مستقبل

جولائی 1, 2023

ڈاکٹر جاوید کمال

سدھار نگر

چار سال کی بیٹی کے سوا اس عورت کا اس دنیا میں اور کوئی نہیں تھا ۔

گھروں میں برتن مانج کر کسی طرح اپنا اور بیٹی کا پیٹ پال رہی تھی وہ۔ گھروں میں کام کرتی تو بیٹی ایک کونے میں بیٹھی ماں کو غور سے دیکھا کرتی۔ گھر والے اس کے ہاتھوں میں کبھی کبھی دو ایک بسکٹ تھما دیتے۔

جانے کیا تھا اس چار سال کی چھوٹی بچی کے دماغ میں کہ ایک دن ماں سے ٹھہر ٹھہر کر بولی، اماں اج سے ہم بھی تمہارے ساتھ کام کریں گے اتنے برتن دھلتے دھلتے تمہارے ہاتھ دکھنے لگتے ہیں نا ۔ ماں نے کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ انکھوں سے انسو نکل کر بچی کے بالوں کو بھگونے لگے اور بچی سمجھ نہ پا رہی تھی کہ اچانک ماں اسے اتنا پیار کیوں کرنے لگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے