ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ
سہارنپور anjumqudsia14@gmailcom
اس مسلم بستی میں لوگوں کی زندگی موت سے بھی بدترہے ۔ زندگی یہاں چل نہیں رہی ہے بلکہ رینگ رہی ہے۔ اس بستی میں گھر کچّے ہیں۔ جن میں غالباً برسات میں پانی ضرور ٹپکتا ہوگا ۔ نالیوں کے دونوں طرف کوڑے کے ڈھیر اور ان سے اُٹھ رہی بد بو سے دماغ پھٹا جاتا ہے۔ مزدوری کے سہارے دو قت کی روٹی کی کشمکش میں نسیم جیسے نہ جانے کتنوں کی زندگی مشکلات سے گزر رہی ہے ۔ غربت کا عالم یہ ہے کہ بیٹی جیسے ہی پیدا ہوتی ہے ماں باپ کو بوجھ لگنے لگتی ہے ۔نسیم کے ایک کے بعد ایک کئی بیٹیاں ہو جاتی ہیں ۔ جہاں شہلا کی امّی گھر کا کام کرنے جاتی تھیں اسے بھی ساتھ لے جاتی تھیں وہیں اسکی دوستی اِرم سے ہو گئی۔اس کی بیٹی شہلا کی سہیلی روز اسکول جاتی اور اسکول سے آکر وہ شہلا کے ساتھ کھیلتی اور اپنے اسکول اور ٹیچر کی باتیں سناتی۔ ’’ آج مجھے ہوم ورک میں گڈ ملا ہے ۔ میری ٹیچر مجھے بہت پیار کرتی ہیں ۔‘‘ شہلا کی دوست اِرم نے خوش ہوتے ہوئے اسے بتایا۔ شہلا حسرت سے اپنی دوست اِرم کو دیکھتی ۔ اس نے امّی سے ضد کرنی شروع کی ’’ امّی مجھے بھی اسکول پڑھنے بھیج دو ‘‘ شہلا کی امّی شکیلہ نے بے بس نظروں سے اپنے شوہر نسیم کی طرف دیکھا جو دو قت کی روٹی کا جگاڑ ہی مشکل سے کر پا رہا تھا۔ وہ بچّی کی حسرت بھری نظروں سے آنکھیں چرا کر اسے سمجھاتی ہیں ’’ بیٹا گھر میں رہ کر سیلائی ، کڑھائی ، کھانا بنانا سیکھو۔ یہ ہی سسرال میں کام آئے گا ۔پڑھائی کون پوچھ رہا ہے‘‘ شہلا دل موس کر رہ گئی۔ شہلا کی بڑی بہن ریحانہ جو ان ہو گئی تھی اور ماں باپ کو اس کی شادی کی فکر لاحق تھی۔ اس کے لئے رشتہ آرہا ہے ۔ لڑکا عمر میں ریحانہ سے پندرہ سال بڑا ہے۔ مزدور ہے۔ نسیم اپنی بیوی سے کہتے ہیں ’’ دو وقت کی روٹی تو کھِلا ہی دیگا اب لڑکی کو کب تک بیٹھائیں گے ۔ لڑکیاں تو اپنے گھر ہی اچھّی لتگتی ہیں۔ شکیلہ بیگم غم سے نڈھال ہوئے جا رہی ہیں۔ شوہر سے کہتی ہیں ’’ ہم غریبوں کے یہاں کوئی امیر اور برسرے روزگار لڑکے کا رشتہ تو آنے سے رہا۔ سب کو اچھا گھر ، اچھا جہیز ، خوبصورت لڑکی چاہئیے۔ ایسے لڑکے کے انتظار میں تو لڑکی کی عمر ہی نکل جائیگی ۔ مگر میں لڑکی کی عمر سے اتنے بڑے لڑکے سے تو رشتہ نہیں کر سکتی ۔پہلے ہی لڑکا مزدور ہے ‘‘ رشتہ منا کر دیا جاتا ہے ۔ بیٹیوں کو دیکھ دیکھ کر ماں باپ کے فکرات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے کیا کریں کیسے بیٹی بیاہیں ۔ بڑی بیٹی کی شادی حیدر آباد میں کی تھی وہ آج تک واپس نہیں آئی۔ کچھ مہینہ انتظار میں بیتے آخر کار ریحانہ کا رشتہ اس کی عمر سے دگنی عمر کے ایک ادھیڑ سے آیا اور ماں باپ نے مجبوراً ہاں کہہ دی۔ شادی کے بعد وہ سسرال میں نوکرانی کی طرح رہ رہی ہے۔ سبھی اس پر اپنا حکم چلاتے۔ ریحانہ اس کی دوسری بیوی ہے۔ پہلی بیوی مر چکی ہے ۔ اس کے دو بچّوں کی ذمّہ دار بھی ریحانہ پر ڈال دی جاتی ہے وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتی ہے اسے پتہ ہے کہ اگر وہ زبان سے کوئی شکایت منھ پر لائیگی تو سسرا ل والے اسے میکہ بٹھا دیں گے غریب ماں باپ پہلے ہی شادی میں قرض کے بوجھ سے دبے ہیں یہ صدمہ کیسے اٹھائیںگے ویسے بھی سسرال والوں کو ایک مفت کی نوکرانی چاہئیے ہوتی ہے ۔جب کوئی لڑکی سسرال جاتی ہے تو سسرال کا ہر آدمی اس سے کام کرانا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے اسے انسان سمجھا ہی کب جاتا ہے۔
غربت کی وجہ سے شہلا کی بھی کم عمری میں ایک بڑی عمر کے آدمی سے شادی کر دی گئی ۔ شہلا بہت روئی ’’ امّی مجھے اپنے پاس ہی رہنے دو ۔ میری شادی مت کرو۔ میں بھی آپ کے ساتھ گھروں میں جاکر برتن مانجھ لونگی ۔ کھانا بنا دیا کروںگی ۔ کچھ کما کر لائوں گی ۔ گھر کا خرچہ اٹھائوں گی آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی ــ‘‘۔ شکیلہ بیگم کو اپنی بچّی پر بہت ترس آیا۔ وہ رونے لگیں ۔ ’’ کیا کروں بیٹی ۔ یہ سماج جینے نہیں دیتا۔ کل بھی پڑوس کی شگفتہ آئی تھیں کہہ رہی تھیں ’’ کہ لڑکی کا رشتہ کیوں نہیں کر تیں۔ کب تک اپنے کو لہے سے لگا کر بٹھائو گی۔‘‘ اور اس طرح ایک اور لڑکی کو سماج کی رسموں پر بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ شہلا جب سسرال پہنچی تو پتہ چلا کہ اس آدمی کی پہلے ہی دو بیویاں ہیں۔
وہ اپنی پہلی دو بیویوں سے جسم فروشی کراتا تھا۔ اس کو بھی جسم فروشی کے دھندے میں دھکیل دیا گیا۔ اپنے گھر کی خراب مالی حالت کی وجہ سے اسے خاموشی سے سب کچھ برداشت کرنا پڑتا سسرال میں رہنا ایک مجبوری ہے جب وہ احتجاج کرتی تو شوہر کمرے میں اونچی آواز میں ڈی ۔جے بجا کر اسے بری طرح مارتا ۔ وہ پٹتی رہتی اور ا شک بہاتی رہتی۔ اس علاقے میں غربت کی وجہ سے کئی بیٹیاں اپنا جسم بیچنے کو مجبور کی گئیں۔ بہانہ شادی کا کیا جاتا مگر شادی کے بعد جسم کا کاروبار کرایا جاتا ۔
شہلاسوچتی ہے کہ ایسی زندگی گزارنے سے تو اچھا ہے مرنا مگر اسلام میں خود کشی حرام ہے۔ اگر وہ یہاں سے بھاگے تو بھاگ کر کہاںجائیگی۔ گھر تو وا پس جانہیں سکتی پھر لیکن یہاں اگرکچھ دن اور رہی تو گھٹ گھٹ کر مرجائیگی ۔ وہ ایک فیصلہ لے لیتی ہے اور رات میں گھر سے نکل جاتی ہے۔ کسی سے موبائل لیکر112 نمبرپر فون کرتی ہے۔ وہ اسٹیشن پر پہنچ جاتی ہے۔ اسے یہ بھی ڈر ستا رہا ہے کہ اگر اس کے شوہر نے دیکھ لیا تو یہ اس کا آخر ی دن ہوگا۔ پولیس وین کو آتے دیکھتے ہی وہ مدد مدد چلّا تی ہے لیڈی پو لیس اسے گاڑی میں بٹھاتی ہیں ۔ وہ زور زور سے رونے لگتی ہے لیڈی پولیس اسے دلاسہ دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ پوری بات بتائو۔ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے؟ وہ پوری بات بتا تی ہے پولیس اسے ایک غیر سرکاری تنظیم جہاں لڑکیوں کا ہاسٹل ہے وہاں اس کے رہنے کا بندو بست کرا دیتی ہیں جہاں اسے رہنے کھانے کے ساتھ سلائی کڑھائی اور دیگر ہنر سکھائے جاتے ہیں اب شہلا بہت خوش تھی یہاں ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے پڑھایابھی جا رہا ہے ۔ وہ سوچھنے لگی کہ عورت کو گھر کی عزّت سمجھا جاتا ہے پھر کیوں لوگ عزّت کوعزّت دینا بھول جاتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں عورت کا وجود ایک جنس، ایک استعمال کی چیز سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ ان کی حیوانیت یا تو اس کے جسم سے کھیل کر یا اسے پیٹ کر ہی شانت ہوتی ہے۔ اگر وہ ہمّت نہ کرتی تو ساری زندگی جسم فروشی کے دھندے میں گزر کر تباہ ہو جاتی ۔ اور اس مرد کو پکڑ وا کر اسے کتنی عورتوں اور لڑکیوں کو بھی اس نرک سے بچایا۔ ہر لڑکی میں اتنی ہمّت ہونی چاہئیے کہ وہ اپنی زندگی شرافت کے دائرے میں اپنی مرضی سے بتا سکے۔
کہیں دور ساحر لدھیانوی کی اس غزل کی آواز اسے ہر عورت کی کہانی لگ رہی تھی۔
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں۔
