سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ حق پسند اور مظلوم عوام کے اعتماد کیلئے راحت بخش! سید نظام الدین
سہارنپور(احمد رضا): آل انڈیا کانگرس کمیٹی کے سیکرٹری اور راجستھان الیکشن کمیٹی کے نائب انچارج منگلور کے سابق ایم ایل اے قاضی سید نظام الدین نے سپریم کورٹ کے ذریعے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی سزا پر  روک لگاتے ہوئے انکی لوک سبھا ممبر شپ کو بحال کئے جانے کے اہم فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستانی ائین, ہندوستانی عوام اور پورے ملک کے انصاف پسند افراد کی  تاریخی فتح ہے ملک آج بھی اپنے آئین کی خاطر سچ اور ایمانداری کو سینے سے لگائے ہوئے پوری دنیا کو حق و صداقت پر قائم ودائم رہنے کی لاثانی نظیر پیشِ کر رہا ہے یہی ہمارے ملک کی عظیم الشان  آئینی اور جمہوری روایت ہے!
  کانگریسی رہنما  سابق ممبر اسمبلی سید قاضی نظام الدین نے  کہا کہ بی جے پی ہمیشہ نفرت کی سیاست کرتی ہے اور یہی نہیں اس نے اپنی انتہا پسندی کے سبب ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کر دیا ہے پوری  ہریانہ ریاست میں گزشتہ پانچ دنوں سے جو کچھ بھی ہورہاہے وہ اسی نفرت کی زندہ جاوید شرمناک مثال ہے  بجرنگی غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے مسلم طبقہ کے افراد کے گھروں اور تجارتی مراکز کو بلڈوز لگاکر مسمّار کیا جا رہا ہے بجرنگی غنڈوں کی حفاظت کے لئے ہریانہ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے مسلم طبقہ کے افراد کا ہی سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان پہنچا یا گیا اب انہی کو جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے کل ملاکر ایک طرف مسلم مخالف ایکشن پلان جاری ہے بھارت جوڈو  یاترا کے دوران ہمارے قائد راہل گاندھی نے اسی ظلم اور نفرت کے خلاف علم بلند کر تے ہوئے ہندوستان کو محبت کا پیغام دیا ہے!
قاضی نظام الدین نے کہا کہ راہل گاندھی پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہر ایک سچا ہندوستانی خوش ہےاس قابل احترام فیصلہ سے نفرت اور  جھوٹ کے منھ پر حق و صداقت کا تما نچہ لگا ہے سچ اور محبت ہمیشہ فتح یاب ہو گی جھوت اور نفرت کا منھ کالا ہو کر رہگا انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ائین دنیا کا واحد ائین ہے جو سچائی اور ایمانداری پر یقین رکھتا ہے اور مہاتما گاندھی بابا صاحب امبیڈکر ، پنڈت نہرو اور مولا نا ابوالکلام آزاد کے اصولوں سے بنائے ہوئے اس ائین کو لوگ احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی  لازوال نظیر آج عدالت عالیہ کے فیصلہ میں دیکھنے کو ملی ہے،
  ملی رہبر قاضی نظام الدین نے کہا کے وزیراعظم نریندر مودی اور اور بی جے پی راہل گاندھی کی شخصیت سے خوفزدہ ہیں کیونکہ ہندوستانی عوام نے  راہل گاندھی کو اپنا لیڈر اور دستور ہند کی شناخت سبھی کو ساتھ ملا کر چلنے والی سیاسی جماعت انڈیا کو اپنی منزل مقصود تسلیم کر لیا ہے اور دل سے اپنا مان لیا ہے!
      سابق ریاستی  وزیر کابینہ مرحوم الحاج قاضی معین الدین کے گھرانہ کے چشم وچراغ،ایماندارانہ اور مخلصانہ سو چ و فکر کے علمبردار قاضی نظام الدین نے کہا کہ 2024 میں  بحکم خدا تعالیٰ انڈیا جو  ملک کی سبھی  مہذب اور عوام دوست سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ محاذ ہے  اسی اصل انڈیا کی حکومت بنے گی اور نفرت کی کھیتی کرنے والی بی جے پی ( این ڈی اے) کا  کلی صفایا ہو جائے گا قاضی نظام الدین نے کہا کہ نوح اور منی پور میں جان بوجھ کر نفرت پھیلانے اور امن پسند کمزور عوام کو  نیست و نابود کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کا الیکشن پر اثر پڑے ہندو شدت پسند خوش رہیں اور بھاجپا چناؤ میں اس نفرت کا فائدہ اٹھا سکے لیکن 2024 میں ہندوستان کے عوام اب کسی جھانسے میں نہیں آ ئیں گےملک اور دستورِ ہند کی شناخت قائم ودائم رکھنے کے لئے عوام انڈیا کے حق میں ہی ووٹ دیں گے ! آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے