سیدہ شاہانہ زبیدہؔ
بیدر، کرناٹک
عبدالخالق جو 7 سالہ معصوم بچہ ہے۔ آج گھر کے تمام کام کا بے انتہاء تعجب کے ساتھ مشاہدہ کررہا تھا۔اور والدین کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا۔
’’ارے بیگم!.  مجھے دیر ہورہی ہے۔ نماز عشاء 9 بجے مقرر ہے۔اور تم ہوکہ اپنا چولھا چھوڑ کر آتی ہی نہیں۔ جلدی کرو اور میرا سفید کرتہ الماری سے نکال دو‘‘
بشیر میاں نے اپنی بیوی سے کہا جو عقیدت سے روزے داروں کے لئے افطار کی تیاری میں حلوہ بنارہی تھی۔
’’ابھی آئی‘‘ اور عبدالخالق کی امی دوڑتی ہوئی آئیں اور کرتہ بشیر میاں کے حوالے کیا۔
عبدالخالق نے اپنے ابا سے پوچھا: ابو کہاں جارہے ہیں؟
بشیر میاں نے فرزند کوجواب دیا: ’’بیٹا تمہیں ممی نے نہیں بتایا کہ آج معراج کی رات ہے۔ اسی روز تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نمازیں فرض ہوئی ہیں۔ مطلب آپﷺ کو نمازوں کا تحفہ ملا ہے۔ اور آپﷺ کی امت پر 5 نمازیں فرض ہوئی ہیں۔ چلو تم بھی جلد تیار ہوجاؤ۔ ہم دونوں مل کرمسجد چلیں گے، نماز پڑھیں گے‘‘۔
اس دوران بیگم بشیر بھی کمرے میں واپس آگئیں۔
عبد الخالق نے اپنے معصوم انداز سے پوچھا: ’’ابو جب ہر روز 5 نمازیں ہم پر فرض ہیں تو ہم سب مسلمان پوری نمازیں کیوں نہیں پڑھتے؟
بشیر میاں نے سات سالہ عبدالخالق کی طرف دیکھا اور کچھ نہیں۔
عبدالخالق کہہ رہاتھا: ’’ میں نے آپ کو اور امی کو صرف رمضان اور کچھ خاص دنوں میں ہی نمازیں پڑھتے دیکھا ہے‘‘۔
اتنا سننا تھا کہ دونوں ماں باپ گویا چکراگئے۔ دونوں سوچ رہے تھے، شاید عبدالخالق ہم دونوں کا نگران بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے