کہانی، افسانہ نگاری، شاعری اور مضمون نگاری میں نسل نو آج بھی پہلے پائیدان پر! ڈاکٹر قدسیہ انجم

سہارنپور(احمد رضا ): حالات کتنے بھی مشکل ہوں کامیابی کے راستہ میں آنے والے مسائل کیسے بھی ہوں مگر مسلم طبقہ کے لڑکے اور لڑکیاں آج بھی اپنی بیسک تعلیم اردو سے مضبوطی کے ساتھ جڑ ے ہوئے ہیں اردو زبان میں ہماری نسل نو کی خاصی دلچسی ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی کہانی ،افسانہ نگاری ،شاعری اور مضمون نگاری میں ہمارے اپنے ملک اور بیرون ممالک میں اپنی زبان اور اپنے ادب کی دھاک مچائے ہوئے ہیں یہ اچھی اور اطمینان بخش کار کر دگی ہے ہمیں اپنے قلمکاروں کی ہر صورت ستائش اور حوصلہ افزائی کر نی چاہئے! آپکی توجہ اس جانب لے کر چلیں کہ مقامی پکّا باغ واقع قومی سطح کی سوشل تنظیم پرچم کے لٹریری ونگ پر چم اردو آنگن لگاتار اردو زبان کی توسیع اور تشہیر میں پہلے پائیدان پر قائم ودائم ہے پرچم کے ادبی ونگ کے تحت گزشتہ روز مضمون نگار خواتین کے ساتھ ایک خاص ملاقات کا آن لائن پروگرام یہاں منعقد کیا گیا جس میں ہندوستان کے مختلف صوبوں میں رہنے والی ہر عمر اور قابلیت کی خواتین کے پسندیدہ مضا میں کی بابت انکے خیالات سنے اور قارئین کو سنائے گئے پو چھا گیا کہ ادبی دنیا میں انکے نظریات کیا ہیں اور وہ ادبی سطح پر کیا کرنا اور کہنا چاہتی ہیں ان پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی اس شاندار پروگرام کی کنوینر ماہر تعلیم ڈاکٹر قدسیہ انجم نے اپنے خطاب سے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے واضع کیا کہ پرچم تنظیم کا ادبی ونگ پرچم اردو آنگ پچھلے تقریبا پانچ سال سے پورے ملک میں سرگرم رہتے ہوئے ملک بھر کی قابل احترام خواتین قلم کاروں کو لے کر ان لائن پروگرام منعقد کرتی آ رہی ہے اس تنظیم کی خصوصیت یہ بھی اہم ہے کہ تنظیم کے سبھی پروگرام خواتین قلم کاروں کے ساتھ بڑے معیاری انداز میں منعقد کئے گئے ہیں، اس موقعے پر ہم کو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ پرانی نسل کے ساتھ ساتھ نئی نسل بھی اردو کا پرچم لے کر آگے جارہی ہے اس سلسلے میں ، کہانی ، افسانہ، شاعری مضمون نگاری سبھی اسلوب کو جگہ دی گئی ہے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے نصرت پروین نے سبھی مضمون نگار خواتین کا تعارف کرایا ہم سبھی کا استقبال کرتے ہیں ڈاکٹر فائزہ( بہار سے) نے فراز احمد کی شاعری کی خصوصیات پر روشنی ڈالیں میرٹھ سے طاہرہ پروین نے زندگی میں نظم و ضبط کیسے لا سکتے ہیں اور نظم و ضبط سے کیسے کامیابی لائی جا سکتی ہے اس پر چرچا کی دلی سے چشمہ فاروقی نے iسلام میں عورت کے کیا حقوق ہیں اس پر اپنا مضمون پیش کیا ڈاکٹر شبانہ (حاجی پور بہار ) نے اردو افسانے میں سماجی مسائل کی عکاسی کیسے کی گئی ہے اس پر روشنی ڈالیں مہمان خصوصی الہ آباد سے صالحہ صدیقی نے کہا کی مضمون نگاری اردو ادب کی ایک نثری صنف ہے جس کے تحت کسی بھی طرح کے عنوان پر معلومات اکٹھا کرتے ہوئے اس کے تمام پہلوؤں پر تحریری شکل میں معلومات فراہم کی جانی ضروری انہوں نے مضمون نگاری کے کچھ خاص ضوابط بھی بتائے کچھ خاص باتیں بتائیں جس میں انہوں نے کہا کہ ذوق فقر فرحت احساس ذمہ داری بلند ہمتی اور پابندی یعنی کثرت مطالعہ اور غور و فکر کرنے سے سے لکھنے کا ذوق بنتا ہے انہوں نے سبھی مضمون نگار خواتین کے مضمون پر تبصرہ کیا اس خاص موقع پر میڈم نصرت نے سبھی کا شکریہ ادا کیا اور قابل احترام خواتین کی صلاحیتوں کی بھر پور تعریف کی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے