اسماعیل قمر بستوی
خدا کاحکم ہے کرتےہیں جوہم لوگ قربانی
گواہی دے رہیں ہیں آج بھی آیاتِ قرآنی
یہ اسماعیلؑ کا ایثار سنت ہے براھیمى
منیٰ کی حلم اسماعیلؑ سےمہکی ہے ہراک وادی
خلیل اللہ نکلے لے کے اسماعیلؑ کو گھر سے
چھپا کرآستیں میں اک چھری رکھ لی چلےدر سے
خلیل باصفا نے جو مسلسل خواب دیکھا تھا
منی کی آج وادی میں اسے تکمیل کرنا تھا
خلیلؔ اللہ نے آنکھوں پہ اپنی باندھ لى پٹى
چھری کو باپ نے حلقوم اسماعیلؑ پہ رکھ دی
یہ وہ منظر تھا جس سے کانپ اٹھا عالم بالا
ذبیحہ خلد سے مولیٰ نے ابراھیم کو بھیجا
پرِ جبریل کیاجبریل پہ تھا چھا گیا لرزہ
کہا تھا مولیٰ ابراھيم سے یہ امتحاں کیسا
ہوا یہ خواب کی تکمیل پہ غیبی ندا آئی
لکھی یہ بات ہم نے دوستو قرآن میں پائی
خدا نے اس عمل پہ یہ حسیں مژدہ سنایا ہے
اے ابراھیم تونے ،خواب سچا کر دکھایا ہے
دیا کرتےہیں ہم ایسا ہی بدلہ نیک بندوں کو
خدا کے درسے ملتا ہے صلہ ہرگام سچّوں کو
بڑی یہ آزمائش تھی مگر تم کامراں ٹھرے
اور اسماعیلؑ بھی اک صبر کےکوہِ گراں ٹھہرے
رہے گا حکمِ قربانی خدا کا اے قمر باقی
اسی کا حکم چلتاہے نہیں اس کا کوئی ثانى
