے پھر انہیں قرآن پاک پر پیش کرے، لیکن جو الٹا معاملہ کردے کہ شرعی مسائل لوگوں کی رایوں پر پیش کرنے لگے اور ان سے حسن ظن کی بنا پر دینی مسائل کو انکے خیالات کے موافق بنانے کی کوشش کرے وہ ہدایت سے دور جا پڑے گا ایسے مقلد کو اس کے خیالات پر چھوڑ دیجئے، الحمد للہ اللہ نے اس بیماری سے آپ کو محفوظ رکھا ہے۔ (کتاب الروح، ص 109)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے