سہارنپور(احمد رضا):  ہندو مسلم اتحاد کو تباہ کر نے والا بھاجپا کا ہندو راشٹر بنا نے والا مشن اب صرف مسلم طبقہ کو جانی اور مالی نقصان پہنچا نے تک ہی سمٹ کر رہ گیا ہے بھاجپا جہاں جہاں بھی اقتدار میں ہے وہاں وہاں مسلم طبقہ کے افراد پر جس طرح سے جبر اور ظلم ڈھا یا گیا ہے وہ کسی بھی چھپا نہیں ہے یہ جماعت کسی بھی حد تک جا کر صرف اور صرف اقتدار پر قابض ہو نا چاہتی ہے اسکے لئے عوام کی بہتری اور سلامتی کوئی معنے نہی رکھتی ہے! سال 2024 کے انتخابات سے پہلے مسلم افراد پر ظلم اور ستم میں اضافہ کے ساتھ ساتھ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) پر سرکار نے ہر سمت سے بحث تیز کر دی جہاں ہے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں مسلم طبقہ کے افراد پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور انکے گھروں اور تجارتی مراکز کو ڈ ی جے بجا کر کچھہ ہی وقت میں زمین دوز کر دیا جاتاہے اور اہل خانہ کے خلاف فرضی مقدمات بھی عائد کر دئے جاتے ہیں یعنی کوئی قائد قانون یا عدالتی نظم و نسق نہی صرفِ فرعونیت کے بل بوتے پر مسلم افراد کو برباد کر دیا جاتاہے یہ سبھی غیر قانونی حرکات صرف اور صرف ہندو شدت پسند افراد کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بھر ہے کیونکہ جب تک بھاجپا مسلم طبقہ کو نو چتی اور پیٹتی رہے گی تب تک ہی اقتدار پر قابض رہے گی اگر مسلم طبقہ کے خلاف جبر اور ستم یا زہر گھولنا بند کر دیا گیا تو بھاجپا قائدین کا آکسیجن خد بہ خد ختم ہو جائیگا اور بھاجپا مردہ جاں ہوکر رہ جائیگی مدھیہ پردیش کے اجین شہر میں  تین روز قبل مسلم افراد کے تین مکانات بلاوجہ ہی بلڈو ز کردئیے گئے پورا ملک تماشائی بنا رہا کوئی بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں دکھا سکا  قدرت کا کرشمہ دیکھئے کل ہی منی پور کی بھاجپا قیادت کی بے شرمی اور نکمے پن کا ایک دردناک ویڈیو اچانک سامنے آیا اور وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ پورا ملک ہی دہل اٹھا قدرت کا انصاف   ٹھیک اسی طرح سے اچانک کسی بھی شکل صورت میں سامنے آجاتا ہے اور سب کچھ ہوا میں اڈ جایا کرتا ہے ،اسی طرح یو سی سی اس کو لے کر  بھی ان دنوں کافی شور شرابہ ہو رہا ہے۔ ایک سازش کے تحت اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بننے جا رہی ہے جہاں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اس کا اعلان کیا ہے اب اتراکھنڈ میں لاگو ہونے والے یونیفارم سول کوڈ کے حوالے سے کچھ باتیں سامنے آئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت کیا ہوگا اور خلاف ورزی پر کون سے حقوق چھین لیے جائیں گے سامنے آئی معلومات کے مطابق آبادی کنٹرول کو یکساں سول کوڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے جو اتراکھنڈ میں لاگو ہونے جا رہا ہے اسے کنکرنٹ لسٹ کے اندراج 20A کی بنیاد پر شامل کیا جا رہا ہے۔ آبادی پر قابو پانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی بھی اس میں شامل ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ذمہ دار والدین بل 2018 کی طرز پر یکساں سول کوڈ میں شامل کیا جائے گا آپکو بتادیں کہ یہ قانون لاگو ہو جانے کے بعد آپ سبھی کے یہ حقوق چھین لیے جائیں گے۔

اس قانون کے تحت جو دفعات سامنے آئی ہیں وہ بہت سخت ہیں اس بل کے تحت دو بچوں کے اصول کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جائے گا اس کے علاوہ سرکاری سہولیات کا حق بھی چھینا جا سکتا ہےیہ سب اسلئے کیا جا رہا ہے تاکہ بھا جپا ہندو شدت پسند افراد کو خوش کر سکے جبکہ اس قانون کے نفاذ کے بعد سب سے بڑی آفت انہی شدت پسند افراد پر ٹو ٹیگی یہ سبھی کھلی آنکھوں سے دیکھ تے رہنا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے