تکبر، بدگمانی اورظلم تباہی کی پہچان ہے!

سہارنپور(احمد رضا): جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اللہ سے ڈرتے ہوئے اچھے کام کرنے کے ساتھ ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اللہ کی مقدس کتاب قرآن مجید پر ایمان لائے وہ بے خوف رہنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ رب العزت کےفرمانبردار ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےاحکامات کی پابندی کرنےوالےہیں پھر غور کریں بہلاانکوکیساخوف،جو کچھ بھی ملک کے بیشتر علاقوں میں بار ش کی شکل میں زمین پر نمودار ہو رہا ہے وہ صرف اور صرف ہماری بد گمانی ہمارے تکبر اور ہمارے جبر و ستم کا نتیجہ بھر ہے اگر ہم نے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہون کی معافی طلب کر تے ہوئے جھوٹ جبر اور تکبر کو نہی چھوڑا تو آگے آگے حالات مزید بد سے بد ترین صورت حال اختیار کر سکتے ہیں وہی خالق وہی ہمارا سب سے بڑا بادشاہ اور حاکم ہے سبھی اسکی سلطنت میں اسی کے تابع ہیں وہ جو چاہتا ہے کر گزر تا ہے وہ سبھی کو حکم دینے والا حاکم الحاکمین اور خالق کائنات ہے اس سے معافی طلب کر اسکو سجدہ کرو اور رحمت کی دعائیں مانگتے رہو!

عالم دین ریلوے اسٹیشن والی مسجد کے امام و خطیب قاری زبیر احمد نے حالات حاضرہ پر اپنے اہم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو قومیں  بد گما نی میں مبتلا ہو کر اپنی حیشیت بھول جاتی ہے وہ فنا کو پہنچ جایا کرتی ہے جو قوم مالک الملک کے احکامات اسکے ادب احترام یعنی کہ اپنی تہذیب، اپنے اوصاف،اپنی زبان اور اپنے بزرگوں کے نقش قدم اور اپنے ایمان کو بھلا کر غیروں کے ساتھ چلنے لگتی ہے اپنی بنیادی تہذیب پر قائم ودائم رہنا اور اکابرین کے راہ راست پر چلنا بھول جاتی ہے یقیناً وہ قوم ذلت کا شکار بنتی ہے تاریخ شاہد ہےکہ کم عقل،موقع پرست ، مفاد پرست، کمزور ایمان اور اچھے اوصاف والی قوم مفاد کے جال میں الجھ کر پست ہو جایا کرتی ہے اور بز دل ہوکر غلامی کی زندگی بہ آسانی قبول کر لیا کر تی ہے مسلم طبقہ کے موجودہ حالات اسی تاریخ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں آپ بہ غور دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ملت اسلامیہ روز بروز نئے نئے فتنوں سے نہ صرف یہ کہ دوچار ہے بلکہ ہمارے گرد و پیش فتنوں کا ایک سیلاب سا امڈ پڑا ہے روز بروز ہمارے لڑکے اور لڑکیاں مرتد ہو کر دین و ایمان سے دور ہو رہے ہیں، مسلم گھرانے انہتائی مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر نکل کر کام کاج کر رہی ہے اور بہ مجبوری لالچ میں آکر مذہب بدل رہی ہیں جوہم سب کے لئےبیحد شرمناک واقعات ہیں، سرکاری و غیر سرکاری رپورٹوں سے پتہ لگتا ہے کہ ملک بھرمیں ارتداد کا ایک طوفان برپا ہو رہا ہے ہم سبھی بہ خوبی جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک بڑی طاقت کام کررہی ہے ایسے پُر فتن اور خطر ناک حالات میں ملت کے باشعور افراد ، باوقار تنظیموں اور ملی جماعتوں کو اپنی غفلت سے بیدار ہوکر ملت کے نونہالوں کو اس لعنت سے بچا لینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے!

حالات حاضرہ پر اپنے ذاتی مشورہ پیشِ کر تے ہوئے عالم دین مولانا قاری زبیر احمد  نے کہا کہ وقت رہتے اگر ہم سبھی نے مل جل کر سنجیدگی کے ساتھ اس سازش کا مقابلہ نہیں کیا تو نسل نو کو تباہی سے بچا پنا بے حد مشکل ہو جائے گا وقت کا تقاضا ہے کہ جلد سے جلد عملی اقدام اٹھائے جائیں! قاری زبیر احمد  نے کہا ایک سچے پکے مسلمان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اپنے اور اپنی اولاد کے ایمان کا تحفظ ہے جو عملی زندگی اور احکام شریعت کی پیروی سے ہی ممکن ہے ہم نے بچوں کو صرف معاشرے وسماج کی بنیاد تو بنا دیا ہے مگر ان کے اندر اسلامی عقائد کی مضبوطی لانے اورصحیح عقیدہ  قائم ودائم کر نے اور بنانے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے ہیں جس وجہ سے آج کل بڑی تعداد میں ہمارے بچے اور بچیاں بآسانی فتنوں کا شکار ہو رہے ہیں، اگر ہم بچوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں عقائد اور دلائل دونوں یاد کروا دیں تو پھر وہی بچے راسخ العقیدہ ہونے کے ساتھ بروقت باطل نظریات اور پرآشوب فتنوںکا مقابلہ بھی کریں گے اور دشمنان اسلام کا منہ بھی بند کر سکتے ہیں!

عالم دین قاری زبیر  نے کہا کہ بلاشبہ کفر و شرک اور الحاد و دہریت ناقابل معافی جرم ہے اس کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا ، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا خاتمہ ایمان پر ہو اور اپنے بعد ایسی اولاد چھوڑ جائیں جن کے سینوں میں ایمان کی دولت پنہاں ہو ،دنیا سے جاتے ہوے افراد خانہ کے بارے میں پورااطمینان ہو کہ کفر کا کوئی طوفان ان کے ایمان کو نہیں بگاڑ سکے گا ، افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ آج مسلمانوں کے ایمان پر چوطرفہ حملہ کیا جارہا ہے ، اس کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ خاص طور پر مسلمانوں کی اولاد ایمان سے محروم ہو جائیں ، ان میں مادیت کا ایسا زہر بھر دیا جائے کہ ان کے خیال میں ایمان و عقائد اور آخرت کی کوئی اہمیت باقی نہ رہےشاید اسی کا نتیجہ ہے کہ ادھر چند مہینوں سے مسلسل مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی صدمہ انگیز خبریں بذریعہ سوشل میڈیا موصول ہورہی ہیں، دیکھا جارہا ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام والے اداروں میں زیر تعلیم بچیوںسے غیر مسلم لڑکوں کے روابط جب آہستہ آہستہ بڑھ کر عشق و محبت میں بدل جاتے ہیں تو یہ کمزورایمان والی بچیاں ان کے ساتھ بھاگ کر ان کے رسم و رواج کے مطابق شادیابھی کر لیتی ہیں ، ایسی صورتحا ل میں کیا انہیں ایمان جیسی عظیم ترین دولت کی محرومی سے بچانا ہم سب کی مکمل ذمہ داری نہیں ہوتی ہے؟

ہمارا ماننا ہے کہ ملی واسلامی رشتہ کی بنیا دپر اس ذمہ داری سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ارتداد کے طوفان کو روکا جائے اور اس فتنہ پرقابو پایا جائے تو ضروری ہے کہ پہلے ہم خود اسلام کے پکے اور سچے وفا دار بنیں اپنے نفس و ایمان کو مضبوط و مستحکم کریں اصلاح اور تقویٰ اپنے اندر پیدا کریں اپنے جسم اپنے خیالات اور نظریات کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منسلک کریں اس عمل کے بہتر اثرات مرتب ہوں گے،رفتہ رفتہ دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے ساتھ دین کی محبت بیٹھے گی اور شریعت پر جینے اور مرنے کا جذبہ پیدا ہوگاپھر ار تداد کے علاوہ دیگر فتنوں سے ہم بھی محفوظ رہیں گے اور آنے والی نسل بھی سلامت رہے گی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے