ڈاکٹرسراج الدین ندوی
زبان اظہار بیان کا ذریعہ ہے ۔کسی زبان کو کسی زبان پر فوقیت اور برتری حاصل نہیں ہے ۔کوئی زبان ایسی نہیں ہے جسے اللہ نہ سمجھتا ہو ۔اس لیے یہ کہنا کہ فلاں زبان خدا کی زبان ہے ایک لغو بات ہے ۔البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں جس زبان میں نازل کیں وہ زبان اس کتاب کی مذہبی زبان بن گئی ۔جس نے وہ مذہب اپنایا اس کے لیے اس زبان سے عقیدت و محبت پیدا ہوگئی ۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دوسری زبانوں کی اہمیت ختم ہوگئی ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم انسان بہت تنگ دل واقع ہوئے ہیں ۔اپنے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتے ۔بلکہ غیر وں کو دھول چٹانے اور مٹانے کے بارے سوچتے رہتے ہیں ۔جب کہ ہم تاریخ کے مطالعہ سے یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی کسی کو مٹانہیں سکتا ۔اردو زبان میں کوئی دھرم گرنتھ نہیں آیا ۔یہ کسی پیغمبر اور رسول کی زبان نہیں ہے ۔اس کے باوجود اس کو مٹانے کی سازشیں ہمیشہ کی جاتی رہیں،صرف اس لیے کہ یہ مسلمانوں کی طرف منسوب ہے ۔ہمارے ملک کی اکثریت کے ذہنوں میں اس زبان کے تعلق سے بدگمانیاں پیدا کی گئیں ۔گزشتہ سو سال سے یہ زبان ہر طرح  کے ظلم و تعصب کا شکار رہی ۔لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟کیا یہ زبان ختم ہوگئی ؟ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں اس کو سرکاری دفتروں سے نکال دیا گیا ۔اس کے ذریعہ سے ملنے والی سرکاری ملازمتیں ختم کردی گئیں ۔لیکن دنیا کے دوسرے ممالک میں اس کو فروغ حاصل ہورہا ہے ۔دنیا کے ہر ملک میں اس کو بولنے ،لکھنے اور سمجھنے والے دستیاب ہیں ،کیا یہ اس کے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں ہے ۔ملک میں اس کے فروغ و اشاعت و استحکام کے لیے اردو سے محبت کا دم بھرنے والوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔
پہلی بات یہ ہے کہ اردو زبان کا فروغ محض ایک زبان کا فروغ نہیں ہے بلکہ ہندوستانی تہذیب وثقافت اور کلچر کا فروغ ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ ایک تاریخ کا عنوان ہے۔ اردو دراصل سامراجی استعمار سے آزادی کا نام ہے۔ اردو ہندوستانی تاریخ میں’’انقلاب‘‘ سے استعارہ ہے۔ اردو زبان حلاوت وشیرینی کا سرچشمہ ہے۔ اردو سلیقہ مندی اور وفاشعاری کا مآخذ ہے ۔ بقول شاعر:
میں اردو کا مسافر ہوں یہی پہچان ہے میری
جہاں سے بھی گزرتا ہوں سلیقہ چھوڑ جاتا ہوں
اردو ہندوستان کی اپنی زبان ہے۔ بھارت ہی اس کا اصل وطن اور مسکن ہے۔یہیں پر اس نے جنم لیا۔یہیں پرہمالیہ کی آغوش میں یہ پروان چڑھی، یہیں کی فضائوں میں اس نے سانس لیا۔ بھارت کی مٹی ہی اس کی غذا بنی۔ یہ گنگا اور جمنا کے آب رواں سے سیراب ہوئی۔
یاد رکھیے زبان کسی مذہب اور قوم سے واسطہ نہیں رکھتی، جو جس زبان کو بولتا ہے وہی زبان اس کی اپنی زبان کہلاتی ہے۔ کوئی بھی زبان اظہار مافی الضمیر کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اردو مہاتماگاندھی کی زبان بھی تھی اور ابوالکلام آزاد کی بھی ،شہید بھگت سنگھ بھی اردو زبان بولتے تھے اور سید اشفاق اللہ بھی۔ اردو حقیقت میں تمام ہندوستانیوں کی مشترک زبان ہے۔ہر انصاف پسند شخص اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اردو نے ہمارے ملک کے اتحاد وسالمیت اور بقا میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس زبان میں حالیؔ،اکبرؔ،نظیرؔ، آنند نرائن ملاّؔ، چکبست، رام پرشاد بسملؔ نے قومی گیت گائے۔ اسی زبان میں جگن ناتھ آزادؔاور گوپی چند نارنگ نے اتحاد وسالمیت پر کتابیں لکھیں۔
اس بدیہی حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اردو زبان نے ہندوستان کی جنگِ آزادی میں اہم رول ادا کیا۔ اردو زبان کا نعرہ ’’انقلاب زندہ آباد‘‘ ہر بچے، بوڑھے اور جوان کی زبان پر تھا۔ اور ہندوستان کی گلی گلی، کوچے کوچے میں گونج رہا تھا۔جب یہ نعرہ جذبۂ آزادی سے معمور اور پرجوش لہجہ میں کسی ہندوستانی کی زبان سے ادا ہوتا تھاتو سامراجی طاقت تھرتھرانے لگتی تھی اور انگریزوں کو اپنی حکومت ڈگمگاتی ہوئی محسوس ہونے لگتی تھی۔
جب مجاہدینِ آزادی رام پرشاد بسملؔ کا یہ شعر گنگناتے    ؎
سرفروشی کی تمنّا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
 تو انگریز پرلرزہ طاری ہوجاتا ۔ آج بھی کوئی انجمن ، کوئی بزم، کوئی تقریب شاید ایسی نہ ملے جس کی فضائوں میں علامہ اقبال ؒکے اس قومی ترانے کی گونج نہ سنائی دیتی ہو۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
اردو زبان کے فروغ ، ترقی وتحفظ اور بقا کے لیے ضروری ہے کہ یہ غلط فہمی دور کی جائے کہ یہ زبان صرف مسلمانوں کی ہے اور مسلمانوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ان کی قومی زبان نہیں ہے بلکہ یہ تمام ہندوستانیوں کی زبان ہے۔ چنانچہ آج بھی اردو ہندوستان کے ہرخطہ اور ہر صوبہ میں بولی جاتی ہے۔یہ کسی مخصوص علاقہ، برادری، قوم یا نسل کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کا دامن بڑا کشادہ ہے اور اس کا دل بہت بڑا ہے۔ اس میں ریشم جیسی نرمی اور شاخِ تر جیسی لچک ہے۔ چنانچہ یہ ہر ہندوستانی کی زبان ہے۔ اردو کی خاص بات یہ ہے کہ دوسری زبان کے الفاظ ومحاورات کو اپنے اندر سمولیتی ہے ۔اردو زبان کے فروغ کے سلسلہ میں ہمارے سماج کو اس لیے بھی کوشاں رہنا چاہیے کہ اردو سے تلفظ درست ہوتا ہے اور گفتگو میں شیرینی اور اثر پذیری پیدا ہوتی ہے۔ اس سے آداب گفتگو میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ کی نشست وبرخاست سنگیت کا سماں پیدا کرتی ہے۔ اس کے اشعار دل کے تاروں کو چھیڑ کر انسان کو من کی دنیا میں مست کردیتے ہیں۔
جب کوئی اردو میں گفتگو کرتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے اس کی زبان سے پھول بکھررہے ہیں اور کانوں میں رس گھل رہا ہے۔بقول شاعر:
تم جو اردو بولو ہو
کانوں میں رس گھولو ہو
اردو کے فروغ کے لیے ہماری سماجی ذمہ داری ہے کہ ہر اردو خواں اردو کو اپنے گھر ،محلہ اور گردوپیش کی زبان بنائے، اپنے گھر اردو کا اخبار منگائے، اردو رسائل اور کتابیں خرید کر لائے۔بہتر ہے ہر گھر میں ایک لائبریری ہو جس میں اردو کی منتخب کتابیں ہوں۔
ایک اہم اور ضروری اقدام یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اردو سے وابستہ کریں۔ انہیں اردو پڑھائیں، انہیں اردو کہانیاں اور لطیفے سنائیں۔ اردو نظمیں اور ترانے یاد کرائیں، ان سے اردو میں پہیلیاں بوجھیں۔
یہ بات تحقیق کو پہنچ چکی ہے اور ماہرین تعلیم کا بھی یہ ماننا ہے کہ بچوں کی ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان میں ہونی چاہیے، اس سے بچہ کی خوابیدہ صلاحیتیں جلد بروئے کار آتی ہیں۔ بچوں کی دلچسپی بڑھتی ہے۔ وہ تعلیم کو ایک بوجھ نہ سمجھ کر اس کو ایک دلچسپ مشغلہ سمجھتے ہیں۔ اگر بچوں کو تعلیم غیر مادری زبان میں دی جائے تو وہ اس کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس لیے جن بچوں کی مادری زبان اردو ہے ان کو ابتدائی تعلیم اردو میڈیم سے دی جائے۔
اردو کے فروغ کے سلسلہ میں ہماری حکومتوں نے بہت سی اسکیمیں جاری کی ہیں۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ وابستگان اردو ان اسکیموں سے بھرپور استفادہ کریں۔
ہماری سماجی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے مکانوں، دکانوں، دفتروں کے سائن بورڈ ہندی اور انگلش کے ساتھ اردو میں بھی تیار کرائیں۔ مختلف تقاریب کے دعوت نامے اور وزیٹنگ کارڈ بھی اردو میں بنوائیں۔
ایک مؤثر کام یہ بھی کیا جانا چاہیے کہ ہر اردو خواں اپنے گردوپیش کے دس افراد کو اردو پڑھانے کا نظم کرے خاص طور پر طلبہ وطالبات کو فوکس کیا جائے۔
اردو اسکولوں اور مدارس کے ذمہ داران اپنے اداروں کی بیرونی دیوار پر ایک بورڈ بنوائیں اور اس پر روزانہ اردو میں ’’اقوال زریں‘‘ لکھوانے کا اہتمام کریں۔ اس سلسلے میں ’’وال پینٹنگ‘‘کی مہم بھی چلائی جاسکتی ہے۔
ہماری یہ بھی سماجی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم خواتین کو نظر انداز نہ کریں، انہیں اردو ضرور پڑھائیں اور گھروں میں اردو بولنے کا ماحول بنائیں کیوں کہ خواتین کی گود میں نئی نسل پروان چڑھتی ہے۔ اگر خواتین اردو بولیں گی تو لازماً ان کے بچے اردو بولیں گے۔
اردو کے ماہرین جب اپنے خیالات کا اظہار کریں خواہ تحریری ہو یا تقریری تو اردو ہی کو ذریعہ اظہار مافی الضمیر بنائیں۔ مضامین، تبصرے، تجزیے اردو ہی میں لکھیں اور تقریریں اردو ہی میں کریں۔
اردو کو روز مرّہ کی زبان بنانے کا اہتمام کیا جائے۔ اردو زبان ہی میں گفتگو کی جائے کیوں کہ جو زبان بولی جاتی ہے وہ زندہ رہتی ہے۔ جس زبان کا رشتہ سماج اور عملی زندگی سے کٹ جاتا ہے تو وہ زبان اس علاقہ میں مردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے